Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • FWO چترال میں 506 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے منصوبوں پرکام کررہی ہے..سی ایم کوبریفنگ

    January 11, 2019 at 11:20 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے زیرتعمیر سوات موٹر وے منصوبے کی ٹائم لائن کے اندر تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے منصوبے کے دوسرے سنگ میل کاٹلنگ سے چکدرہ کے درمیان تعمیری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں دور کرکے ایف ڈبلیواو کو سہولت فراہم کرنے اور سروس ایریا کیلئے درکار اراضی کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے ہر دس سے پندرہ کلو میٹر کے بعد مسافروں کیلئے واش روم اور دیگر سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔انہوں نے سی پیک سٹی نوشہرہ کیلئے دو مقامات پر درپیش اراضی کا مسئلہ حل کرنے جبکہ صوبے میں سیاحتی مقاصد کیلئے سڑکو ں کی تعمیر کی سکیم کے تحت ترجیحات پر مبنی پلان بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیربرائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، ایس ایس یو کے سربراہ صاحب زادہ سعید ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فرنتیئر ورکس آرگنائزیشن خیبرپختونخوا بشمول سابق فاٹا میں مجموعی طور پر 23 منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن کی لاگت تقریباً 243 ارب روپے ہے ۔ سوات موٹروے کے حوالے سے بریف کرتے ہوئے اجلاس کو یقین دلایا گیا کہ ٹائم لائن کے اندر منصوبے کی تکمیل کیلئے زور و شور سے کام جاری ہے، منصوبے کے پہلے سنگ میل کرنل شیرخان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے، ٹولنگ جنوری سے شروع ہے ، روزانہ کی بنیاد پر 3000 سے زائد گاڑیاں ٹریول کرتی ہیں۔ آئندہ دو ماہ میں پلائی تک کام مکمل ہوجائے گا ۔ منصوبے کے دوسرے سنگ میل کاٹلنگ سے چکدرہ تک بھی فل فلیج کام شروع ہے، 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، اس سنگ میل میں 12 پُل بھی ہیں جبکہ دو اضافی ٹنل بھی شامل کی گئی ہیں جن پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے دوسرے سنگ میل میں حساس ترین مقام پر ایک متبادل ڈائیورژن بھی تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ بوقت ضرورت اسے بھی استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے تعمیراتی کام میں حائل رکاوٹوں خصوصاً مکانات اور دیگر یوٹیلیٹیز فوری طور پر دور کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تعمیر کیلئے استعمال میں آنے والی منسلک سڑکوں کی بحالی بھی ایف ڈبلیو او کر رہی ہے ۔ڈی جی سے اس کی باضابطہ منظوری بھی لی جا چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او نوشہرہ میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل سی پیک سٹی منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، زمین مالکان کو ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہے تاہم دو موضعوں میں اراضی کا مسئلہ درپیش ہے وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں عدالتی کیسز کو اچھے طریقے سے پرسو کرنے جبکہ دیگر انتظامی مسائل خود حل کرنے کی ہدایت کی۔نوشہرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر فنڈز بروقت فراہم کئے جائیں توآئندہ جون تک مکمل کیا جا سکتا ہے۔ کالج میں مجموعی طور پر 600 طلبہ کی استعداد ہے ،70 فیصد کام ہوچکا ہے ۔ دریا ئے کابل پر پُل بن چکا ہے جبکہ دونوں اطراف میں پُل تک رسائی کیلئے سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی بھی شروع ہے ، اپریل کے آخر تک یہ کام بھی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ دونوں منصوبوں کی تکمیل کیلئے مسائل حل کرنے جبکہ ریگی ماڈل ٹاؤن اور دیگر منصوبوں کی مد میں ایف ڈبلیو او کے بقایا جات کی ادائیگی کا یقین دلایا ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او چند نئے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے جن میں چکدرہ سے منگورہ تک سوات موٹروے کی توسیع اہمیت کی حامل ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں سیاحت کے مقاصد کیلئے مجموعی طور پر 283 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی ہے وزیراعلیٰ نے اس سلسے میں ترجیحات کا تعین کرنے اور قابل عمل پلان وضع کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی اسکے علاوہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے نئے بلاکس کی تعمیر کا منصو بہ بھی ہے یہ تین سال کا منصوبہ ہے جس کا ماسٹر پلان تیار کیا جا چکا ہے۔ دھمتوڑ سے حویلیاں روڈ کیلئے بھی وسائل کی منظوری ہو چکی ہے۔ اجلاس نے آئندہ سیزن تک اس روڈ کو مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایف ڈبلیواو ھری پور میں سیمنٹ پلانٹ کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے تاہم زمین مالکان کی طرف سے اراضی کے سلسلے میں مسائل درپیش ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے پر بنیادی نوعیت کی منصوبہ بندی کیلئے ایف ڈبلیو او کو سائٹ تک رسائی دلانے کیلئے مقامی انتظامیہ کو تعاون کرنے کی ہدایت کی جبکہ عدالت میں زیرسماعت کیسز کو مناسب طریقے سے پرسو کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او چترال میں 506 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے تین منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔منصوبوں پر فیزیبلیٹی سٹڈی کی ریویژن شروع ہے ۔ ایف ڈبلیو او کے حکام نے بتایا کہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن چترال کوریڈور پر کام کیلئے بھی تیار ہیں مگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے کچھ مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی طرف سے ٹی او آرز آنے کے بعد مسئلے کو مضبوط انداز میں پرسو کرینگے یہ نہایت اہم منصوبہ ہے کیونکہ چترال میں ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر آئل ریفائنری کرک کیلئے ٹائم لائن دو ہفتون کے اندر پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

    ………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………..

    وزیراعظم پاکستان عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ملاقات

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعظم پاکستان عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں صوبائی حکومت کی کارکردگی ، صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں خصو صاً بس رپیڈٹرانزٹ پراجیکٹ اور دیگر فلیگ شپ منصوبوں کی تکمیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے عوامی مفاد میں بی آر ٹی کی تیز رفتار تکمیل کی ضرورت پر زور دیا ۔ ملاقات میں عوامی فلاح کیلئے اُٹھائے جانے والے اہم اقدامات خصوصاً شیلٹرز ہومز پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے شیلٹر ہومز میں تمام سہولیات مہیا کرنے اور وزیراعلیٰ کو شیلٹرز ہومز کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت کے مطابق دیگر علاقوں میں بھی شیلٹر ہومز قائم کئے جائیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی تنظیم سازی ، صوبائی کابینہ میں توسیع سمیت دیگر اہم اُمور پربھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کو صوبائی حکومت کی کارکردگی ، ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیشرفت ، عوام الناس کی بہتری اور فلاح کیلئے منصوبہ بندی اور اُٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی و فلاحی کاموں کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع کے عوام کی خوشحالی اس وقت صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ۔ تمام محکموں کو اس سلسلے میں مستعد کیا گیا ہے اور وزیر اعظم کے ساتھ اس سلسلے میں سابقہ اجلاس کی روشنی میں واضح اہداف دیئے گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے اضلاع کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہے ہیں انہوں نے ایک طویل جنگ کا سامنا کیا ہے ۔ اُن کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل شفاف انداز میں بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جبکہ دیگر تمام شعبوں کیلئے ترقیاتی پلان پر پیش رفت بھی تیزی سے جاری ہے ۔ گزشتہ روز اجلاس میں اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی فوری تعیناتی یقینی بنا کر اداروں کو فعال بنانے اور ادویات کی فراہمی کی ہدایت کی جا چکی ہے ۔ نئے اضلاع میں ڈاکٹرز کو پرکشش پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ شعبہ تعلیم میں 2500 آسامیاں مشتہر کی جا چکی ہیں۔سات نئے اضلاع میں اکاونٹ فوربنا دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ نئے اضلاع میں انتخابات کیلئے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ صوبے کے ہر محکمے سے نئے اضلاع کے حوالے سے اپنی ضروریات کا مکمل پلان طلب کیا گیا ہے تاکہ ہم کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دے سکیں۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ نئے اضلاع کا پیسہ اُنہی اضلاع کے عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ ہو گا۔ اس سلسلے میں فول پروف میکنزم بنا یا گیا ہے ۔ تعلیم اور صحت کے اداروں کی کارکردگی یقینی بنانے کیلئے آزاد مانیٹرنگ یونٹس کو توسیع دی جا چکی ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نئے اضلاع کے نوجوانوں کی ضروریات سے بھی غافل نہیں ۔ نئے اضلاع کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے اور اُن کو ترقی کے مواقع دینے کیلئے بھی قابل عمل پلان موجود ہے ۔ ماہ فروری 2019 سے تمام نئے اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ ثقافتی اور آرکیالوجی سرگرمیاں شروع کرنے کا بھی پلان بنا لیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم کے اعلان اور خواہش کے مطابق نئے اضلاع میں تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان یقینی بنائے جائیں گے ۔ہسپتالوں ، مساجد اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کی منظور ی بھی دی جا چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر دس دن کے بعد ضم شدہ اضلاع میں کام پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ………………………………………………………………………………………………………………………………….

    وزیر اعلیٰ‌کی صوبے کے تین سپیشل اکنامک زونز میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو کاروباردوست آئیڈیل ماحول فراہم کرنے کا یقین
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے تین سپیشل اکنامک زونز میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو کاروباردوست آئیڈیل ماحول فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے تشکیل دی گئی پالیسی اور قانون پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کیا جائے گا مذکورہ تینوں زونز میں تمام منصوبے ماحول دوست ہونے چاہئیں ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاو رمیں ڈنمارک کے سفیر Rolf Holmboe سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر فاطمہ گروپ کی طرف سے پریزینٹیشن بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ ڈنمارک اور فاطمہ گروپ باہمی اشتراک سے ہری پور اور ڈی آئی خان کے سیمنٹ منصوبوں میں 300 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیرعلیٰ محمد اسرار ، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور فاطمہ گروپ کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ فاطمہ گروپ ہری پور اور ڈی آئی خان میں سمینٹ پلانٹس کے قیام کیلئے میجر سٹیک ہولڈر ، اونراور ڈویلپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دونوں پلانٹس سٹیٹ آف آرٹ ہوں گے اور ماحول دوست بھی ہوں گے ۔ یہ منصوبے پورے خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ا ن منصوبوں کی وجہ سے بالواسطہ اور بلاواسطہ 2500 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ان منصوبوں کے قیام سے منصوبوں کے احاطے میں سکولوں ، فنی تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کے قیام اور اپ گریڈیشن میں بھی معاونت ملے گی ۔ اجلاس کے شرکاء کو فاطمہ گروپ کی معاونت اور ڈنمارک حکومت کی مہارت کے بارے میں بریفینگ بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ڈنمارک کے سفیر کو خوش آمدید کہا اور سرمایہ کاری کیلئے ہر ممکن سہولت کا یقین دلایا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سیمنٹ کے مذکورہ منصوبوں کا اچھے طریقے سے اجراء یقینی بنانے کیلئے تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ حال ہی میں رشکئی سپیشل اکنامک زون کیلئے ایک چینی کمپنی سی آر بی سی کے ساتھ اجلاس بھی ہوچکا ہے اور متعلقہ حکام کو تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ منصوبے کے معیار اور ٹائم لائن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔رشکئی سپیشل اکنامک زون سے بھی 50 ہزار براہ راست جبکہ لاکھوں بلاواسطہ نوکریاں پیدا ہوں گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ امر قابل تحسین ہے کہ اس صوبے میں سب سے بڑا سمینٹ پلانٹ ہو گا جو مکمل طور پر ماحول دوست اور نفع بخش ہو گا۔ انہوں نے منصوبے کیلئے متعلقہ قانون کے تحت مکمل شفافیت اور میرٹ پر فیصلہ سازی کا یقین دلایا ۔محمود خان نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی سوچ کا بدلنا اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاروں کا اس صوبے کی طرف رخ کرنا بلاشبہ حوصلہ افزاء ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج سرکاری شعبے کا رویہ بھی ماضی سے مختلف ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کو سہولیات دی جارہی ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو تیز رفتار پراسس کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ سپیشل اکنامک زونز میں انڈسٹریل کلسٹر ز کیلئے وسیع گنجائش موجود ہو گی۔ انہوں نے سیکرٹری صنعت کو ہدایت کی کہ وہ فاطمہ گروپ کے ساتھ اجلاس کرلیں ۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فوری طور پر دور کریں ۔ انہوں نے مائنگ لیز سے متعلق مسائل اور EPA کی طرف سے این او سی کا مسئلہ بھی جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔ محمود خان نے کہاکہ سی پیک کے تناظر میں خیبرپختونخوا تجارت اور صنعت کا حب بننے جارہا ہے ۔ انہوں نے صوبے میں تیز رفتار صنعتکاری کے تناظر میں چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کی سطح بلند کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی حکومت نے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو مثالی مراعات دی ہیں۔ تیز رفتار صنعتکاری کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، معیشت مضبوط ہو گی اور صوبے کی مجموعی خوشحالی کا راستہ ہموار ہو گا۔

  • error: Content is protected !!