Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیر اعلیٰ کی تمام اضلا ع میں کارکردگی کا مکمل ڈیٹا ہر پندرہ دن کے بعد پیش کرنے کی ہدایت

    January 9, 2019 at 9:02 pm

    پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (پی ایم آر یو) کی کارکردگی خصوصاً یونٹ کے تحت سٹیزن پورٹل، ریونیو کیس مینجمنٹ ، ٹاسک مینجمنٹ سسٹم ، کھلی کچہری اور دیگر اُمور کو سراہا ہے۔انہوں نے فائل ٹریکنگ سسٹم کڑی نگرانی کرنے اور صوبے کے تمام اضلا ع میں کارکردگی کا مکمل ڈیٹا ہر پندرہ دن کے بعد پیش کرنے کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ آئندہ کیلئے تبادلے اور تعیناتیاں کارکردگی کی بنیاد پر کی جائیں گی ۔ اداروں کی کارکردگی جانچنا ، جوابدہی کے سسٹم کا ہونا، بہتر حکمرانی کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے۔ہماری خواہش اور وژن ہے کہ حکومتی اُمور میں شفافیت نظر آئے اور ادارے اپنے اہداف کے حصول میں مکمل طو رپر متحرک ہوں۔ اس مجموعی عمل میں پی ایم آر یو کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (پی ایم آر یو) سول سیکرٹریٹ پشاور کے اچانک دورہ کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ کو پی ایم آر یو کے قیام کے مقاصد ، اس کے سسٹم اور کارکردگی پرتفصیلی بریفینگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس یونٹ کے مقاصد یقیناًاہم اور بنیادی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ایم آر یو کے قیام کا بنیادی مقصد حکومتی اُمور میں پیشہ وارانہ حکمت اختیار کرنا، شفافیت اور خدمات کے شعبوں میں فعالیت لانا تھا۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ بہتر حکمرانی کی طرف یہ سب سے پہلا قدم ہے ۔ اس طرح کے تصورات ترقیافتہ اقوام اسلئے متعارف کراتی ہیں کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والی سرکاری مشینری اور اُس کے پرزے یعنی سرکاری اہلکار مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔اُنہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمات کے سلسلے میں اداروں کو دیئے گئے اہداف پر مسلسل چیک اینڈ بیلنس ہو اور اس کے نتیجے میں عوامی فلاح کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات شفاف طریقے سے نظر بھی آئیں۔ حکمرانی کی ہر سطح پر ذمہ داران اپنے اہداف کے حصول کیلئے مستعد رہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بنیادی طور پر پی ایم آر یو جیسے یونٹس کے قیام کے پیچھے دو قسم کے مقاصد ہو سکتے ہیں۔ پہلا مقصد حکومتی اقدامات کی عملی پیش رفت کو مانیٹر کرنا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس ادارے میں خدمات کی فراہمی کی شرح کیا رہی، کتنے لوگ مستفید ہوئے ، کتنے لوگوں کے مسائل حل ہوئے اور کسی اقدام کا مجموعی طور پر نتیجہ اور ماحاصل کتنا رہا۔ یہ ساری چیزیں کسی بھی ادارے کی فزیکل پراگرس سے تعلق رکھتی ہیں۔ اداروں کی کارکردگی جانچنے کا دوسرا طریقہ اور ہمارا اہم مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت حکومت کے بارے میں عوام کی سوچ میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ۔لوگوں میں اطمینان کی سطح کیا ہے۔ مطلب یہ کہ عوام کو پتہ چلنا چاہیئے کہ ادارے کام کر رہے ہیں اور ان کو مانیٹر بھی کیا جارہا ہے ۔ مسائل کا سدباب ہو رہا ہے ۔ اصلاح کا عمل جاری ہے ۔ تب جا کر اہداف کا حصول ممکن ہو تا ہے ۔انہوں نے شفافیت کے فروغ کیلئے یونٹ کی کاوشوں کو سراہا اور کہاکہ اختیارات کا کارآمد استعمال اُسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے بنیادی محرکات پر نظر ہو ۔ہم اپنے اختیار کو حقیقی معنوں میں اختیار سمجھیں اور اس اختیار کے ملنے کے مقصد کا ادراک رکھتے ہوں ۔ ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے میرٹ پر فیصلہ کریں ۔ اور دوسرا اہم محرک یہ ہے کہ ہم عوامی فلاح و بہبود کیلئے خود کو جوابدہ سمجھیں تاکہ اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو سکے ۔میں سمجھتا ہوں کہ پی ایم آر یو اس کلچر کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور کر رہا ہے جو خوش آئند ہے ۔وزیراعلیٰ نے ای گورننس کے فروغ کیلئے اس یونٹ کے عملی اقدامات کو بھی سراہااور کہاکہ یہ موجودہ دور کی اشد ضرورت بن چکی ہے ۔ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو ہے ۔ انسان نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسی اور مصنوعی علوم ، پروفیشنلزم اور اس کی وسعتوں کو اپنے قابو میں لے لیا ہے ۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے درجنوں افراد کی بجائے چند افراد پر مشتمل ایک چھوٹا سا یونٹ مانیٹرنگ ، ایوالویشن ، اسسمنٹ اور چھان بین کے مجموعی عمل پر مکمل دسترس رکھتا ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر پورے صوبے کے اداروں کی کارکردگی ، عوامی شکایات کے ازالے سمیت سارے عمل کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ یہ تقریباً علم کی معراج ہے، جسے عوامی فلاح کیلئے بروئے کار لانا عبادت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ یونٹ صوبائی اور ضلعی سطح پر موثر حکمرانی اور سماجی خدمات تک عوام کی آسان رسائی کیلئے طریقہ کار متعارف کرا چکا ہے ۔ اس یونٹ نے سٹیزن پورٹل کا جو تصور پیش کیا اوراس سلسلے میں پاکستان سٹیزن پورٹل کو جو تکنیکی معاونت فراہم کی بلا شبہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ یونٹ کے تحت فائل ٹریکنگ سسٹم آج کے تیز رفتار دور کیلئے نہایت ناگزیر ہے ۔ اس سسٹم کی وجہ سے کسی بھی فائل کا با آسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں اور کس پوزیشن میں ہے ۔ مگر اب بھی اس سسٹم میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ آج بھی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ فائلیں ٹریک نہیں ہو رہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلعی سطح پر بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے تعین اور اُس پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔اس معاملے میں اکثر شکایات آتی رہتی ہیں ۔اسلئے اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے ۔ یہ ایک احسن اور غریب دوست اقدام ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر ادارے کیلئے رہنما اُصول وضع کئے ہیں اور اہداف دیئے ہیں ۔اُن کی خواہش ہے کہ یہ یونٹ اُن اہداف کا حصول ٹائم لائن کے ساتھ یقینی بنانے کیلئے کڑی نظر رکھے ۔ ہمیں عوام نے اپنے مسائل کا ازالہ کرنے اور تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے ۔یونٹ کے تحت کھلی کچہری کا کلچر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے مزید وسعت دینے اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری ملازمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کا عمل تیز کیا جائے ۔ اس عمل سے کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا، وسائل کے بدلے عوامی فلاح کیلئے اداروں کی پیش رفت نظر آئے گی ۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کے اپنے وسائل محدود ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ صوبے کی مالی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں وسائل پیدا کرنے کے مواقع تلاش کئے جائیں جس سے نہ صرف ہر ضلع اپنے پاؤں کھڑا ہو سکے گا بلکہ صوبائی خزا نہ بھی مستحکم ہو گا۔ اس سلسلے میں پی ایم آر یو کا ریونیو کیس مینجمنٹ سسٹم اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس طرح صوبے کے پاس وسائل ہوں گے اور حکومت بہتر سے بہتر فلاحی منصوبوں کا اجراء کرنے کی پوزیشن میں ہو گی ۔

    دریں اثنا ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر افتخار احمد نے دیامربھاشا اینڈ مہمند ڈیم فنڈ کیلئے یونیورسٹی کے ملازمین اور طلباء کی طرف سے 12 لاکھ روپے عطیہ کئے اور رقم کا چیک باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے حوالے کیا۔وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کی ۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان دیامربھاشا اینڈ مہمند ڈیم فنڈ کیلئے یونیورسٹی ملازمین اور طلباء کی طرف سے 12 لاکھ روپے عطیہ کا چیک وزیراعلیٰ کے حوالے کیا ۔ وزیراعلیٰ نے ڈیم فنڈ میں یونیورسٹی کی طرف سے عطیہ کا خیر مقدم کیا اور وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوم و ملک سے محبت کا یہی جذبہ اور ذمہ داری کا احساس قوموں کو عظیم بناتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستقبل قریب میں پانی کے ممکنہ بحران کے تناظر میں پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیربہت ضروری ہے۔ پانی زندگی کی علامت ہے جس کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان نے دلیرانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی پوری قوم نے حمایت کی ہے وزیراعلیٰ نے کہا ملک میں موجود آبی ذخائر کا تحفظ اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر ہماری اجتماعی ذمہ داری ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں سب کو استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس قومی فریضے میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہے ہیں اس سلسلے میں ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی عطیہ کی فراہمی پر خراج تحسین کی مستحق ہے ۔ وزیراعلی نے بطور خاص وائس چانسلر افتخار احمد کی فرض شناسی اور حب الوطنی کو سراہا اور ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالنے پر شکریہ ادا کیا۔۔ ملاقات میں یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سرگرمیوں اور دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ کو یونیورسٹی کے اہداف ، وژن ، پالیسیوں اور اصلاحات سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی میں جاری سرگرمیوں کو سراہا اور کہا کہ انکی حکومت اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ ہم کوالٹی ایجوکیشن پر توجہ دے رہے ہیں اور صوبے میں موجود اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم و تحقیق کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اسلئے اس شعبے میں تعلیمی اداروں کو خصوصی محنت کی ضرورت ہے ۔

  • error: Content is protected !!