Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • آسمان تیری لحد پر شبنم آفشانی کریں…………. عبدالحی

    January 7, 2019 at 9:29 pm

    استاد محترم مولا نگاہ نگاہ ؔ رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات کی خبر نے فکرو خیال ذہن و مزاج کو شل کرکے رکھ دیا ہے۔ جانے والے پر رونادھونا عام سی بات ہے ،لیکن یہی جانے والا بڑا ہو تو خلا محسوس ہونا فطری بات ہے اور جب جانے والا عبقری ہو تو اس کا خلا صدیوں تک محسوس ہوتا ہے۔ استاد محترم کی رحلت ایک ایسا ہی سانحہ ہے کہ علمی ، ادبی اور ثقافتی دنیا ان کی کمی محسوس کرتی رہی گی۔موصوف صحرائے علم وادب کے ایسے قیس تھے جن کی روانگی نے سب کو رلا دیا ہے اب تو ہر طرف ویرانی ہے، گر یہ ہے آہ نالہ ہے بقول غاؔ لب

    ہر ایک مکان کو ہے مکین سے شرف اسد
    مجنون جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

    آپ کاقد طویل مائل ، روشن وسفید چہرہ،کشادہ اور تجلیات حق سے منور پیشانی، خندہ رخسارجن سے جلالت علمی عیا ں رہتی تھی ۔ کھلا سینہ جو اسرار و رموز کا مخزن اور معارف و حقائق کا خزانہ تھا ۔ پتلے لب جو بوقت تبسم پھولوں سے بھی خوش تر لگتے ، قدر ے گھنی او رخوبصورت داڑھی جو اتباع سنت کا نشان تھا ۔گفتگو میں آہستگی ، ٹھہرا و اور لازوال شیرینی ، خوش خلقی اور خوش مزاجی موسلا دھار بارش کی طرح فیض رسان رہتی تھی۔

    آ عندلیب مل کر کریں آوزاریاں
    تو پکارے ہائے گل میں ہائے دل

    آپ رحمہ اللہ کی ذات ان ہی بخت آور شخصیات میں سے ہیں جن کی عظمت ورفعت کو سلام کیا جاتا رہا جو دوسروں کے لئے جیتے رہے جن میں ملت کی تعمیر کی فکر ہمیشہ تھی ۔ مسندتدریس کو سنت رسول سمجھ کر رونق بخشا کر تے تھے ۔ ان کی زبان میں بلا کی سلاست تھی ۔جب گویا ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ آبشار میں ٹھہراؤآگیا ہے اور چاروں طرف پھولیں اور ہر یالیاں اٹھکیلیاں بھر رہی ہیں ۔ جب چلتے تو رفتار کی دہما پن ایسی ہوتی کہ محسوس ہوتا زمیں کی سلامی کا جواب دے رہے ہیں ۔ اور فر ش کو مرحبا اور افرین کہنے کا موقع دے رہے ہیں ۔ آپ کی مجلس بہت علمی اور نکتہ آفرینی کا گل سرسبدہوا کرتی تھی۔ جب وہ بات کرے تو زبا ن سے پھول جھڑ تے ،ان کی گفتگوسننے کے لئے حاضر ین مجلس ہمہ تن گوش ہو جاتے ۔
    آپ کے ہزاروں شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں آپ متعد دکتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مقرر اور بلند پایہ شاعر تھے ۔ سینکڑوں غزلیں اور نظمیں آپ نے تخلیق کی ہیں ۔ آ پ کی کئی نظمیں مقبول عام کا درجہ رکھتی ہیں اور فارسی زبان پرمکمل عبور رکھتے تھے۔
    راقم کو استاد مرحوم کے سامنے زانوائے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے ۔ جب آپ درس دیتے تھے تو باتوں میں ٹھہراؤ دلائل کی قوت کے ساتھ ساتھ اسلوب سادہ ہوتا تھا ، جس سے معمولی استعداد والا طالب علم بھی بخوبی سبق سمجھ لیتا تھا ۔

    ائے فرشتہ اجل ! زرا رحم کھا لیا ہوتا ،کیا تجھے معلوم نہیں کہ چمنستان علم و ادب کے عطر بیز و مشک ریز جس گل سر سبد سے تو نے نہایت پاک اور مقدس روح کوکشید کیا ہے، کس عظمت اور علومرتبت کا حامل تھا وہ، ان کی جامع شخصیت کو کس طرح سے بلند اخلاق عالی المرتبی ، سعی جمیل، کمالات فروزاں ، گفتار دلیرانہ اور کر دار قاہر انہ نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔

    فرشتہ اجل ! یقیناًتو نے حکم ربی کو انجام دیا اور تیرا کام ہی اس رب کریم کے حکم کو بجا لانا ہے۔ ایک مومن کو اس کا ایمان ، تیرے اس المناک سانحہ کو انجام دینے پر ردائے صبرو شکیب تار تار کرنے کی بالکل ہی اجازت نہیں دیتا ورنہ تو آج حضر ت نگاہ کے اس فراق جانگداز پر دل حزیں اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے چیخ پڑتا ، حلقہ”احباب نگاہ “کی آہ زاری سے شایدجماعت ملائکہ میں بھی کہرام مچ جاتا اور وہ حیران زدہ رہ جاتے کہ کس کانزول اجلال ہے مر قد میں، کہ بنی آدم میں اس قدر ہنگامہ ریزی ہے۔ لیکن نہیں ایسا نہیں ہوا ۔ اس لئے
    کہ اس طرح کا عمل خالق الموت والحیات کو ناپسند ہے ، نبی کریم ﷺنے اس کو امر جاہلیت قرار دیا ہے،قر آن نے اہل ایمان کی علامت صبر وتحمل بتایا ہے۔بایں وجہ علم و ادب کے اس خاور درخشان کی جدائی پر باوجود کہ ہجوم غم سے قلب و جگر پاش یاش ہوا چاہتا ہے ، ان کی گل افشان زبان وبیان کے شیدائی ان کی تاابد خاموشی ہر بحر یاس والم میں سراپاغرق ہیں ۔ وادی تریچ کا ہر درودیوار اداس اداس ہے،اور أپ کی جدائی کا صدمہ عرصہ اہل علم وادب کے قلب و جگر کو رنجور کرتا رہے گا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کا چہرہ زبان حال سے کہہ رہا تھا ’’ فزت ورب الکعبۃ‘‘ رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔

    مختصر یہ کہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ستاروں کو جلا بخشنے والا اور حیات کا ہر لمحہ راہ علم وادب کے مسافروں کی راہنمائی کرنے والا ہے آپ علم و ادب کے منبع اور تواضع وانکساری کے مرقع تھے ۔ سامعین کیلے خوش بیان اور قارئیں کیلئے خوش نویس تھے ۔

    قحط الجال کے اس دور میںآپ کا وجود مسعود چترالی ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے احباب کے لئے ایک عظیم سرمایہ اور قیمتی اثاثہ تھا۔
    اس مختصرکالم میں آپ کی عظیم شخصیت کا احاطہ ممکن نہیں ہے، آخر میں فارسی کے اس مصرع کے ذریعے اپنی دلی رنجم والم کا اظہار کر کے یہ مضمون ختم کرتاہوں ۔
    آن قد ح بہ شکست وآں ساقی نہ ماند

  • error: Content is protected !!