Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • استاد محترم مولا نگاہ کی یاد میں کھوار زبان میں مرثیہ……تحریر: رحمت اللہ رحمت ؔ اجنو

    January 6, 2019 at 9:06 pm

    کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں

    صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد رکھے گی

     

    علمی دنیا کا ایک درخشندہ آفتاب اور روشن مینار اُستاذالاساتذہ محترم مولانگاہ نگاہ صاحب کی موت نہ صرف انسانیت کے لئے تعزیت کا باعث ہے بلکہ اس کی جدائی پر کتاب بھی اپنی یتیمی کا آنسو بہا رہی ہے اور قلم بھی اداس ہے اگر چہ علمی دنیا کا یہ درخشندہ آفتاب آنکھوں

    سے اوجھل ہوئے لیکن اس کی سجائی ہوئی کہکشاں سے دنیا منور رہے گی۔

     

    آتے ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
    گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

     

    استاد محترم کی یاد میں کھوار زبان میں مرثیہ پیش خدمت ہے

     

    کتاب دی ماتم کورویان، قلم اشک بار ہنون

    بوغدو نون جنتو وولٹی ، علموسمندار ہنون

    تہ روخچیک محال ساریران، اشرو مہ اوانا ریم

    مہ محسن تو کوری بغاؤ ، دربوخت بے قرار ہنون

    کورا تہ اخلاقو ذکر ، کورا استادیو تہ

    تاریخہ سند بہچیتائے تہ شیلی کردار ہنون

    مثلہ ای چراغو غونا، روشتی مہ پاشیتاؤ تو

    مہ دنیو بق روشت کوری ، باغاؤ مہ غمخوار ہنون

    کیہ فہم و گمانہ اوشوئی، مہ کیڑے تو بیسان رے

    تاتے مبارک لہ استاذ،جنتو سفار ہنون

    شاگردان سف لیئی کیڑینیان،کمال استادیو تہ

    بے ڈھبہ تو کیچہ بغاؤ ، اے علمو شاہکار ہنون

    تان شییلی شعران نویشی، سفو تو ہوساؤ اوشو

    تہ باچین ماتم کورویان، مہ زبان کہوار ہنون

    اے رحمتؔ ہزار تو کیڑے، نگاہو واکور ا لیس

    تپھاوے علمو بازاری ، بیتی پالاوار ہنون

  • error: Content is protected !!