Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ تعلیم کے افسران مختص فنڈز کے استعمال کو جلد یقینی بنائیں…ضیاءاللہ بنگش

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ محکمہ خزانہ کی طرف سے مختلف مدوں میں جاری کردہ فنڈ کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور مختلف منصوبوں کے لئے جاری شدہ فنڈ کے استعمال میں تیزی لائی جائے تاکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے عوام براہ راست مستفید ہو سکیں۔وہ محکمہ تعلیم کے بجٹ جائزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن ڈاکٹر محمد اجمل، سپیشل سیکرٹری ارشد خان،ڈائریکٹر ایجوکیشن حافظ محمد ابراھیم،ضم شدہ اضلاع کے ڈائریکٹر ہاشم آفریدی اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ضیا ء اللہ بنگش نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے بہت جلد مزید پانچ ہزار اساتذہ بھرتی کے لئے بھی اشتہار شائع کیا جائے گا جبکہ عنقریب انڈپنڈنٹ مانٹیرنگ یونٹ (IMU)کا دائرہ کار کو بھی ضم شدہ اضلاع تک وسعت دی جائے گی جس سے ضم شدہ اضلاع میں اساتذہ اور طلباء و طالبات کی حاضری یقینی ہونے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم میں بھی بہتری آئے گی۔۔مشیر تعلیم نے اجلاس کے دوران مختلف منصوبوں کے لئے جاری شدہ فنڈ کا جائزہ لیا اور جاری شدہ فنڈ کے بروقت استعمال کے لئے مختلف افسران کو ذمہ داریاں سونپ دیں۔انہوں نے کہاکہ بقایا فنڈز کے ریلیز کے لئے وہ صوبائی وزیر خزانہ سے بات کریں گے تاکہ بروقت فنڈز جاری ہو سکیں۔انہوں نے کہاکہ سکولوں میں باقی ماندہ سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی مسولر سسٹم،واؤچر کی فراہمی،ایٹا سکالرشپ،محنتی، قابل اور ذہین اساتذہ کو انعامات اور دیگر سہولیات کی مد میں بھی کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔مشیر تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپنی ذمہ داری بطریق احسن پورا کررہی ہے اب یہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزید محنت اور ایمانداری سے کام کریں تاکہ سرکاری سکولوں کے نتائج میں مزید بہتری کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا صوبے کو تعلیم کے میدان میں دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال کے طور پر پیش کریں گے۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش کی ہدایت پر محکمہ تعلیم نے انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ای ایم یو کو ضم شدہ قبائلی اضلاع تک توسیع دے دی۔ مشیر تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں آئی ایم یو کے قیام سے اساتذہ کی حاضریاں بہتر ہو جائیں گی انہوں نے کہا کہ مستقل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو بروقت اور یقینی بنانے کے لئے بائیومیٹرک سسٹم بھی بہت جلد ہی متعارف کرایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی خصوصی ہدایت پر نئے ضم شدہ اضلاع کے تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ ضیااللہ بنگش نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے حالیہ دوروں کے موقع پر مقامی مشران کے ساتھ انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے قیام کا وعدہ کیا تھا جو آج پورا کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی باشندوں اور مشران کی طرف سے اساتذہ کی حاضری سے متعلق شکایات تھیں، اب اس یونٹ کے قیام سے جہاں پر حاضریاں یقینی ہو جائیں گی وہاں پر تعلیمی معیار میں بھی بہتری کے ساتھ ساتھ طلبا اور اساتذہ کی تعلیم کی طرف توجہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع کے محب وطن عوام میں بے پناہ صلاحیتیں اور قابلیت موجود ہے انکی محرومیوں کا بھرپور ازالہ کیا جائے گا اور ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ وہاں آنے والے نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ مزید کامیابیاں حاصل کر سکیں۔


شیئر کریں: