Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ویلج کونسل ایون ٹو کے عوام کی بجلی کے حصول کیلئے دھرنا جاری،

    January 4, 2019 at 9:49 pm

    چترال ( محکم الدین )ویلج کونسل ایون ٹو کے عوام نے ایس آر ایس پی کے بجلی کے حصول کیلئے گذشتہ چار دنوں سے ایون جنالی میں دھرنا دے دیا ہے ۔ جن کاموقف ہے ۔ کہ ایس آر ایس پی نے یہ بجلی گھر پورے ایون کیلئے تعمیر کیا ہے ۔ لیکن ویلج کونسل ون کے لوگ انہیں بجلی دینے کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکا رہے ہیں ۔ جبکہ حاجی محمد خان کا تعمیر کردہ ایون ہائیڈل پاور سٹیشن ان کی ضرورت پوری نہیں کرتا ۔ اور آئے روز وی سی ٹو کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش رہتاہے ۔ اس لئے ایس آر ایس پی بجلی گھر سے انہیں بجلی دی جائے ۔ لیکن وی سی ون کے لوگوں کا کہنا ہے ۔ کہ ایس آر ایس پی نے یہ بجلی گھر صرف ان کیلئے بنایا ہے ۔ اور موجودہ وزیر اعلی محمود خان کے ہاتھوں اس کے افتتاح کے موقع پر وی سی ٹو کے لوگوں کو ڈائلاگ میں بلایا گیا ۔ اور نہ اس بجلی کو وی سی ٹو کو دینے کی بات کی گئی ۔ اور تعمیر بجلی گھر کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی ۔ اس میں بھی وی سی ٹو کے کسی فرد کو بطور ممبر شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے۔ کہ ایس آر ایس پی بجلی گھر ابھی سے لوڈ شیڈنگ پرچل رہا ہے ۔ ایک یونٹ گذشتہ کئی عرصے سے خراب پڑا ہے ۔ ایسے میں ایک یونٹ کی بجلی کو پورے ایون میں تقسیم کر دیا جائے ۔ تو تمام لوگوں کو اندھیروں میں وقت گزارنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پہلے تو اس بجلی کو آر ایچ سی ایون لے جانے کی بات کی گئی ۔ اب پورے ایون کودینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ جوکہ نا قابل قبول ہے ۔ اس حوالے سے وی سی ون کے کمیٹی ممبر صفدر ولی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا۔ کہ ہم نے ہسپتال ,سکول اور دیگر سرکاری اداروں کواضافی بجلی دینے پر اتفاق کیا تھا ۔ لیکن دھرنے کے شرکا کا مقصد اپنے لئے بجلی حاصل کرنا ہے ۔ جبکہ بجلی اتنی نہیں کہ ایون کے تمام لوگوں کی ضرورت پوری کرے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایس آر ایس پی کے سربراہ کوچائیے کہ وہ عوام ایون کو آپس میں لڑانے کی بجائے اس بات کو عوام کے سامنے واضح کرے۔ کہ بجلی گھر کی کپیسٹی کتنی ہے ۔ اور وہ کتنے لوگوں کو بجلی دینے کی استطاعت رکھتا ہے ۔ جبکہ بجلی گھر کی تعمیر بھی جس طریقے پر ہونی چاہیے تھی ۔ اس طریقے پر نہیں ہوئی ۔ آج معمولی بارش میں لائٹ کا چلا جانا ایک معمول بن گیاہے ۔ اور معمولی ہوا چلنے پر ڈسٹری بیوشن لائن کی تاریں آپس میں ٹچ کرنے سے بھی بجلی چلی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایون ہائیڈل پاور سٹیشن کی طرح ا س کی لائینیں بھی بے تحاشہ تقسیم کی گئیں ۔ تو ولٹیج بری طرح گر جائے گی ۔ جبکہ تعمیر سے اب تک ایک سال ہی میں اس کی وولٹیج میں بہت کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ کمیونٹی بجلی گھر ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمیں مجبورا نمایندگی کیلئے بولنا پڑتا ہے ۔ بصورت دیگر ان چیزوں میں پڑنے کا کسی کو شوق نہیں ۔ اس سے پہلے بھی اسی سائڈ پر تین, چار بجلی گھر بنے ۔ لیکن ہم نے کسی کے ذاتی بجلی گھر میں مداخلت نہیں کی ۔ جبکہ موجودہ بجلی گھر کمیونٹی کا ہے ۔ اور کمیونٹی اس حوالے سے معلومات کے حصول اور فیصلوں کا حق محفو ظ رکھتا ہے ۔

    

  • error: Content is protected !!