Chitral Times

Jan 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ملاکنڈ اور سوات سمیت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو خصوصی توجہ دیں گے..وزیراعلیٰ

    January 4, 2019 at 10:59 pm

    پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ماضی کے کرپٹ حکمرانوں سے مایوس عوام نے عمران خان کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے کیونکہ ماضی کے بد عنوان سسٹم میں انصاف کا حصول مشکل تھااور عوام اپنے حقوق کیلئے بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھے ۔چوری کا کلچر جڑیں پکڑ چکا تھا ، پی ٹی آئی کی عوام دوست پالیسیوں ، نظام میں اصلاحات اور کاوشوں سے آج عوام کو حقوق اور انصاف ملنے لگا ہے اور عوام مطمئن ہیں۔کل کے چور آج عوامی فلاح میں ہمارے اقدامات اور ہماری قیادت کے اخلاص پر نقطہ چینی کر تے نظر آتے ہیں اور اپنا داغ دار ماضی بھول چکے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقہ اپنے مستقبل سے پریشان ہے کیونکہ یہ بھی جان چکا ہے کہ مستقبل پی ٹی آئی کا ہے کیونکہ پی ٹی آئی عام لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے ۔اس کی عوامی مقبولیت اور کامیابی کی وجہ بھی یہی ہے کہ عام آدمی کی خوشحالی اس کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے ۔ پی ٹی آئی کی والہانہ قیادت ، اس کے کارکنان خصوصاً نوجوانوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک میں تبدیلی کے عملی دور سے گزر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ضلع سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے معروف رہنما نثار خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے موقع پر موجود جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نثار خان نے عوامی نیشنل پارٹی کی تقریباً 50 سالہ دیرینہ رفاقت سے مستعفی ہوکر اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے نثار خان اور انکے خاندان اور دوستوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا اور اُن کو مبارکباد دی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یقیناًیہ فیصلہ اچھا ثابت ہو گا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج لوگ جو ق درجوق پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی ہی واحد جماعت ہے جو ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف کھڑی ہے۔عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں ناقص حکمرانی سے کیسے ادارے تباہ کئے گئے ، حق اور انصاف کا حصول کتنا مشکل تھا ، حکمرانی کا سارا نظام مراعات یافتہ طبقے اور مفاد پرست حکمرانوں کے مفادات کے گرد گھومتا تھا۔ عام آدمی انتہائی کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور تھا ۔ پی ٹی آئی مظلوم عوام کی آواز بنی اور تبدیلی کا نعرہ لگایا جس کو عوام نے سپورٹ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی نظام کیلئے اصلاحات کی وجہ سے اب حالات یکسر بدل چکے ہیں، عوام مطمئن ہیں کیونکہ اُنہیں اپنا مستقبل محفوظ نظر آنے لگا ہے ۔ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقہ تبدیلی کے عمل سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ہمارے اقدامات پر نکتہ چینی میں مصروف ہے مگر عوام ان کے کرتوتوں سے آگاہ ہیں عوام ان کی دھوکہ دہی اور فریب کی سیاست کو دفن کر چکے ہیں ۔ ان عناصر کو عوام سیاسی میدان میں دھتکار چکے ہیں اور ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے مختصر عرصے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تباہ حال اداروں کو ٹھیک کیا اور عوام کی خدمت کا شفاف نظام متعارف کیا۔ سابق فاٹا کا صوبے میں انضمام ہو چکا ہے ۔ ہم قومی ترقی اور خوشحالی کی جس سمت میں رواں ہیں اس کی بدولت یقین سے کہتے ہیں کہ آنے والا وقت خوشحال ہو گا۔ ملاکنڈ اور سوات سمیت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو خصوصی توجہ دیں گے اور اُن کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور اس کے وابستگان ہمارا اثاثہ ہیں جن کی کاوشوں سے پی ٹی آئی کامیابی کی منازل طے کر رہی ہے ۔ نوجوانوں نے پی ٹی آئی کے کاز کیلئے بڑی محنت کی ہے ۔ اخلاص کے ساتھ محنت کی جائے تو مثبت نتائج ضرور ملتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اپنی سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اُنہوں نے ہمیشہ پارٹی کیلئے کام کیا اور ذاتی کریڈٹ کی کبھی لالچ نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج قدرت نے یہ کامیابی عطا کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی خوشحالی پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے ۔ ماضی کے تباہ حال سسٹم کو شفاف انداز میں فعال بنانے اور ملک و قوم کو مسائل کے بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ہر سطح پر کام ہو رہا ہے ۔آج چیلنجز زیادہ ہیں مگر یہ وقتی ہیں ۔ ہم مربوط کاوشوں اور حکمت عملی کے ذریعے آج کے سخت حالات سے نکل جائیں گے اور آنے والا وقت دیر پا خوشحالی لے کر آئے گا۔ صوبے کے پسماندہ اضلاع خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ، اُن کی محرومیاں دور کرنا اور اُنہیں اُن کے حقوق کا تحفظ کرنا ہماری ترجیح ہے ۔ ہم کامل یکسوئی کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ماضی کے خیبرپختونخوا اور آج کے خیبرپختونخوا میں فرق واضح ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ساڑھے پانچ سال اس صوبے میں حکومت کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا گراف بڑھتا جار ہا ہے اور خواص و عوام اس میں شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں ۔

    دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ قبائلی عوام تابناک ماضی کے مالک ہیں ، قبائلی عوام نے پاکستان کی آزادی اور بعد ازاں اس کے تحفظ اور سلامتی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ فاٹا کا صوبے میں انضمام ایک تاریخی کارنامہ ہے ۔ حکومت انضمام کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے ، ہم ضم شدہ علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے اپنی استعداد سے بڑھ کر حصہ ڈالیں گے ، قبائلی روایات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں گے ، جرگہ سسٹم کو قانونی کور دیں گے ۔ ایف سی آر کے خاتمے سے پیدا ہونے والا خلاء پاکستان میں مروجہ قوانین کی نئے اضلاع تک توسیع سے ختم ہو جائے گا۔ بدلتے ہوئے منظرنامے میں ہمیں چیلنجز کا سامنا بھی ہو گامگر ہم سب نے مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے ،اجتماعی فلاح کے کاموں کو ترجیح دینی ہے ۔پاک آرمی، ایف سی ، پولیس، لیویز اور دیگر سکیورٹی اداروں اور عوام کی کوششوں سے سو فیصد امن آچکا ہے۔اب اس امن کو برقرار رکھنے کیلئے سب نے اپنا حصہ ڈالنا ہے جس طرح آپ نے پہلے امن کیلئے قربانی دی اُمید ہے کہ اسی طرح آئندہ بھی کردار ادا کریں گے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پرپولیس شہداء کے پیکج کی طرز پر لیویز کیلئے بھی شہداء پیکج کا اعلان کیا۔ وہ ضلع باجوڑ اورشاہ کس باڑہ کے ایک روزہ مصروف ترین دورہ کے دوران باجوڑ سکاوٹس قلعہ میں قبائلی عمائدین کے جرگے اورباجوڑ لیویز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ ایم این اے گل ظفر، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، انسپکٹر جنرل ایف سی نارتھ میجر جنرل راحت نسیم احمد خان، کمشنر ملاکنڈ ، باجوڑ کے دیگر انتظامی افسران ، سیکٹر کمانڈر نارتھ ، آرمی کے افسران ، قبائلی عمائدین ، لیویز کے جوانوں اور دیگر اہم شخصیات نے تقریب میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بحیثیت وزیراعلیٰ باجوڑ کا دورہ کرنے پر وہ نہایت خوشی محسوس کر رہے ہیں کیونکہ یہ صوبے کی تاریخ میں کسی بھی منتخب وزیراعلیٰ کا باجوڑ کا پہلا دورہ ہے۔یہ دورہ اسلئے کیا ہے تاکہ قبائلی عوام کے مسائل سن سکوں ،آئندہ دورے پر ان تمام مسائل کا حل لے کر آؤں گا جو نظر بھی آئے گا۔ خیبرپختونخو ا کے قبائل نے پاکستان کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، بلکہ بعد میں بھی کئی مواقع پر آپ نے پاکستان کے لئے کسی بھی جانی اور مالی قربانی سے دریغ نہیں کیا، جس کی ایک واضح مثال دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ ہے، جس میں آپ نے سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ گراں قدر قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ آپ نے جس طرح پورے ملک کے عوام، حکومت اور افواج پاکستان کا ساتھ دیا، اس پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع کی ہمہ گیر ترقی کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔میں کل ہی کابینہ اجلاس میں صوبائی وزراء کو تمام نئے اضلاع کے دورے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے مکمل پلان بنانے کی ہدایت دے چکا ہوں۔ہر روز ہر ضلع کاایک وزیر دورہ کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بھی اس سلسلے میں اجلاس ہو چکا ہے اور انہوں نے خصوصی دلچسپی لی ہے اور ان اضلاع کے دورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ خود بھی نئے اضلاع کے دورے کریں گے ۔ ا نہوں نے یقین دلایا کہ وہ قبائلی اضلاع کے عوام کی تمام محرومیاں دو رکریں گے۔ موجودہ حکومت نے ابتدائی سو دنوں میں قبائلی عوام کی ترقی کیلئے جو اقدامات اُٹھائے ہیں یا آئندہ اُٹھانا چاہتی ہے اس سے قبائلی اضلاع میں خوشگوار اور مثبت تبدیلیاں آئیں گی ۔ صحت اور تعلیم سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے خصوصی تبدیلیاں لائیں گے ۔صحت انصاف کارڈ کی سہولت کو تمام نئے اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے ۔ بیشتر صوبائی محکموں کی نئے اضلاع تک توسیع ہو چکی ہے ۔ایف سی آر کے خاتمے سے یقیناًخلاء پیدا ہوا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے مروجہ قوانین کو بھی توسیع دی جا چکی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 247 کے خاتمے کے باوجود کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، فاٹا اور پاٹا میں آئندہ پانچ سالوں کیلئے کوئی ٹیکس نہیں ہے ۔ ہم نے قبائلی عوام سے جو وعدے کئے ہیں پورے کریں گے ۔ بہت جلد بلدیاتی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات بھی کرائے جائیں گے ۔صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں میں آپ کی بھی بھر پور نمائندگی ہو گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے اضلاع میں عوام کو درپیش مشکلات اُنہیں معلوم ہیں کیونکہ وہ خود بھی سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ نئے اضلاع میں سکولوں ، ہسپتالوں اور بجلی سمیت تمام شعبوں سے متعلق مسائل حل کریں گے ۔ وفاقی حکومت نے نئے اضلاع کی ترقی کیلئے سالانہ سو ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے ، یہ وسائل نئے اضلاع کے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہی خرچ کریں گے ۔ نئے اضلاع میں جاری ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کا دروازہ قبائلی عوام کیلئے کھلا ہے ،ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سکاوٹس اور لیویز کی یاد گار شہداء پر پھول بھی چڑھائے اورسلامی پیش کی ۔ قبل ازیں صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قبائل ترقی کے نئے دور کی طرف جارہے ہیں ۔ قبائل نے اپنی روایات کے تحفظ اور پورے پاکستان کی سلامتی کیلئے قربانیاں دی ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائل نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے ۔ نوجوانوں نے اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اجمل وزیر نے کہاکہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی بلکہ ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے دوررس اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت ہے کہ نئے اضلاع میں کوئی قانونی سقم نہیں رہنا چاہئے ۔ انضمام کے عمل کو مکمل کرنا اور قبائل کو قومی ترقی کے دہارے میں لانا ہمارا کل وقتی پلان ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کی سیاسی بصیرت اور دلیرانہ قیادت نے سات نئے اضلاع کی محرومیاں دور کرکے دکھائیں گے ، عوام کو انصاف فراہم کریں گے اور اُن کے حقوق کو تحفظ دیں گے ۔

  • error: Content is protected !!