Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غزل___!………. شاہ عالم علیمی..

Posted on
شیئر کریں:

بڑے دنوں کے بعد فلک یوں گویا ہوا
تجھے دیکھ نہیں سکتا عدو بھی روتا ہوا
چار پل کے جو لمحے ہیں سو گزارے خوشی خوشی
دل کو تسلی دیتے ہوئے دل کو بہلاتا ہوا
قصے اس کے حسن کے بن بن کے دیوان ہوئے
زندگی بہہ گئی اس کے قصے جوڑتاہوا
منزل پہ پہنچتے پہنچتے قدم یوں مڈ گئے
دل پہ ستم ڈھاتا ہوا دل کو رلاتا ہوا
ہم سے کیا خاک فرشتے پوچھینگے احوال و حال
ہر قدم پہ جنگ لڑی ہے زندگی گزارتا ہوا
وادی میں خوشبو پھیلی اج اس کے بدن کی
قافلہ نازبر کا گزرا شاید خوشبوئیں لٹاتا ہوا
باغ ارم میں دل ہے، اس کے خیال کا کرم ہے
دل کے اسماں پہ نکلا وہ چاندہ چمکتا ہوا
دل کو خوش فہمی ہے یہ اس کی مہربانی ہے
اج اس کے در پہ تھا ایک جھلک کی صدا لگاتا ہوا
کافر تھا دل جو جامِ عشق پیا
پھر زندگی گزر گئی غم کا بوجھ اٹھاتا ہوا
کب تیری بات اس کے محفل میں ہوئی ہوگی
جو ایک چراغ بجھاتا ہے دوجا جلاتا ہوا
اس کے ستم سے خوشی ہوتی ہے ستم گر کو
اہ کی صدا لگاتا ہے فلک کو دیکھاتا ہوا
جگر میں چسپاں ہیں یوں ہزار تیر نیم کش
دل کراہ اٹھتا ہے درد کو چھپاتا ہوا
عشق کا جو نشہ ہے وہ دل ہی جانتا ہے
اتا نہیں کبھی وہ، مگر دکھتا ہے اتا ہوا
بےپرواہ کو کیا خبر کیا گزری ہے ہم پر
اس کی راہ میں مر گیا دل ناز سے پالا ہوا
عقل و دانش نہ سمجھے عشق کے فلسفے کو
جو لفظ لکھا گیا اسماں سے اترا ہوا


شیئر کریں:
Posted in شعر و شاعریTagged
17315