Chitral Times

Mar 2, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ادب،ثقافت و صحافت کا درخشندہ ستارہ……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا میں ادب، ثقافت اور صحافت کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا۔صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف شاعر، ادیب، فلم ساز، ڈرامہ نگار اور نامور صحافی یونس قیاسی 27دسمبر کی رات ہمیشہ کے لئے ہم سے بچھڑ گئے۔یونس قیاسی 1942میں پشاور کے علاقے ہزار خوانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خداداد سکول سے حاصل کی ۔ ایڈورڈز ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ گورنمنٹ کالج پشاور سے ایف اے جبکہ پرائیویٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔طالب علمی کے دور سے ہی پشاور سے شائع ہونے والے سرکاری اخبارروزنامہ مشرق سے لکھاری کے طور پر وابستہ ہوگئے۔ 1970میں پشتو فلموں کے حوالے سے لاہور منتقل ہوگئے جہاں چھ سالوں کے دوران بیس پشتو فلمیں لکھیں جن میں پشتوکی پہلی فلم درہ خیبر بھی شامل ہے جس کے گیت’’ مونگ دی یوخیبر زلمئے پختو زمونگہ شان دے‘‘ نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔ فلمی دنیا سے واپسی پر روزنامہ سرحد سے وابستہ ہوگئے۔ روزنامہ جنگ کے بیورو آفس میں تین سال رپورٹنگ کرتے رہے۔ پھر روزنامہ جدت سے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر وابستہ ہوگئے۔ ساتھ ہی روزنامہ وحدت کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ۔ریزیڈنٹ ایڈیٹر عبدالواحد یوسفی کے مشورے پر دوبارہ روزنامہ مشرق سے وابستہ ہوئے۔1992میں جب نیشنل پریس ٹرسٹ نے روزنامہ مشرق کو فروخت کردیا تو نئی انتظامیہ نے سنڈے میگزین کا انچارج بنا دیا۔ 1993میں روزنامہ آج سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں رپورٹنگ بھی کرتے رہے۔ کالم اوراداریہ بھی لکھتے رہے ۔ پی ٹی وی کے لئے اردو، پشتو اور ہندکو زبانوں میں ڈرامے اور خصوصی فیچرزلکھے۔آپ کے کالموں کا مجموعہ قیاس آرائیاں کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ جبکہ پشتو اور ہندکو شاعری کے دو مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ یونس قیاسی کو ان کی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں 2012میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی صحافتی اور ادبی خدمات پر مقالے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ انہیں ادب و صحافت کی نامور شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا جن میں احمد بخاری، شمشاد صدیقی، مسعود انور شفقی، عبدالواحد یوسفی، ایس ایم رضوی، حبیب الرحمان ، صلاح الدین احمد، اے آر جلال اور نواز صدیقی شامل ہیں۔یونس قیاسی کو مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات پر بے شمار ایوارڈ زاور اعزازات ملے ۔ پشتو فلم درہ خیبر کے گانوں اور مکالموں پر سرحد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ موسیقار اعظم ایوارڈ، پشاور ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، فرنٹیئر ڈرامہ ایوارڈ، بہترین ڈرامہ نگار کا ہزارہ آرٹس کونسل کی طرف سے ایوارڈ، ہندکو بورڈ ، سوہنی دھرتی فاؤنڈیشن ، اگفا ایوارڈ اور اے ٹی وی خیبر ایوارڈز مل چکے ہیں ۔ان کے ٹی وی ڈرامہ سیریلز میں کونج، واپسی، نورینہ، انیتا، لاوا، ہم سفر، کھجور میں اٹکا، فاصلوں کے درمیان، آدھے رستے، انگار، سودا، درپدر، چانڑنا، دیوار، کفارہ، دیکھ تماشہ دیکھ، رہائی، دیمک اور چنار بہت مقبول ہوئے۔ جبکہ منتخب اردو ڈراموں میں فیصلہ، چوتھا چانس، کورا کاغذ، حیثیت، روٹی، پنکھا، دال، پچھانڑ، گما ہوا آدمی، دوسرا پہیہ اور کوئی تہ ہووے شامل ہیں۔ پشتو ڈراموں میں دلوگو غرونہ، دال، تحفہ، بدل ، خزانہ اور یوموتے آسمان کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔منتخب اردو ڈراموں میں زرد پتے، چڑیاں اور کھیت، دراز، بدصورت چاند، ٹاپو والی زمین، مٹی کا قرض، ماں، جاگتے خواب اور جھوٹی خبر بہت مقبول ہوئے۔پشتو ڈراموں میں سپیرہ، کوژون، بیگم صاحب، رنڑا، فرض اور پرے گڑے گوتے کو ناظرین نے پذیرائی بخشی۔ جبکہ طویل پشتو ڈراموں میں خوند رنگ، سحر صبا اور سند ریزہ قصئی نے بھی کافی پذیرائی حاصل کی۔خان لالہ، راشہ ماما زوئے دے لیونئے، دوو خزو خاوند، کشمالو پہ خار کئے اور ہلہ بہ خبرشے جیسے سٹیج ڈرامے بھی کافی پسند کئے گئے۔ جبکہ منتخب اردو ڈراموں میں سفید خان، اوے اوے، قرض، جو یوں ہوتا اور پہچان کو ایوارڈ ملے۔یونس قیاسی نے انیس پشتو فلموں کے مکالمے اور گانے لکھے ۔ جن میں پشتو کی پہلی فلم درہ خیبر، دیدن، زرتاجہ، باغی، میلمہ، جنگ او امن، زما بدل، دلبر ڈاکو، باز شہباز، عجب خان آفریدی، قیدی، ٹوپک زما قانون، شعلے، جوندیامرگ، بہادر خان، خپلہ وینہ خپلہ خاورے، دزوئے مینہ، گل بانو اور خطرناک قیدی شامل ہیں۔یونس قیاسی گذشتہ چار سالوں سے خانہ نشین ہوگئے تھے۔ انہیں دمے کی تکلیف تھی۔ لیکن کتاب اور قلم کے ساتھ ان کا رشتہ اور تعلق آخری سانس تک برقرار رہا۔ 76سال کی بھرپور اور فعال زندگی گذارنے کے لئے یونس قیاسی نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ان ادب، ثقافت اور صحافت کے شعبوں میں گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ ان کی رفاقت پر ہمیں ہمیشہ فخر رہے گا۔


شیئر کریں: