Chitral Times

Jan 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بجلی کی ناراوابندش کے خلاف سب ڈویژن مستوج کے عوام سراپا احتجاج، 9دنوں‌کا ڈیڈلائن

Posted on
شیئر کریں:

پرواک (نمائندہ چترال ٹائمز )چترال کے بالائی علاقے میں طویل عرصے سے جاری بجلی کی غیر اعلانیہ اور غیر معینہ مدت تک بجلی کی بندش کے خلاف سب ڈویژن مستوج کے گاوں پرواک میں ضلعی حکومت اور متعلقہ محکمے کو دی گئی ڈیڈ لائین کے مطابق پیرکے روز سنٹر پرواک میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.جسمیں علاقہ پرواک کے علاوہ سنوغر، میرا گرام، نصر گول، سارغوز ،آوی، مستوج پرکوسپ، چوئیچ کے علاوہ چپاڑی اور کھوژ تک کے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی. اور ضلعی و صوبائی حکومت سے برقی محکمے( پیڈو) اور ذمہ داراں کو راہ راست پر لانے کیلیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا اس موقع پر عمائدین علاقہ نے حکومت وقت کی جانب سے غریب عوام پر ڈھاے جانے والی مصیبت اور طویل مدت تک کی جانے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بندش پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوے شدید نعرہ بازی کیے.اور حکومت وقت کو 3 جنوری تک بجلی کی بندش مکمل ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا.بصورت دیگر شدید احتجاج، شٹر ڈاون ہڑتال اور حکومت کےخلاف مظاہرے عمل میں لانے کی دھمکی بھی دی گئی..
اس موقع پر مقرریں نے اپر چترال کیساتھ کی جانے والی نارواسلوک کو سوتیلی سلوک قرار دیتے ہوے صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا.اور حکومت کو اپنی رویوں پر نطر ثانی کرنے اور متعلقہ محکمے کو راہ راست پر لانے کا بھرپور مطالبہ کیا گیا.اور بجلی کے علاوہ اپر چترال میں موجود دوسرے عوامی مسائل کو بھی جلد از از جلد حل کرانے کیلیے لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا..
اس موقع پر مختلف علاقوں سے آئے ہوے نمائندوں ویلج نائب ناظم پرواک عید علی، ویلج ناظم سنوغر شجاع الملک، سوشل ورکر حیدر احمد پرواک، ویلج ناظم کھوژ نور عجم نورانی، جنرل سیکٹری پی ٹی آئی مستوج حبیب اللہ شاہ، سابقہ کونسلر پرکوسپ محمد فیض، ویلج ناظم پرکوسپ احمد ولی شاہ، ریٹائرڈ استاد مولانا میر اعظم پرواک، سوشل ورکر قمر الدین شاہ چوئیچ، شوکت حیات سنوغر، معروف شخصیت بلبل زار سنوغر، ویلج ناظم وور محمد پرواک کے علاوہ سید غازی اور دوسرے مقرریں نے حکومت اور برقی محکمے کو آڑے ہاتھو‍ں لیتے ہوے ائندہ کیلیے اپنا قبلہ درست کرنے کی دھمکی بھی دیے اور اسطرح اج کے پرآمن احتجاج کے سرپرست اور معروف سماجی و سیاسی شخصیت ریٹائرڈ صوبیدار صاحب الدیں کے مشورے اور فیصلے کے مطابق متفقہ طور پرحکومت اور متعلقہ محکمے کو 9 دنوں کی ڈیڈلائین دیتے ہوے ائندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ دار حکومت اور متعلقہ محکمے کو قرار دیتے ہوے 3 جنوری تک کیلیے احتجاج ختم کر دیے…


شیئر کریں: