Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قرآنی احکامات اور ہم……….تحریر :اقبال حیات آف برغذی

شیئر کریں:

بائی پاس روڈ پر جارہا تھا۔ میر ے آگے آگے ایک نوجوان موبائل پر بات کرتے ہوئے کہہ رہاتھا”کہ میں اس وقت دروش میں ہوں کام نمٹانے میں میرے یہاں دو دن لگیں گے۔ اس لئے میرا انتظار کئے بغیر آپ لوگ اپنا پروگرام بنائیں” یہ صریح اور ڈنکے کی چوٹ پر جھوٹ یقیناًقابل تعجب تھا اس لئے نوجوان کی گفتگو کا سلسلہ ختم ہونے پرمیں آگے بڑھ کر سلام کرنے اور ہاتھ ملانے کے بعد ان سے دریافت کیا کہ برخوردار! آپ اس وقت کہاں ہیں۔ نوجوان میرے مقصد سوال کو بھانپ کر پھیکی سی مسکراہٹ کے بعد کہنے لگے کہ “حضرت!دور ایسا آیا ہے۔کبھی کبھار اس کے تقاضوں سے انحراف کرنا مشکل ہوتا ہے”۔نوجوان کی زبان سے یہ الفاظ سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت کے قرآنی الفاظ کے تناظر میں اس جرم کے ارتکاب پر بدن پر کپکپی طاری ہونے کی بجائے بحیثیت مسلمان ہنستے ہوئے اسے دور کی جھولی میں ڈالا جارہا ہے۔اور قرآن کے مومنوں کو راست گوئی کی تلقین کرتے ہوئے اس کے ثمرات کے طور پر اعمال کی اصلاح اور گناہوں کی معافی کی نوید کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سرکار دوعالم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے ۔کہ اگر بات کی سچائی ،امانت کی حفاظت، حسن اخلاق اور لقمۂ حلال حاصل ہوجائیں تو دنیا کی کوئی چیز بھی تمہیں حاصل نہ ہو ۔تو کوئی افسوس کی بات نہیں۔
مگر دور کے تقاضوں کا کیا کہا جائے یہ صرف جھوٹ بولنا ہی نہیں چاہتا بلکہ خواتین کو گھروں کے اندر ٹک کر رہنے اور بلا ضرورت جہالت کے دور کی طرح بن سنور کر باہر نکلنے سے قرآن کے اجتناب کی حکم عدولی کرکے نہ صرف لباس کی نمائش میں لذت محسوس کی جاتی ہے۔ بلکہ بازار کی ذینت بن کر غیروں کے ساتھ کھل کھلاکر بات کرتی ہوئی دور کے تقاضوں کے رنگ میں خود کو رنگین کی جاتی ہے۔ایک دوسرے کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی قرآنی ہدایت کے برعکس انہیں اچھالنے اور اپنی طرف سے مزید اضافہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا جاتا ہے۔ قرآن اہل وعیال کو نماز کی تاکید کرنے کے ساتھ خود بھی اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ مگر ہم پیالہ ٹوٹنے پر اہل وعیال کی سرزنش کرتے ہیں۔ مگر نماز چھوٹنے کو اہمیت نہیں دیتے۔ قرآن زمین پر غرور اور تکبر کے ساتھ چلنے سے اجتناب کے حکم کیساتھ نہ زمین کو پھاڑنے اور نہ پہاڑوں سے اوپر رسائی حاصل کرنے کی استطاعت رکھنے کی انسانی حیثیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ مگر معاشی اور منصب کی بنیاد پر نمایاں حیثیت کے حامل ہوتے ہی ہماری نظر یں زمین کی طرف نہیں آتیں۔ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کی تاکید کرتے ہوئے ان کے سامنے اُف تک کہنے سے گریز کے قرآنی حکم کی جس طرح درگت بنائی جاتی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ قرآن لغویات سے اغراض کو مومن کی نشانی اور صفت سے تعبیر کرتا ہے۔ مگر ہم زندگی کے انمول لمحات کو گھنٹوں بھر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ڈراموں اور کرکٹ کمنٹری دیکھنے میں ضائع کرنے کے احساس سے عاری ہیں۔
مختصریہ کہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن عظیم الشان بنی نوع انسان کی رشدوہدایت کا وہ بیش بہا خزانہ ہے جو سفرحیات کو دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے میں ممدو معاون ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے قرآن کے رہنما اصولوں اور زندگی کے قواعد وضوابط کی پاسداری کی رمق مجموعی طورپر ہم میں نظر نہیں آتی۔ اوریوں ہمارے قول وفعل میں تضاد سر چڑھ کر بولتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی امامت کے منصب اعلی کے حصول کے اثرات دور دور تک نظر نہیں آتے۔


شیئر کریں: