Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت نے اگلے پانچ سال کیلئے ڈییجٹل پالیسی کاآغاز کردیا

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )خیبر پختونخوا نے جمعرات کے روز اگلے پانچ سال کیلئے اپنی ڈیجیٹل پالیسی شروع کر کے پاکستان کے صوبوں میں ایک اور سبقت حاصل کرلی ہے ۔ اس جامع پالیسی میں رسائی، طرز حکمرانی،اقتصادیات اور مہارت کے چار شعبوں پر توجہ مر کوز کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش ، منیجنگ ڈائریکٹر کے پی آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر شہباز خان ، عالمی بنک کے میلنڈہ گڈا ور JAZZ کے علی نصیر نے اس موقع پر شرکاء کو مذکورہ پالیسی کی نمایاں خصوصیات سے متعلق سادہ اور موثرطور پر بریف کیا ۔ اس پالیسی میں ملک کے سب سے پسماندہ سمجھے جانے والے سابقہ فاٹا کے انضمام شدہ نئے اضلاع کے لوگوں کو ڈیجیٹل رسائی کی فراہمی پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ یہ پالیسی صوبے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی سہولیات کیلئے بڑھتی ہوئی نجی و سرکاری شراکت پر توجہ مر کوز کر تی ہے ۔ یہ پالیسی ضم شدہ نئے اضلاع یعنی سابقہ فاٹا کی تعمیر اور وفاقی حکومت کی جانب سے آئی سی ٹی خدمات میں صوبائی حصے کی فراہمی پر تیز رفتار عمل در آمد پر بھی زور دیتی ہے۔اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ اتیمور سلیم جھگڑا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے میں انٹرنیٹ 1995میں متعارف کیا گیا تھا لیکن سرکاری اداروں کا سارا کام اب بھی زمانہ قدیم کے کاغذوں اور فائلوں کے ذریعے ہوتا ہے اس ناکارہ سسٹم کو چلانا وقت اور وسائل دونوں کو ضیاع ہے جبکہ یہ خدمات کی فراہمی میں بھی باعث رکاوٹ ہے جبکہ انہوں نے نشاندہی کی کہ سرکاری ادارے اپنے پرائیویٹ ای میل ایڈریسز استعمال کر رہے ہیں۔ یہ عمل انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ نہ صرف سرکاری اور پرائیویٹ معاملات کو مکس کر تا ہے بلکہ سیکیورٹی رسک بھی پیدا کرتا ہے۔تا ہم صوبائی وزیر خزانہ نے صوبے میں ایک قابل دید تبدیلی لانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے کہاکہ اگرچہ ڈیجیٹل پالیسی ، پاکستان تحریک انصاف کے سو روزہ پروگرام کے اقدامات کا حصہ نہیں لیکن وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کو سو سے کم دنوں میں تیار کیا گیا ہے انہو ں نے کہاکہ اس پالیسی کی تیاری میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ پالیسی زمینی حقائق پر مبنی ہے اور حقیقت پسدانہ اہداف کے حصول کے لئے آسانیاں فراہم کرتی ہے تاہم انہو ں نے کہاکہ صوبائی حکومت مذکورہ پالیسی میں کسی بھی مفید تجویز کو شامل کرنے کے لئے ہمیشہ سے تیار ہے اور صوبے کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اس میں بہتری لانے اور اسکے اہداف کے حصول کے لئے معاون کسی بھی تجویز کو سراہے گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں نئے ضم شدہ اضلاع ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ملک کے دیگر حصوں سے بہت پیچھے ہیں جبکہ دوسری جانب پورے صوبے میں باصلاحیت نوجوانوں کی بڑی تعداد میں استعداد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پالیسی ان وسائل سے زیادہ سے استفادہ حاصل کرنے توجہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے عالمی بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر میلنڈہ گڈ نے خیبر پختونخوا حکومت کے ا قدامات کو سراہا اور یقین دلایا کہ عالمی بینک ان کی کامیابی کے لئے بھی معاونت فراہم کرے گا۔ Jaaz کے علی نصیر نے اس پالیسی میں نجی سرکاری شرکت کی فراہمی کو بھی سراہا۔ تقریب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پیشے سے وابستہ ماہرین، کاروباری اور تعلیمی ماہرین نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔


شیئر کریں: