Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انمول موتی …………عماد الدین

Posted on
شیئر کریں:

کچھ دن پہلے ادارہ جاتی مصروفیات کے سلسلے میں بونی جانا ہوا۔ واپسی پر راستے میں ایک مسافرپر نظر پڑی جو چترال جانے والی گاڑیوں سے لفٹ مانگ رہاتھا لیکن کوئی رک کر انہیں اپنی گاڑی میں بٹھانے پر تیار نہیں تھا۔ میں نے اپنے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا اور اس مسافر کو اپنے ساتھ بٹھالیا۔ ان سے دو دفعہ پہلے بھی میری سرسری ملاقات تو ہوچکی تھی لیکن میں ان کے بارے میں تفصیل سے کچھ نہیں جانتاتھا۔ باتوں باتوں میں انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے پردہ اٹھالیا۔ جسے سن کر چند لمحوں کے لئے میں بے بس کی تصویر بنا رہا۔ میرے پاس اس عظیم انسان کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھاسوائے اس کے کہ میں اپنی سیٹ سے اتر کر پچھلی نشست پر آگیا اور انہیں آگے بٹھا دیا۔ اگر میں اس وقت صدر پاکستان، وزیر اعظم یا کم از کوئی وزیر بھی ہوتا۔ انہیں اعزازات کے ساتھ انعام واکرام سے نوازتا۔ لیکن کیا کروں یہ ان کی بدنصیبی تھی کہ وہ لیٹروں اور ڈاکوؤں کی اس ملک میں پیدا ہوا تھا جہاں کسی وزیر کو اربوں روپے کے کرپشن میں پکڑا جائے تو چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجائے بڑے فخریا انداز میں وکٹری کا نشان بنا کر میڈیا کا منہ چڑاتا ہے۔ اور اگلی مرتبہ اس سے بھی بڑا کوئی عہدہ ملتا ہے۔ یہ ایسی دھرتی ہے جہاں دولت، ثروت، ڈکیتی اور غبن کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ آئیں پاکستان کوبوٹ تلے روندنے والے کو ہی حکمرانی کا حق دار ٹھہرایا جاتا ہے جو غداری کا مرتکب ہو۔ اسے سرکاری پروٹوکول ملتا ہے۔ عدلیہ کے بارے میں تعمیری تنقید کرنے والے کو توہین عدالت کی پاداش میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ فوج میں اصلاحات لانے کی کوشش کرے تو غدار وطن کا لیبل لگتا ہے۔ اگر حکمرانوں کے کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھایا جائے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ صلع کی سطح پر بھی جب کوئی بڑی تقریب ہوتی ہے تو انتظامیہ والے ایک دوسرے کو ایوارڈ سے نوازتے ہیں۔ اور دیکھنے والے سوچنے پرمجبور ہوجاتے ہیں کہ ملکی یا ضلعی سطح پر انتظامیہ والوں نے عوام کی نظروں سے اوجھل ہو کر کونسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کو بنیاد بنا کر آپس میں ایوارڈ ایسے تقسیم کئے جارہے ہیں جیسے سیلاب زدگان میں کمبل تقسیم کئے جارہے ہوں۔ ایسے مردہ ضمیر حکمرانوں کے درمیان حوالدار رحمت خان جیسے انسان کو کون پوچھتا ہے۔

رحمت خان 1957ء کو یارخون کے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں یُوکم میں پیدا ہوئے۔ 1979ء میں پاکستان آرمی میں بحیثیت سپاہی شمولیت اختیار کی۔ وہاں انہیں اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملا اور بحیثیت ایتھلیٹ اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی منوایا۔
1984ء تا 1993ء آٹھ مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو بلندیوں میں لہرایا۔ جن ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی ان میں چار مرتبہ انڈیا، تین مرتبہ چین ایک مرتبہ کولمبیا، ایک بار جرمنی، ایک بار سری لنکا، دو مرتبہ نیپال، چار مرتبہ بنگلہ دیش او رایک مرتبہ آسٹریلیا شامل ہیں۔
اپنے کینیڈا کے دورے کے بارے میں بتایا تو میرا سر فخر سے اور بلند ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جنرل ضیا الحق کی صدارت کے زمانے میں 9 کھلاڑیوں پر مشتمل ایک ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میس شرکت کے لئے کینیڈا روانہ ہوئی۔ وہاں پہنچتے ہی پانچ کھلاری کیمپ سے بھاگ گئے اور یہ کہتے ہوئے رحمت خان کو بھگانے کی کوشش کی کہ پاکستان ہمیں کیا دے گا آو کینیڈا کے کسی کونے میں جاکر ڈالر کمائیں جب ڈالر آپ کے پاس ہوں گے تو ہر کوئی آپ کی قدر کرے گا۰ لیکن فرزند چترال رحمت خان کا ضمیر زندہ تھا۔ اسے اپنے ملک اور علاقے کی بدنامی کیسے گوارا ہوسکتی ہے۔ ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس مقابلے میں انہو ں نے کانسی کا تمغہ حاصل کرکے اپنے منیجر اور چار کھلاڑیوں سمیت پاکستان پہنچ گئے۔ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے انہیں فوراً GHQ طلب کیا۔ جب وہاں پہنچے تو جنرل صاحب نے اپنی چھڑی رحمت خان کے پیٹ سے لگا کر کہا کہ تم پاکستان کیوں واپس آگئے ان کے ساتھ بھاگے کیوں نہیں۔ رحمت خان نے جواب دیا کہ اگرچہ میں چترال کے دور افتادہ پسماندہ گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں لیکن میرا ضمیراتنا .پسماندہ اور میری خودی اتنی گری ہوئی نہیں ہے کہ میں اپنے ملک سے غداری کروں۔ اس جواب پر ضیائالحق صاحب نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا اور اپنے ملٹری سیکریٹری سے کہا کہ آئندہ چترال کے لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوج میں شامل کیا جائے۔
نجانے رحمت خان جیسے کتنے لوگ حکومت کی بے رخی کا ماتم کرتے گمنامی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کاش! ہمارے حکمرانوں کو اتنی ہمت اور توفیق ہوتی کہ ایسے لوگ کسی انمول موتی سے کم نہیں ہوتے ۔ ان کی قدر، پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہمارا قومی فریضہ ہے۔ میرؔ نے بجا کہا ہے۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں


شیئر کریں: