Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحت کے شعبے میں تبدیلی کے آثار…….. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔جسے ہمارے کچھ دوست تبدیلی کے آثار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں خاتون ٹیلی فون آپریٹر کے کروڑ پتی ہونے پر ہم انگشت بدندان تھے کہ اسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ کسی نے بیٹھے بٹھائے انہیں کروڑ پتی بنا دیا اور ہم میں کونسی برائی ہے کہ کوئی منہ ہی نہیں لگاتا۔اسی مخمصے کے دوران ایک اور دھماکہ خیز خبر آئی کہ اسی اسپتال میں ایک سیکورٹی گارڈ نے ڈاکٹر کا منصب سنبھال کر مریضوں کا طبی معائنہ شروع کردیا ہے۔اسے ماحول کااثر کہیں یا دکھی انسانیت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار۔ کہ ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں گارڈ نے اسٹیتھو سکوپ گلے میں ڈالا اورمریضوں کا معائنہ کرنے لگا۔ ابھی اس خبر کی سیاسی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ صوبے کے سب سے بڑے طبی مرکز میں دوائی باجی یعنی نرسوں کی لڑائی کی خبر نے بہت سے لوگوں کے کان کھڑے کردیئے۔ دوائی باجی نرس کے انگریزی نام کاآسان اردو ترجمہ ہے جسے ہمارے ایک دوست نے تخلیق کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے قومی زبان میں عام فہم نام کوئی کمی تھوڑی ہے۔جو ہم انگریزی نام استعمال کریں۔ انہوں نے ائر ہوسٹس کا نام فضائی باجی، نرس کا دوائی باچی اور لیڈی ٹیچر کا پڑھائی باجی نام تجویز کیا ہے۔ ابھی نرسوں کی لڑائی کی وجوہات کا پتہ چلانے اور اس کے ممکنہ نتائج پر تبصرے جاری تھے کہ جنوبی ضلع کرک سے تازہ خبر آئی ہے جو کافی دلچسپ ہونے کے ساتھ ہوش اڑانے والی بھی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ کرک کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال میں نائب قاصد نے سرجن کی ذمہ داری سنبھال لی۔ لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں نائب قاصدر نے خاتون مریضہ کا آپریشن کرڈالا۔ اسپتال کے کلاس فور ملازم عبدالروف کے ہاتھوں گائنی آپریشن تھیٹر میں آپریشن کی وڈیو وائرل ہوگئی تو محکمہ صحت کے حکام بالا کے ہاتھوں سے سارے طوطے اڑگئے۔ فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیٹی بنادی گئی اور کمیٹی کو سات دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔حالانکہ معاملے کو سات دن تک طول دینے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھی۔ آپریشن کے لئے مریضہ کو تیار کیاگیا۔ تو چپڑاسی نے حیرت انگیز جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن کرڈالا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپریشن کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ چھری قینچی چلانے والا کوئی بھی بندہ چیر پھاڑ سکتا ہے۔ اس پر ایک ہندو شاعر کا مشہور مصرعہ یاد آگیا۔ کہتا ہے کہ
ملے گی شیخ کو جنت مجھے دوزخ عطا ہوگا۔۔ بس اتنی بات ہے جس کے لئے محشر بپا ہوگا۔
ڈاکٹروں کے بارے میں مزید کچھ لکھ کر ہم اپنی جان کا رسک نہیں لے سکتے ۔اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں کہ ان انہونی وارداتوں کی انکوائری حکومت بے شک کرے۔ لیکن سب سے پہلے اس بات کی تحقیقات کرے کہ کیا کے ٹی ایچ کے سیکورٹی گارڈ نے مریضوں کا درست معائنہ کیا تھا اور کرک اسپتال کے چپڑاسی کے آپریشن سے مریضہ کو افاقہ ہوا تھا۔ اگر دونوں نے ٹھیک کام کیا تھا تو انہیں انعام و اکرام سے نوازنا چاہئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے فرائض بخوبی نبھائے بلکہ اپنی حیثیت سے بڑا کام کرکے دکھایا۔ حسن کارکردگی ایوارڈ کے لئے ان کا نام بھیجا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں سارا کام الٹا ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا قول ہے کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جہاں سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں‘‘لیکن یہ قول تمام سرکاری ملازمین پر صادق نہیں آتا۔ چند سرکاری ملازمین ایسے بھی ہیں جن کی قابلیت، فرض شناسی اور دیانت داری کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان مثالوں کو اپنے لئے کوئی قابل تقلید نہیں سمجھتا۔یہاں کام کرنے والوں کو بے وقوف اور کام چوری کرنے والوں کو ہوشیاراور چالاک گردانا جاتا ہے۔ جو لوگ مریضوں کے
ساتھ ہمدردی کرتے ہیں۔ انہیں انعام دینے کے بجائے نوکری سے ہی فارع کرنا بھلا کونسی دانشمندی ہے۔ البتہ ان لوگوں سے ضرور پوچھ گچھ ہونی چاہئے جن کی غیر موجودگی کے باعث بے چارے گارڈ اور چپڑاسی کو ڈاکٹر کی ذمہ داریاں نبھانی پڑیں۔نتیجہ اس ساری بحث کا یہ ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ کچھ نہ کچھ تبدیلی تو آ ہی گئی ہے۔


شیئر کریں: