Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر خزانہ کے پی و دیگروزراء کا 100روزہ پلان کے حوالے سے مزاکرے سے خطاب

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )خیبر پختونخوا میں شفاف طرز حکمرانی کی نئی روایت قائم کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آئندہ5 سالوں میں عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور منشور پر عملدرآمد کے لئے پہلے 100 دنوں میں ایک جامع اور قابل عمل پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت نہ صرف مقررہ اہداف کو حاصل کیا جائے گا بلکہ حکومتی کارکردگی کو عوام کے سامنے رکھتے ہوئے اسے ہر لمحہ جوابدہ بھی بنایا جائے گا۔پاکستا کی تاریخ میں ماضی میں کسی بھی سیاسی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعدنہ ہی اپنے منشور پر بات کی اور نہ اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے رکھا ہے۔100 دنوں کی منصوبہ بندی کے تحت حکومت نے اگلے پانچ سال کے لئے بہتر سمت کا تعین کردیا ہے جس کے حصول کے لئے نہ صرف وزیروں،مشیروں اور حکومتی مشینری میں شامل تمام افراد کی بھرپور کاوشیں متقاضی ہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد اور باالخصوص نوجوان طبقے کی معاونت سے ہی حکومت اس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ اور 100 روزہ پلان کے فوکل پرسن تیمور سلیم جھگڑا نے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور میں منعقدہ مذاکرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنی نوعیت کے منفرد مذاکرے کے موقع پرپہلی مرتبہ خیبر پختونخوا حکومتی کابینہ کے 5 ممبران نے خیبر پختونخوا حکومت کے 100 روزہ پلان اورکارکردگی سے متعلق صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور طلباء کو آگاہ کیا ۔خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ،وزیر بلدیات ودیہی ترقی شہرام خان ترکئی،وزیر قانون سلطان محمد خان،وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ضیاء اللہ بنگش، معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وآئی ٹی کامران بنگش نے مذاکرے میں شرکت کی۔اس موقع پر محکمہ بلدیات سے متعلق شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ100 روزہ پلان کے تحت بلدیاتی نظام کو مزید موئثر بنایا جائے گاتاکہ اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کیا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ناظم کا انتخاب براہ راست کیا جائے گا اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو ختم کرکے میونسپل اور سوشل سروسز کو تحصیل کی سطح پر لے کر جائیں گے،انہوں نے کہا کہ ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلزکو مزید بااختیار بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ 100 روزہ پلان کے تحت پشاور کو جدید ترقی یافتہ شہر بنانے سمیت صوبے کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی ترقی کے لئے بھی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وآئی ٹی کامران بنگش نے100 روزہ پلان کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا نے ڈیجیٹل پالیسی کا اجراء کیا،انہوں نے ڈیجیٹل پالیسی کے خدوخال سے شرکاء کو آگاہ کیا،معاون خصوصی نے کہا کہ صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جائے گا،سرکاری دفاتر میں کاغذی کاروائی میں وقت اور پیسے کے ضیاع کو روکنے کے لئے پیپر لیس ورکنگ کو متعارف کرایا جائے گا۔صوبے میں تیسرے آئی ٹی پارک کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے آئی ٹی سے وابستہ افراد کو بھرپور مواقع فراہم ہوں گے۔تعلیم کے شعبے میں 100 روزہ پلان کے تحت کی جانے والی منصوبہ بندی سے متعلق وزیر اعلیٰ کے مشیر ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت نے تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں اس شعبے میں ہمارے صوبے نے دیگر صوبوں پرسبقت حاصل کی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اسی معیار اور تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مزید بہتری کے لئے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بھرپور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے میرٹ کے تحت شفاف طریقے سے 47 ہزار اساتذہ بھرتی کئے گئے۔سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کیا ہے جس کی بدولت ان سکولوں میں داخلے کی شرح میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے ساتھ سکولوں میں فنی تعلیم شروع کرنے کے لئے بھی منصوبہ بندی کی ہوئے ہے۔مشیر تعلیم نے کہا کہ حکومت نجی سکولوں کی مخالف نہیں کیونکہ وہ بھی تعلیم کی فراہمی میں کردار ادا کر رہے ہیں،پرائیویٹ سکولوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔اس موقع پر وزیر قانون نے 100 روزہ پلان کے تحت محکمہ قانون کی جانب سے کی جانے والی منصوبہ بندی اور اقدامات سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت کی طرح موئثر قانون سازی کے لئے پالیسی مرتب کی ہے۔انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے لئے ڈیٹا بیس کا قیام عمل میں لانے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اطلاع درج کرنے کے لئے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ میں ٹول فری نمبرقائم کیا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی کی تمام قائمہ کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور ان کے ممبران بھی مقرر کر دئے گئے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ لاء آفیسرز کی تعیناتی غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ سالہا سال سے چلنے والے کیسز کوجلد نمٹانے کے لئے اصلاحات لے کر آرہے ہیں اور اس سلسلے میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔سروس ڈلیوری کے معیا ر کو بہتر بنانے کے لئے محکمہ قانون کی ری اسٹرکچرنگ کی جا رہی ہے اور ڈائریکٹوریٹ آف لٹیگیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے 100 روزہ پلان کے تحت دیگر شعبوں کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی اور اقدامات سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 100 روزہ پلان میں صوبے میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی اور وہاں کے عوام کو صوبے کے دیگر شہریوں کے مساوی حقوق فراہم کرنے اور ان کا معیا ر زندگی بلند کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے تاکہ انضمام کی صورت میں ہونے والی تبدیلی کا ان اضلاع کے عوام کو حقیقی طور پر احساس ہو۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ضم ہونے والے اضلاع کے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے 1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت ان کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔صحت انصاف کارڈ کو توسیع دیتے ہوئے ضم ہونے والے اضلاع کے تمام خاندانوں کو یہ کارڈ جاری کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہمارے آنے والے کل ان ہی سے وابستہ ہے،حکومت نے یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے 5 ارب کی خطیر رقم مختص کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے اپنے وسائل سے آمدن میں اضافے کے لئے حکمت عملی وضع کی گئی ہے ،صوبائی وزیر نے کہا کہ جب تک صوبے کی اپنی آمدن میں اضافہ نہیں ہوگا معاشی استحکام کا حصول ناممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محاصل میں اضافے کے لئے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے تحت ٹیکس نظام کو ریگولرائز کررہے ہیں۔خیبر پختونخوا کو کاروبار کے لئے موزوں اور سرمایہ کاری کے لئے ساز گار بنانے کے لئے اگلے دو سال میں کاروبار شروع کرنے کے لئے تمام شرائط کو انتہائی آسان بنا دیا جائے گا۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کو ترقی سے ہمکنار کرانے کے لئے سیاست سے بالاتر ہوکر آگے بڑھنے کی سوچ کے ساتھ کام کرناہوگا ۔بعد ازاں طلباء اور نوجوانوں نے صوبائی وزراء سے حکومتی کارکردگی اور 100 روزہ پلان سے متعلق مختلف سوالات بھی کئے جن کے انہوں نے مفصل جوابات بھی پیش کئے۔صوبائی کابینہ کے ممبران نے مذاکرے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے منتظمین کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی مسقبل میں بھی ایسی مزید نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔


شیئر کریں: