Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کالاش قبیلے کی معروف تہوار چوموس کالاش کے تینوں ویلیز میں جاری

    December 12, 2018 at 6:35 pm

    چترال ( محکم الدین ) دُنیا کی قدیم ترین اور منفرد تہذ یب و ثقافت کے حامل کالاش قبیلے کے معروف تہوار چوموس ( CHOW MOS ) کے مختلف رسوم کا افتتاح ہو گیا ہے ۔ چترال کے کالاش وادیوں میں سردی کے باوجود تہوار کی خوشیاں جاری ہیں ۔ کالاش لڑکیاں چلغوزے کی شاخوں کو جلاکر اُس آگ کے گرد رقص کر رہی ہیں ۔ تو لڑکے بھی اس خوشی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ وادی میں ہر طرف خوشی کے گیت گائے جارہے ہیں ۔ کالاش مردو خواتین اور بے بچیوں نے تہوار کیلئے نئے کپڑے تیار کئے ہیں ۔ اور رشتے داروں کو مختلف تحفے تحائف بھیجے جارہے ہیں۔اور آنے والے مہمانوں کی تواضع کی جارہی ہے فیسٹول سے لظف اندوز ہونے کیلئے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا سلسہ جاری ہے ۔ فرانس سے تعلق رکھنے والوں سیاحوں کی ٹیم بھی اس رسم میں شرکت کی ۔ اور رات کو ہونے والی رقص میں حصہ لیا ۔ جبکہ فیسٹول کے آخری دنوں میں بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے ۔ چوموس تہوار دس دن جاری رہنے کے بعد 22دسمبر کی شام بمبوریت ویلی میں اختتام پذیر ہو گا ۔ چوموس کالاش قبیلے کا سب سے بڑا سرمائی مذہبی تہوار ہے ۔ جو ماہ دسمبر کے وسط سے نئے سال کی آمد سے نیک توقعات کے تحت منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر قبیلے کے لوگ اپنے دیوتا مالوش سے اپنوں کی خیریت و کامیابی ،فصلوں مال مویشیوں میں اضافے کی دعاؤں کے ساتھ ارواح کو یاد کرتے ہیں ۔ اور اُن کے نام پر صدقے دیتے ہیں ۔ گاؤں کو بپتسمہ ( پیوری فائی) دیا جاتا ہے ۔ جس کے بعد غیر مسلموں کے علاوہ کسی کو بھی گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو تی۔ اور غلطی سے کوئی مسلم گاؤں میں داخل ہو تو اُ س سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے ۔ فیسٹول میں لومڑی کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اور گاؤں کے لوگ جب رسم کے مطابق قریبی پہاڑوں سے لومڑی بازیاب کرتے ہیں ۔ تو اُس کی رفتار اور سمت سے نئے سال کے بارے میں پیش گوئی کی جاتی ہے ۔ کالاش دیہات سے تمام لوگ چھارسو ( ڈاسنگ پلیس ) میں جمع ہوتے ہیں ۔ اور مردو خواتین مل کر رقص کرتے ہیں ۔ تہوار کے اکثر رسوم گھروں کے اندر انجام پاتے ہیں ۔ لڑکے لڑکیاں گاؤں کی حدود میں مخصوص مقامات میں آگ جلاکر رات گئے تک گیت گاتے خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ چوموس تہوار میں آگ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اور تہوار کی پہلی رسم “سرازری” چلغوزے کی شاخوں کو جلا کر کیا جاتا ہے ۔ جبکہ قبیلے کے بزرگ اس موقع پر نئے سال کے سورج کو طلوع ہوتے دیکھتے ہیں اور اپنے مشاہدات ، تجربات اور علم کے مطابق نئے سال کے حوالے سے توقعات اور خدشات کا اظہار خیال کرتے ہیں ۔ جن پر قبیلے کے لوگ مکمل یقین کرتے ہیں ۔ تہوار کے آغاز میں بکروں کی قربانی دے کر اُن کا خون دیوتا مالوش میں چھڑک دیا جاتا ہے ۔جس سے اُن کے عقیدے کے مطابق بڑا دیوتا ” بالامائن” وادی میں داخل ہو جاتا ہے ۔ ان دنوں تہوار کے مختلف رسوم کی آدائیگی کا سلسلہ جاری ہے ۔


     

  • error: Content is protected !!