Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے کے ہرحلقے کے سکولوں‌اور ہسپتالوں‌میں اسٹاف کی کمی کو فوراپوراکیا جائیگا..وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے کے ہر حلقے کے سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی اور کمی کو فوراً پورا کیا جائیگا اسطرح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں عملے کی حاضری اور ڈاکٹروں کی کمی کو بھی بہت جلد پورا کیا جائے گا۔ ہر حلقے کے ایم پی اے کو فنڈ کی فراہمی بھی بہت جلد ممکن بنائی جائے گی جس کے لئے پہلے سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایریگیشن ، سی ایند ڈبلیو اور دیگر محکموں کو عوامی فلاحی کاموں کیلئے بھی اضافی فنڈز کا اجراء بہت جلد ممکن بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ان باتوں کا اظہارچارسدہ سے آئے ہوئے ایک وفد جسمیں ایم پی اے عبدالشکور خان اور ایم پی اے عارف احمد زئی کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤ س پشاور میں ایک ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات کے دوران دونوں ایم پی ایز نے وزیراعلیٰ کو اپنے اپنے حلقے کے حواے سے مختلف نوعیت کے مسائل سے آگاہ کیا جس میں سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا ، چارسدہ کے چھوٹے ہسپتالوں خاص کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال چارسدہ میں عملے اور ڈاکٹر کی تعیناتی کرنا ، اپنے اپنے حلقے میں تعلیم ، صحت ودیگر ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کے اجراء کے مسائل زیر بحث آئے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ ہر حلقے کو بہت جلد اپنا اپنا حصہ پورا ملے گا، انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز کا تمام محکموں کے سربراہوں کے ساتھ بہت جلد ایک اجلاس منعقد کیا جائیگا جس میں ہر ایم پی اے اپنے حلقے کے مسائل کے حوالے سے متعلقہ محکمے سے گفت و شنید کرے گا، انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل ہر حلقے میں ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور ہسپتالوں میں بورڈ آف گورنر ز کیلئے ایک لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہسپتالوں میں بورڈ آف گورنر زکے لئے ایک ماڈل بنایا جائے گا اور اس پر ہوم ورک کر کے عوامی مسائل کے تدارک کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول اور ہسپتالوں میں کلاس فور کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی اور مستحق افراد کو ان کے حصے کے مطابق روزگاربھی مہیا کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دوبارہ تخصیص کے بعد بہت جلد تمام ایم پی ایز کو فنڈز کا اجراء ممکن بنایا جائے گا۔

دریں اثنااوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے تمام سرکاری اداروں میں انصاف اور میرٹ پر فیصلہ سازی کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ہمارا مشن تیز تر ترقی ہے ۔ ہماری حکومت بہتر حکمرانی کے سلسلے میں کچھ بنیادی اُصولوں پر مبنی ہے جن میں شراکت داری ، قانون کی حکمرانی ، احتساب ، شفافیت ، جوابدہی ، اتفاق رائے پر مبنی اچھی حکمرانی ، برابری ، ویلفیئر کا تصور ، موثر کارکردگی ، مانیٹرنگ اور سٹرٹیجک وژن شامل ہیں۔ ہم صوبے کو معاشی خود کفالت اور صوبے کے وسائل میں قدرتی برتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ہم سب مل کر کام کریں گے ۔ یہ ہمارا ملک ہے اور اس کو ہم ہی مل جل کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ پشاور کے تحت 24 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ آپ نہ صرف مسلسل علم کی جستجو میں رہتے ہیں بلکہ علم کو عملی شکل دے کر عوامی خدمت کے نئے رموز متعارف کراتے ہیں۔ آپ کا کسی سیاسی جماعت یا گروہ بندی سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ پیشہ ورانہ انداز میں منتخب نمائندوں کو پالیسی بنانے میں ایماندارانہ رائے دیتے ہیں ۔ ہماری حکومت نے تمام سرکاری اداروں میں انصاف اور میرٹ پر فیصلہ سازی کی بنیاد رکھی ہے ۔ ہم نوجوان نسل کی صلاحیتیں تعمیری شعبوں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت بہتر حکمرانی کے سلسلے میں 11 بنیادی اصول پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف نے عوامی ضروریات ، توقعات اور خواہشات کے مطابق خدمات کی فراہمی کیلئے تمام اداروں کو نچلی سطح پر فعال کیا اور مقامی حکومتوں کا کامیاب نظام متعارف کرایا اور ہمارے حکومتی نظام میں سب قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا ہے۔ کنفلکٹ آف انٹرسٹ جیسے قوانین پاس کرکے اختیارات اور وسائل کے غلط استعمال کے آگے قانونی دیوار کھڑی کردی ہے ۔ اس کے علاوہ انفارمیشن تک رسائی کے قانون کے ذریعے اقربا پروری ، ذاتی پسند و ناپسند اور رشوت خوری کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔ اداروں میں سیاسی مداخلت کو ختم کیا تاکہ وہ شفاف طریقے سے حقدار کو حق کی فراہمی یقینی بنا سکیں۔ اُنہوں نے کہاکہ ہم نے حکومت اوراداروں کیلئے چیک اینڈ بیلنس کا نظام متعارف کرایااور اُنہیں عوام کے سامنے جوابدہ بنایاجو کہ تحریک انصاف حکومت کی کامیابی اور شفافیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ صوبائی حکومت نے مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کیلئے Dispute Resolution Councils قائم کئے جن کے ذریعے متعدد تنازعات حل کئے جا چکے ہیں اور مزید بھی اس طرح کے مسائل کے حل کیلئے عمل پیرا ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے میرٹ کی بالادستی کیلئے آزاد اور با اختیار ادارے قائم کئے جو عوامی فلاح اور انصاف کی فراہمی کیلئے بر سر پیکار ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت نے اچھی حکمرانی کیلئے عوامی ویلفیئر کا تصور سامنے لائی اور قانون سازی ،فیصلہ سازی اور اداروں کی فعالیت کے اقدام کا مرکز عام آدمی کو بنایا ہے۔ہماری حکومت نے انسانوں میں سرمایہ کاری کا کلچر متعارف کرایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جزا اور سزا کا عمل بھی متعارف کرایا ہے۔ اداروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے آزاد اور با اختیار مانیٹرنگ یونٹس بنائے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ میں خود صوبے کے چھوٹے بڑے پراجیکٹس ،ہسپتالوں اور تھانوں کو مانیٹر کرنے کیلئے اچانک دورے کرتا ہوں تاکہ عوام کو ریلیف دینے میں کوئی غفلت نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکومت نے حکمرانی کی بنیاد مستقبل کے چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی ہے تاکہ صوبے کو معاشی خود کفالت کی طرف لے جایا جاسکے۔اُنہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہمیں صوبے کی وسائل میں قدرتی برتری کی سمجھ بھی ہے اور اس کو حکومت بروئے کار لائے گی۔ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں تبدیلی کی منزل کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہے۔ ہم نے صوبے میں تیز رفتار صنعتی ترقی اور دیرپا امن کیلئے مؤثر اقدامات کئے ہیں۔ رشکئی اور حطار اکنامک زونز کے علاوہ صوبے کے 17 اضلاع میں صنعتکاری کا ایک مکمل پلان بنایا۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ سی پیک کے تناظر میں یہ صوبہ معاشی مرکز بننے جارہا ہے ۔ ہم اپنے نوجوانوں کو مناسب تربیت دے کر اس موقع سے مکمل فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ بارڈر فینسنگ ، مشترکہ سرچ آپریشن اور پیشگی اطلاعاتی نظام میں بہتری کی وجہ سے دہشت گردی اور جرائم میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابق فاٹا کے سات نئے اضلاع کو صوبے میں شامل کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے عملی اقدامات اُٹھائے ہیں ۔جوڈیشری ، پولیس ، ایکسائز اور محکمہ مال کے سوا تمام محکمے نئے اضلاع تک پھیلا دیئے گئے ہیں۔بعدازاں وزیراعلیٰ نے پبلک سرونٹس کو سینئر مینجمنٹ کورس کامیا بی سے مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ وہ ملک و قوم کیلئے بہتر پالیسی سازی میں بھرپور مدد کریں گے ۔


شیئر کریں: