Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی کھیل کا زوال………….محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم عالمی کپ کے مقابلے سے باہر ہوگئی۔ہاکی کھیلنے والے سولہ ممالک کی ٹیمیں عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان اپنا پہلا میچ جرمنی سے ایک صفر سے ہار گیا۔ ملائشیاء کے ساتھ میچ ایک ایک گول سے برابر رہا، نیدر لینڈ نے پاکستان کو پانچ ایک سے اور بلجیم نے پانچ صفر سے شکست دیدی اور ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔ پاکستان نے اپنے چار میچوں میں صرف دو گول کئے اور اس کے خلاف بارہ گول ہوئے۔ کھیلوں کی سرپرستی کرنے کی علم بردار تحریک انصاف کی حکومت کوقومی ہاکی ٹیم کی شرمناک اور مایوس کن کارکردگی پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔ایک زمانہ وہ تھا ۔جب ہاکی کے تمام بین الاقوامی اور علاقائی ٹائٹل پاکستان کے پاس تھے۔ سبز لباس میں ملبوس پاکستانی ٹیم جب میدان میں اترتی تھی تو مخالف ٹیموں کو بخار چڑھنے لگتا تھا۔پاکستان کو ہاکی کے میدانوں میں سب سے زیادہ کامیابیاں سمیٹنے کا اعزاز حاصل ہے۔ میکاو کے خلاف جونیر ہاکی ورلڈ کپ میں 55گول کرنے کا عالمی اعزاز شاید کوئی نہ توڑ سکے۔ سہیل عباس کے بین الاقوامی میچوں میں ساڑھے تین سو گولوں کا ریکارڈ بھی ہاکی کھیلنے والوں کے لئے ایک ڈروانا خواب ہے۔ 1971سے 1994تک کا دور پاکستان ہاکی کا سنہرا دور تھا۔ اس عرصے میں پاکستان نے تمام بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کئے۔ پاکستان نے 1971میں عالمی چمپئن کا اعزاز حاصل کرکے اپنی کامیابیوں کے سفر کا آغاز کیا۔ 1978،1982 اور 1994میں عالمی کپ اپنے نام کیا۔ دو مرتبہ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ چیمپئنز ٹرافی میں تین بارسونے، سات بار چاندی اورسات بار کانسی کا تمغہ جیتا۔ 1960میں روم اولمپکس،1968میں میکسیکو اولمپکس اور1984میں لاس اینجلس اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا ۔ اولمپکس میں تین بار چاندی اور دو بار کانسی کے تمغے جیتے۔ سلطان ازلان شاہ کپ میں تین بار سونے، چھ بار چاندی اور دو بار کانسی کے تمغے حاصل کئے۔ ایشیئن چیمپئنز ٹرافی میں تین بار سونے اور دو بار چاندی، ایشیاء کپ میں تین بار سونے، تین بار چاندی اور تین بار کانسی، ایشین گیمز میں آٹھ مرتبہ سونے، تین مرتبہ چاندی اور تین مرتبہ کانسی، دولت مشترکہ گیمز میں ایک بار چاندی اور ایک بار کانسی، ساوتھ ایشئن گیمز میں تین بار سونے اور ایک بار چاندی، افروایشئن گیمز میں ایک بار چاندی اور ہاکی چیمپئنز چیلنج میں ایک بار کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ آج سہیل عباس، سمیع اللہ ، کلیم اللہ، حسن سردار، شہباز سینئر، منظور الحسن، اصلاح الدین، منظور جونیئر، حنیف خان ، شاہد علی خان اور محب اللہ جیسے کھلاڑی کیوں پیدا نہیں ہوتے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہاکی میں سیاست کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ ہاکی فیڈریشن کے پاس نور خان جیسا منتظم نہیں رہا۔ ہاکی کے قومی کھلاڑیوں کوجو معاوضہ ملتا ہے اس میں ہاکی کٹس بھی نہیں خریدے جاسکتے۔ایک معروف سٹیج فن کار نے ہاکی کے کھلاڑیوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ہمارا ہاکی پلیئر گروانڈ میں اترتا ہے تو اس کے ذہن میں بچوں کی تعلیم، بوڑھے ماں باپ کے علاج، بہنوں کی شادی کے اخراجات کا خیال آتا ہے۔ وہ گراونڈ پہنچنے تک سوچ رہا ہوتا ہے کہ ہاکی سے اپنا مستقبل وابستہ کرنا اپنے ہاتھوں مستقبل کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ کونسا کام شروع کیا جائے کہ بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔جب فکر معاش سے پریشان کھلاڑی ہاکی اٹھائے گراونڈ میں جائے گا تو کیا خاک کارکردگی دکھائے گا۔یہی حال سکواش کا ہوچکا ہے۔ جہانگیر خان اور جان شیر خان کے بعد ایک کھلاڑی بھی ایسا پیدا نہیں ہوسکا جو ورلڈ اوپن یا برٹش اوپن کے کوارٹر فائنل تک بھی رسائی حاصل کرسکے۔ ہاکی اور سکواش کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی پہچان بنی ہے۔ جب کرکٹ کے کھلاڑیوں کو لاکھوں کروڑوں کے انعامات، گاڑیوں، بنگلوں اور پرکشش ملازمتوں کے علاوہ سینٹرل کنٹریکٹ کی مراعات سے نوازا جاتا ہے تو قومی کھیل ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں ہوتا ہے۔ حکومت کو عالمی کپ میں قومی ٹیم کی شرمناک کارکردگی کے بعد فوری طور پر ہاکی فیڈریشن کو توڑنا چاہئے اور تمام سلیکٹرز کو برطرف کرکے میرٹ کی بنیاد پر پیشہ ور کھلاڑیوں کو یہ ذمہ داری سونپنی چاہئے تاکہ پاکستان قومی کھیل میں عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔


شیئر کریں: