Chitral Times

Feb 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مولانا عبدالرحیمؒ چترالی اورمحمد علی مجاہد…… تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد عارفین غذری

Posted on
شیئر کریں:

یہ1994 کا واقعہ ہے جب خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جشن شندور میں چیف گیسٹ کی حیثیت سے شرکت کرنے کیلئے شندور تشریف لائیں۔ان کی “ہیلی” شندور کی سرزمین میں لینڈ کرنے کے بعد ہیلی کاپٹر کی جارحانہ آواز تھمتے ہی محترمہ ہیلی سے باہر آگئیں اور ہیلی پیڈ سے وی وی آئی پی(VVIP) چبوترے تک محترمہ کی گاڑی کو ڈرائیو کرنے کی سعادت اس وقت کے صوبہ سرحد(موجودہ کے پی کے) کے وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے حصے میں آگئی۔گاڑی کے چاروں اطراف کمانڈوز کا مخصوص ایکشن، شیرپاؤ کی ڈرائیونگ اور گاڑی کی اگلی سیٹ میں”پنکی” کی شخصیت نے شندور کی حُسن کو دوبالا کردیا۔پولو میچ کے اختتام کے بعد جب جشن شندور کی روایتی تقریب کا آغاز ہوا تو تلاوتِ کلام پاک کے فوراََ بعد معروف اناؤنسر ڈائریکٹر انفارمیشن چترال محمد یوسف شہزاد نے چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر مولانا عبدالرحیم چترالی کو سپاسنامہ پیش کرنے کی غرض سے دعوت دینے کیلئے اچھے بھلے الفاظ پر مشتمل جملے جوڑنے لگے۔اِدھر انھوں نے اپنا جملہ برائے دعوتِ سپاسنامہ مکمل کرہی نہ پایا تھا اُدھر سے وزیر اعلیٰ سرحد نے ہاتھ کے اشارے سے اناؤنسر کو روک لیا۔اناؤنسر کی آواز اچانک اس طرح ٹوٹ گئی جس طرح ہمارے ہاں برقی نظام میں خرابی کی وجہ سے عموماََ”آذان” یا “تقریر” کی آواز رُک جاتی ہے۔اناؤنسر کے آواز کے رُکنے کے ساتھ ہی وی وی آئی پی(VVIP)چبوترے میں دفعتاََ کمانڈوز حرکت میں آگئے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے مولانا چترالی اسٹیج سے غائب ہوگئے۔وزیر اعظم کے خطاب کے بعد معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحیم چترالی اُس وقت سپاسنامہ پیش کرنا چاہ رہے تھے سپاسنامہ پیش کرنا چترال کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے ان کا آئینی اور قانونی حق تھا۔لیکن اس قت کے وزیر اعلیٰ مولانا مرحوم کو اس لئے روک رہے تھے کہ اُن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور ردِ عمل میں مبینہ طور پر مولانا چترالی شیرپاؤ کے چہرے پر زوردار تھپڑ اس لئے رسید کررہے تھے کہ اُن سے اُن کا یہ قانونی حق(کسی دوسرے جماعت سے تعلق کی بناء پر)دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ اور آج بھی کوہِ ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے اُس تھپڑ کے آواز کی صدائے بازگشت اس لئے سُنائی دے رہی ہے کہ ظالم کے سامنے کلمۂ حق کہنا جہاد ہے تو ظالم پر وار کرنا جہادا کبر ہے۔
اس واقعہ کو کئی سال پہلے ماہنامہ شندور کے چیف ایڈیٹر محمد علی مجاہد نے بڑی تفصیل سے رقم کیا تھا۔محمد علی مجاہد مولانا چترالی کے فکری اور روحانی شاگرد گزرے ہیں۔محمد علی مجاہد کے بارے میں مولانا عبدالرحیم چترالی اکثر فرمایا کرتے تھے۔میرے فکری اور روحانی شاگردوں میں محمد علی مجاہد ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ایک دفعہ مولانا چترالی سور لا سپور میں ہرمحفل کو زعفران زار بنانے کا ماہر ریٹائرڈ صوبیدار سرفراز خان المعروف “کمشئی”کے ہاں مہمان ٹھہرے تھے۔جب مجاہد کا ذکر آیا تو مولانا چترالی نے فرمایا “آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک خود ساز اور دوسری تاریخ ساز۔۔۔۔۔۔!خود ساز آدمی کی تو جہات کا مرکز اس کی اپنی ذات ہوتی ہے اور تاریخ ساز آدمی کی تو جہات کا مرکز وسیع تر انسانیت۔۔۔۔۔۔۔ خود ساز آدمی کی سوچ، اس کی ذاتی مصلحتوں کے گرد گھومتی ہے۔۔اس کی جذبات وہاں بھڑکتے ہیں۔جہاں اس کے ذاتی فائدے کا معاملہ ہو اور جس معاملے کا تعلق اُس کے ذاتی فائدے سے نہ ہو وہاں اُس کے جذبات میں کوئی جوش نہیں آتا کوئی گرمی پیدا نہیں ہوتی۔خود ساز آدمی اپنی ذاتی نفع کیلئے ہر دوسری چیز کو قربان کرسکتا ہے۔خواہ وہ کوئی اُصول ہو یا کوئی قول و قانون۔۔۔خواہ وہ کوئی اخلاقی تقاضا ہو یا کوئی انسانی تقاضا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی ذات کیلئے ہر دوسرے تقاضے کو قربان کرسکتا ہے۔
تاریخ ساز انسان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ برتر مقصد کیلئے جیتا ہے وہ اُصولوں کو اہمیت دیتا ہے وہ انسانوں کی وسیع تر مفاد کیلئے تڑپتا ہے۔تاریخ سازی کیلئے وہ افراد درکار ہیں جو خودسازی کی خواہشات کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر راضی ہوجائیں۔جو صرف اپنے فرائض کو یاد رکھیں اور اپنے حقوق سے دستبرداری پر خود اپنے سے دستخط کریں۔یہ کہتے ہوئے مولانا نے اپنے چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائی اور گویا ہوئے، مجھے فخر ہے تقریباََ میرے تمام شاگردوں میں تاریخ سازی کے اوصاف موجود ہیں۔اگر میرے تمام شاگردوں کو معیار کے پیمانے پر تولا اور پرکھا جائے تو محمد علی مجاہد کا نام میں سرفہرست رکھنے کی تجویز دوں گا”
کھوار زبان و ادب کی ترقی و ترویج کیلئے بے مثل کردار ادا کرنے والی جمہورِ اسلام کھوار جب نامعلوم وجوہات پر منظر عام سے غائب ہوگئی تو اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ماہنامہ شندور کو وجود دے کر اور اس کے نصف حصے کو کھوار زبان کیلئے مختص کرنے کا اعزاز بھی محمد علی مجاہد کے حصے میں آیا۔جن کے بارے میں مولانا چترالی(مرحوم) نے فرمایا تھا۔مجاہد ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔
دُنیا کی بلند ترین پولوگراؤنڈ شندور کو مسلۂ کشمیر بنا کر جانبین جب سیاسی دکان چمکانے میں سرگرم عمل تھے اور جشن شندور کو بائیکاٹ کی نذر کرکے اُس کیلئے مختص فنڈز کو خُرد بُرد کرنے میں مصروف تھے۔عین اس وقت خود سازوں کی ہجوم میں سے پھر وہی تاریخ ساز میدان میں آیا۔انھوں نے گلگت بلتستان اور چترال کے منتخب نمائندوں، سماجی کارکنوں اور دونوں طرف سے سیاحت کے ذمہ داروں کی اُنگلی پکڑ کر انھیں رُوبرو بٹھا کر یہ اُلجھی ہوئی گُتھی سلجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ دُنیا میں ملکوں، قوموں، صوبوں اور ضلعوں کے مابین تنازعات جنم لیتی ہیں اور غلط فہمیاں بھی نموپاتی ہیں۔دُنیا میں اس قسم کے تنازعات کے حل کیلئے عدالتیں موجود ہیں۔باؤنڈری کمیشن کا قیام ممکن ہے لیکن یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ قوموں اور صوبوں کے مابین ایشوز کو ہوا دے کر نفرت کی دیوار کھری کردی جائے۔شندور گلگت بلتستان اور چترال کی مشترکہ ثقافت کی تشہیر کیلئے عملی تجربہ گاہ ہے جب دونوں طرف سے باہمی اخوت، ہم آہنگی اور مختلف ثقافتی شوز کا بھرپور مظاہرہ نہ ہوگا تو دُنیا بھر سے کون بیوقوف ہے جو چند ناعاقبت اندیشوں کے نرغے میں پھنسے فسادیوں کا فساد دیکھنے کیلئے فساد خانہ میں آجائے۔شندور کے سبزہ زار کی زندگی دو ماہ سے زیادہ نہیں۔اگر ان دو ماہ میں بھی اس کو سیاحوں کیلئے جنت نہ بنائی جائے تو اکتوبر سے لیکر اپریل تک جہنم کا نمومہ یہ خود پیش کرتا ہے۔محمد علی مجاہد کی کاوشوں اور کوششوں کی بدولت مسلسل بائیکاٹ کے بعد دوسری بار جشنِ شندور اپنی روایتی آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ منایا گیا۔
یوں جب غذر اور چترال کے سماج میں عموماََ مردوں اور خصوصاََ خواتین کی خودکشی ایک وباء کی شکل اختیار کرنے لگی آئے روز کہیں نہ کہیں صنف نازک اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا چراغ گُل کرکے سماج اور معاشرے میں انتہائی بدترین عمل کو رواج دینے لگی تو اُس وقت ہر ایک مقامی رپورٹر اور مقامی صحافی اس خبر کو مرچ مصالحہ لگا کر اخبار کی زینت بنانے کی حد تک محدود رہا۔ان میں سے اکثر و بیشتر تو بڑی ڈھٹائی سے یہ من گھڑت قیاس داغتے رہے کہ “موصوفہ کا دماغی توازن صحیح نہیں تھا”شومئی قسمت سے کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی کہ خودکشی پاگلوں کا کام نہیں بلکہ یہ اپنی ذات کے ساتھ برپا ہونے والی ظلم و بربریت اور جبرو تشدد سہنے والی مظلوموں کا آخری حربہ ہے۔معاشرے کو یہی درس دیتے ہوئے وہی شخص پھر میدانِ عمل مین کود پڑا جن کے لئے کسی زمانے میں بطلِ حرئیت مولانا عبدالرحیم چترالی نے شخصیت نہیں بلکہ تحریک کی پیشن گوئی کی تھی۔انہوں نے شہروں، دیہاتوں، سکولوں، کالجوں اور مذہبی اداروں میں”زندگی ایک بے بہا نعمت ہے” کے عنوان سے سیمنار شروع کردی۔اُن کی جان گسل محنت، اُن کی تحقیق اور اُن کی مشاہدے کا خلاصہ یہ ہے “ہر خودکشی کے پس منظر میں ایک طویل کربناک داستان چُھپی ہوئی ہے لیکن ہمارے سماج اور ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم خودکشی کا مرتکب اور اُن سے منسوب تمام بنیادی اسباب اور محرکات کو درگور کرکے اُن کے قبر پر صرف”پاگل پن” کا کتبہ لگانے پر اکتفاء کرتے ہیں”


شیئر کریں: