Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پس وپیش……. تیری یا د آئی……… تحریر: اے۔ایم۔خان

Posted on
شیئر کریں:

کیا معلوم وقت کس طرح ، کہاں کیسے گزرتا ہے کچھ پتا نہیں چلتا۔ وقت کا ایک حصہ وہ ہوتا ہے جو ہماری دسترس میں ہوتا ہے جسے ہم ایک حد تک اپنی مرضی سے گزارتے ہیں لیکن وقت اپنی رفتار سے چلتا ہے، جس کا دوسرا حصہ، جوکہ قانون قدرت کے مطابق ہوتا ہے، جس میں اِنسانی منصوبہ بندی اور کوشش سے یہ نہ تیز ہوتی ہے اور نہ سست روی کا شکار۔
زندگی میں کچھ ایسے اوقات آتے ہیں جس میں اِنسان کو اپنی اوقات کا پتا چلتاہے ۔یعنی وہ وقت جب ان پڑتی ہے تو وہاں اِنسان کی کوئی بھی کوشش، زور، طاقت اور گریہ وزاری کام نہیں آتی۔ زندگی کے اِس مختصر سفر میں کئی ایک لوگوں کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے اور وہ وقت اور لوگ یاد آتے ہیں جس کے ساتھ کسی نہ کسی طرح وہ اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ یاد آتے رہتےہیں۔ اور یہ اُن لوگوں کی یاد ہی ہوتی ہے جو خوشی اور بعض اوقات دکھ درد کا باعث ہوجاتے ہیں۔
دی لینگ لینڈز سکول وکالج میں اپریل کے مہینے پینل انٹرویو کے میز پر ایک شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی جو بعد میں ایک دوستانہ اور محبت بھری رفاقت ، گوکہ مختصرتھا، کی ایک یادگار دور کا آغاز تھا۔ شہزادہ فرہاد عزیز(مرحوم) اِس انٹرویو میں مجھ سے پہلا سوال پاکستان کے پہاڑون کے بارے میں پوچھا۔ یہ سوال پاکستان کے پہاڑی سلسلے کے حوالے سے شروع ہوئی اور چترال کے پہاڑوں تک آکر ختم ہوا۔
ایک مہینے بعد، بحیثیت اُستاد، سکول میں کام شروع کی تو فرہاد صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ شہزادہ فرہاد دی لینگلینڈز سکول وکالج میں مارچ 1996 ء سے بحیثیت ریاضی کے اُستاد پڑھاتےتھے۔ تقریباً 20سال پڑھنے اور پڑھانے کا تجربہ اور طالب علموں کے ساتھ اُس کا تعلق قابل رشک تھا۔ نہ صرف وہ سکول کے بچوں کے ساتھ محبت اور دوستانہ رویے پر یقین رکھتا تھا بلکہ اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ اُس کا تعلق اور رویہ بھی منفرد ہوتا تھا۔
گوکہ فرہاد صاحب ریاضی کا اُستاد تھا لیکن شعروشاعری کے ساتھ اُس کا ایک خاص لگاو تھا۔ بسا اوقات اِسٹاف روم میں شعر سننے کی خواہش کا اظہار کرتا ، کبھی کبھار خود بھی شعر پڑھتا تھا، اور جب کوئی شعر پڑھتے وقت اٹک جاتا تھا تو اُسے درست کرنے میں ضرور اضافہ کرتا تھا۔
فرہاد صاحب چائے کا بہت شوقین تھا، اور وہ اپنے لئے کافی چائے لاکر صوفی کو دے دیتا تھا۔ جونہی وہ کلاس سے واپس آتا اور اُس کا کلاس نہ ہو تو وہ چائے بنوانے کیلئے کہتا۔ صوفی اگر فارغ نہ ہو تو وہ اُس سے صرف پانی گرم کرواتا تھا، اور خود اپنے لئے چائے بنانے کو ترجیح دیتا تھا۔ خود چائے بنانے کا ایک وجہ یہ تھا کہ وہ اپنے مرضی سے کافی چائے کے پتے ڈالتے تھے۔ فرہاد صاحب چاہے، بلیک ٹی یا کافی چائے، ہو اِسے تیز بناتی تھی۔ جیسے وہ چائے بنوانے کا آرڈر کرتا تھا تو سب کیلئے بنوانے کیلئے ضرور کہتا تھا۔ ایک دفعہ میرے لئے بھی اُس نے خود کافی چائے تیار کی تو بہت تیز تھا۔ میں نے کہا سر یہ تو بہت تیز ہے؟ مسکرا کر کہا میں نے پھر بھی چائے آپ کیلئے کم ڈالا تھا۔
فرہاد صاحب کا سکول میں طالب علموں کے ساتھ رویہ بہت مختلیف ہوا کرتا تھا۔ جب کبھی کوئی طالب علم کوئی غلطی کرتا تھا تو فرہاد صاحب ہر وقت اُس طالب علم کے ساتھ نرمی سے مسلے کا حل نکالنے کو کہتا۔ اُس کا ہر فیصلہ ، وہ کوئی بھی ہو، طالب علم کی حمایت میں ہوتا تھا جوکہ اُسکا طالب علموں سے محبت کا ایک نمایان اظہار تھا۔ فیصلہ طالب علم کی حمایت میں لینے کے بعد وہ اُس کی بھرپور کاؤنسلنگ کرتا تھا اور آئندہ اُسے ایسے عمل کی صورت میں سزا دینے کے بارے میں بھی اگاہ کرتا تھا۔
فرہاد صاحب کی فطرت میں ایڈونچرزم تھا اور کچھ نئا کر نے کا شوقین تھا۔ وہ بسا اوقات خصوصاً موسم بہار کے موسم میں صبح کے وقت برموغ لشٹ سے اُڑنے کے بعد سکول آجاتا تھا۔ پیراگلائیڈنگ اُس کا ایک پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک دفعہ پیراگلائیڈنگ کے دوران اُس کا ایکسڈنٹ بھی ہوا لیکن معجزاتی طورپر اُس کی جان بچ گئی اور شدید زخمی ہوا اور ایک مہینے سے زیادہ علاج کے بعد وہ سکول آنا شروع کیا۔ وہ اپنے دور کا مشہور پولو پلیر ہوا کرتا تھا اور بعد میں اُس نے پیراگلائیڈنگ میں بھی مہارت حاصل کی تھی ۔ چترال میں اِس ابھرتےفن کو لانے میں شاید وہ پہلا شخص تھا یا اُن چند لوگوں میں شامل تھا جو اِسے چترال میں متعارف کر چُکے تھے۔ فرہاد صاحب کے بعدچترال میں اِس فن کی پزیرائی اب دیکھنے میں آ نہیں رہا ۔
فرہاد صاحب فطرت پسند شخصیت تھا اِس لئے وہ فطرت کو قریب سے دیکھنے کی جستجو میں رہتا تھا۔ ٹریکنگ اُس کا ایک اور پسندیدہ مشعلہ تھا۔ ایک دفعہ ، فرہاد صاحب کے پلان اور انتظام کے مطابق، ہم سکول کے اسٹاف ایک یادگار ٹریکنگ مہم میں شامل ہوگئے جوکہ نو سے دس گھنٹے واک پر مشتمل تھا۔ دوپہر کے بعد ہم نے رات برموغ لشٹ کے ریسٹ ہاوس میں گزار دی ، اور صبح سویرے وہاں سے ٹریکنگ کا آغاز کیا اور شام کے قریب کا وقت تھا ہم شوغور میں پہنچ گئے۔ اِس ٹریکنگ کے دوران اُس کی بدولت وہ دُنیا دیکھ لی جو چترال گول سے لٹکوہ ویلی کے درمیان ایک وسیع علاقے پر مشتمل تھا۔ فرہاد صاحب کو سفر کے دوران ضروریات اور لوازمات کا بھرپور اِدراک تھا اِسی لئے جب بھی سفر کے دوران ہمیں کسی چیز کی ضرورت پڑی اُس نے ہمیں مہیا کر دی۔ شام کے کھانے کا انتظام بھی فرہاد صاحب ہمارے ایک طالب علم کے گھر میں کروائی تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم وہاں سے گاڑی میں واپس چترال آگئے۔ فریاد صاحب کے ساتھ یہ ایک یادگار سفر تھا۔
فرہاد صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ ہر وقت دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کا شوقین تھا۔ ایک مہینے میں کم ازکم ایک یا دو دفعہ اپنے گھر میں کھانے کا انتظام کرنا معمول کی بات تھی۔ اور یہ ضرور کہتا کہ اِس بہانے گپ شپ ہوگی اور اُس کی مہمان نوازی میں ہر محفل یادگار ہواکرتی تھی۔
فرہاد صاحب کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ وہ ہر وقت نہ صرف خود خوش رہتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ گوکہ اُس کے مصروفیات ، دوست، حلقہ احباب اور ذمہ داریان بہت زیادہ تھیں پھر بھی وہ جب بھی سکول میں اور سکول سے باہر ملتا تھا وہ کبھی بھی یہ محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ ضروری کام سے جارہا ہے۔ وہ ہر وقت اِس بات کا اظہار کرتا کہ چلتے ہیں چائے پی لیتے ہیں۔
فرہاد کی ایک نمایان خوبی یہ بھی تھی کہ وہ ہر وقت یہ کوشش کرتا تھا کہ کسی کو کسی بھی طرح کچھ فائدہ ہو۔ وہ ایک مثبت سوچ رکھتا تھا۔ اور یہ اکثر میرے مشاہدے میں آیا کہ وہ ہر وقت کسی بھی شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں ریتا تھا۔
میرے دِل میں اب ایک بات رہ گئی ہے جو اب بھی مجھے یاد ہے۔ دو سال پہلے 23 اکتوبر 2015 کو میرے اسٹاف میرے گھر تشریف لائے ۔ میرے شادی کے اِس موقعے پرشہزادہ صاحب بھی تشریف لائے بعد میں اسٹاف مجھے بتائے اِس کی منصوبہ بندی اورانتظام بھی اُس نے کی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا میرے سارے اسٹاف سکول بس میں پہنچ گئے۔ کھانا کھانے کے بعد، فرہاد صاحب کمرے سے باہر آکر کھڑا ہوا اور گردوپیش کا نظارہ کیا، اور پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ گھر کا خوراک بناکر ہمیں بلائیں۔ میں نے کہا سر ضرور ، میں بھی آپ کو یہی کہنے والا تھا کہ آپ اِدھر تشریف لائے اور ایک گھنٹہ وقت بھی گزار نہیں دی ۔ اُس نے کہا ہم ضرور آئیں گے۔ لیکن وہ دوبارہ آنہیں سکا اور ہم سے رخصت ہوگئی!۔
7 دسمبر2016 کا دِن تھا ۔ فرہاد صاحب سکول آئی اور اسٹاف روم میں ہم سے مخاطب ہوکرکہا کہ میں آج اِسلام آباد جارہا ہوں میرے ساتھ ، آپ کا اسٹوڈنٹ، طیبہ عزیز بھی آرہی ہے۔ اُس نے کہا کہ میں دو دِن بعد واپس آجاونگا پھر ملاقات ہو جائے گی۔ یہ کس کو معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ بہرحال ہم اپنے اپنے کلاسسز کیلئے چلے گئے ۔ میں اپنے کلاس سے واپس آکر اسٹاف روم میں داخل ہوا تو وہ جانے والا تھا۔ میں آیا تو مجھے بھی مخاطب کرکے کہا ، سر ، (فرہاد صاحب ہر استاد کو سر کے لقب سے مخاطب کرتا تھا) میں اب جارہا ہوں ایسا نہ ہو کہ فلائیٹ کیلئے لیٹ ہو جائے ۔ میں نے کہا ہاں سر آپ کو جانا چاہیے تاکہ گھر میں جاکر سفر کے انتظامات کرکے ائیرپورٹ واپس آسکیں۔ اسٹاف روم سے باہر جاکر ہم نے سر کو رخصت کی ، اور یہ اُس سے ہمارا آخری ملاقات تھا، اور وہ چلا گیا، اور واپس نہیں آیا۔
ہم سکول کے بعد کمرے میں آرام کر رہے تھے کہ ایک اسٹوڈنٹ فون کے ذریعے ٹیلی وژن میں چترال سے جانے والے جہاز کے ایکسڈنٹ کے حوالے سے رپورٹ بتادی۔ ہمیں معلوم تھا آج فرہاد صاحب جا چُکا تھا ۔ کچھہ دیر بعد ٹی وی رپورٹ میں یہ کنفرم ہوا کہ چترال سے جانے والا جہاز جس میں 40 مسافر سوار تھے اسلام آباد کے قریب حویلیان میں گر کر تباہ ہوئی۔
جب یہ ایکسڈنٹ کی بات کنفرم ہوئی تو ہم اُسی وقت اُس گھر کی طرف روانہ ہوگئے جس کے چمن میں ہم مہینے میں کم ازکم دو بار بیٹھ کر فرہاد صاحب کی صحبت میں گھپ شپ ، طنزومزاح اور بہترین کھانے کا لطف اُٹھا تے تھے، وہاں ایک قیامت کا الم تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اُدھر پہنچ چُکے تھے اور ہر ایک آنکھ اشکبار تھا۔ اِس حادثے میں چترال، اورملک کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی ایک ممتاز لوگ ہم سے جدا ہوگئے جن کی یادین نہ صرف اُن کے خاندانوں ، رشتہ داروں، دوستوں اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو آج کا دِن یاد دلاتے ہیں۔ اور وہ یادیں ہی ہیں جو یاد آتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم اب صرف اُن کے حق میں یہ دُعاگو ہیں کہ “اللہ تعالی وہ اعلی صفات شہیدون کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ، اُنہیں جنت فردوس عطا فرمائیے”امیں۔
ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اُس کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔


شیئر کریں: