Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیراعلیٰ‌کا سی پیک کے متبادل روٹ، گلگت ۔شندور.چترال۔چکدرہ روڈ پرتیزرفتارپیش رفت کی ہدایت

    December 5, 2018 at 11:28 pm



    دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نئے قائم کئے گئے شیلٹر ہوم پجگی روڈ کا اچانک دورہ کیا،صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار اور سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعیدبھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔وزیر اعلیٰ نے شیلٹر ہوم کے مختلف کمروں اور سہولیات کا معائنہ کیا۔انہوں نے شیلٹر ہوم میں تمام سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بھر سے بے گھر افراد کو رات کے قیام کی سہولت دی جائے گی۔ جو لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں انہیں شیلٹر ہوم کی سہولت فراہم کرنا موجودہ حکومت کا اہم منصوبہ ہے وزیر اعظم پاکستان کے وژن اور سوچ کے مطابق بے گھر افراد کو شیلٹر کی فراہمی کیلئے بہتر انتظام ہونا چاہئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں پہلے سے موجود شیلٹر ہومز کو بھی بحال کر رہی ہے جبکہ پشاور میں تین نئے شیلٹر ہومز کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے ،یہ شیلٹر ہوم ان میں سے ایک ہے۔

    اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے زیر تعمیر بس رپیڈ ٹرانزٹ پشاور کا اچانک دورہ کیا، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، آئی جی پی صلاح الدین محسود، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار ، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے،وزیر اعلیٰ نے بی آر ٹی کی مقررہ وقت پر تکمیل میں تاخیر کا باعث بننے والی رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ منصوبے پر تیز تر کام دیکھنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں جلد اجلاس بھی بلا رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ ہوا تو حکومت سخت ایکشن لے گی، غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو نکال باہر کیا جائے گا ، کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کیا جائے گا، کوئی بھی کسی قسم کی خوش فہمی میں نہ رہے ،جب حکومت ایکشن لے گی تو اسکی زد میں آنے والا کوئی بھی ہو بچ نہیں پائے گا،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ آئندہ روز منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کریں گے،پورے منصوبے کی نگرانی وہ خود کریں گے جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب ہو گا اسے مثالی سزا دی جائے گی، وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر فردوس، ہشت نگری اور گل بہار میں مختلف تعمیراتی سرگرمیوں اور پیش رفت کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود لوگوں کی شکایات بھی سنیں، محمود خان نے متعلقہ حکام کو لوگوں کی شکایات دور کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے منصوبے سے متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گل بہارپولیس سٹیشن کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے تھانے کے مختلف حصے دیکھے اور ایف آئی آر کے اندراج کے طریق کار کا جائزہ لیا،آئی جی پی اور سی سی پی او پشاور نے وزیر اعلیٰ کو موجودہ تھانہ کلچر پر بریفنگ دی اور بتایا کہ سائنسی بنیادوں پر آپریشنل اور انوسٹی گیشن پولیسنگ کی وجہ سے جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ نے پولیس سٹیشن میں خدمات کی فراہمی اور دیگر امور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت تھانہ کلچر کو جدید ترین خطوط پر استوار دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے کافی بہتری آئی ہے مگر ہمیں زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔عوام کو انصاف کی فراہمی اور انکی تکالیف کا مداوا ہمارا مقصد اور ترجیح ہے، ہماری حکومت انصاف، میرٹ اور عوام کو ریلیف دینے پر سمجھوتہ نہیں کرے گی،انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اداروں میں مداخلت اسی لئے ختم کی تاکہ ادارے مضبوط ہوں اور میرٹ پر عوام کی خدمت کریں۔ پولیس سٹیشن کے باہر ایک بچے نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے آپ کی کیا سوچ تھی،جس پر وزیر اعلیٰ نے جواب دیا کہ وہ پہلے ناظم تھے ،پھر ایم پی اے بنے ا ور اب وزیر اعلیٰ ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل درآمد انکا مقصد ہے۔ کوشش ہے کہ عوام کو گھٹن کے ماحول سے نکالیں، صحت ، تعلیم کی معیاری سہولیات دیں، میرٹ کی بالادستی ہو اور حقدار کو اسکا حق ملے۔ہماری کوشش ہے کہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے معاشرتی روایات اور اقدار کو روندھتے ہوئے دیکھا ہے ، امیروں اور غریبوں کیلئے انصاف ، مراعات اور خدمات کے مختلف پیمانے تھے،انہوں نے معاشرتی بگاڑ کے خلاف عمران خان کے مشن کا ساتھ دیا، معاشرتی بگاڑ کے آگے بندھ باندھنا آسان کام نہیں ہے،خصوصاً ہمارے ہاں مراعات یافتہ طبقہ حکمران رہا، غریب پستے رہے اور چھوٹا سا مراعات یافتہ طبقہ عوام کا استحصال کرتا رہا، ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے پر پورے ملک نے عمران خان کو اپنے حقوق اور مستقبل کی نگرانی سونپی،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے اور یہ خدمت عملی طور پر نظر آئے گی،ہمارا کام نظام ٹھیک کرنا اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو عوام کی مرضی کے تابع کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ اس مجموعی عمل میں رکاوٹوں کو دور کرنا ہے،ہم تبدیلی چاہتے ہیں اور یہی تبدیلی غریب عوام کو اپنے حق کے حصول کا راستہ دے گی،حکمرانی عوام کی ہو گی اور کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انصاف ، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی سے ہم بہتر مستقبل کا حصول ممکن بناسکتے ہیں،وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر بچے کو نقد انعام بھی دیا۔

  • error: Content is protected !!