Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیراعلیٰ نے شعبہ توانائی کے منصوبوں کیلئے پارٹنرشپ کے تینوں ماڈلز اختیار کرنے کی منظوری دیدی

    December 2, 2018 at 9:54 pm

    پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شعبہ توانائی کے منصوبوں کیلئے پبلک سیکٹر ، پرائیوٹ سیکٹر اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ تینوں ماڈلز اختیار کرنے کی منظوری دی ہے اور شعبہ توانائی میں جاری منصوبوں کو پہلے مکمل کرنے اور نئے منصوبوں کیلئے ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوں نے صوبے میں صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بجلی سستی میسر ہو گی تو لامحالہ صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا ۔اُنہوں نے صوبے کی اپنی بجلی کے استعمال کیلئے قابل عمل ماڈل متعارف کرانے کی بھی ضرورت سے اتفاق کیا ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ توانائی و بجلی خیبرپختونخو امیں آئندہ کے لائحہ عمل، روڈ میپ اور مسائل کے حوالے سے فالو اپ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان ، وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی ، وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، وزیر ماحولیات اشتیاق ارمڑ ، وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اﷲ خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اﷲ خان نے اجلاس کو محکمہ توانائی و بجلی کے پانچ سالہ روڈ میپ اور وفاقی حکومت سے متعلقہ مسائل اور دیگر اہم اُمور پر بریفینگ دی ۔ اُنہوں نے بتایا کہ وسائل پیدا کرنے کی استعداد رکھنے والے صوبائی شعبوں میں اہم ترین شعبہ توانائی و بجلی ، سیاحت، معدنیات، تیل و گیس اور پن بجلی شامل ہیں صوبے میں کم و بیش 30 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے ۔ پن بجلی کے مجوزہ منصوبوں اور پلان پر تیز رفتار عمل درآمد کیلئے بنیادی قوانین میں ترمیم اور پیڈو کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر روشنہ ڈالی ۔ اجلاس میں اس تجویز سے اُصولی طور پر اتفاق کیا اور صوبے میں پائے جانے والے پن بجلی کے وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کے عزم کا اظہار کیاگیا۔ اجلاس میں توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے تین مختلف ماڈلز اور اُن کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ۔ ان ماڈلز میں پبلک سیکٹر جس میں اے ڈی پی اور ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے منصوبوں کا نفاذ ہوتا ہے ، پرائیوٹ سیکٹر اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا ماڈل شامل ہیں۔ اجلاس میں تینوں ماڈلز اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ اجلاس کو پانچ سالہ ریونیو پروجیکشن کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا اور اس سلسلے میں ترجیحاتی منصوبوں پر مبنی پلان بھی پیش کیا ۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ پلان سے اُصولی اتفاق کیا اور کہا کہ ہم اپنی بجلی پیدا کرکے مقامی صنعتوں کو سستے نرخوں پر فراہم کریں گے ۔اس سلسلے میں قابل عمل ماڈل متعارف کرانے کی ضرورت ہے ۔ ہم اپنے صوبے کے وسائل کو ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنانے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام ذرائع کے مطابق اُنہوں نے توانائی پلا ن پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کیلئے پیڈو کی مجموعی استعداد میں اضافے ، پیڈو کے کل وقتی چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی ، سی ای او لیول پر ماہانہ جائزہ اجلاس ، مقامی اور بیرونی ٹریننگ اور متعلقہ قوانین میں ترامیم کی ضرورت سے اتفاق کیا اور کہاکہ سرکاری وسائل کے بہترین استعمال کیلئے اداروں کی بھر پور استعداد کو استعمال میں لانا اور جزا و سزا کا عمل نہایت ناگزیر ہے ۔ اُنہوں نے ہیومین کمپنسیشن / ری سٹلمنٹ پالیسی کی تشکیل سے بھی اُصولی اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان انہیں اور وفاقی وزیر بجلی و توانائی کو ہدایت کر چکے ہیں کہ صوبے کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کو فوری طور پر حل کیا جائے اور گزشتہ روز وفاقی وزیر توانائی نے میری موجودگی میں پریس کانفرنس کے دوران صوبے کے مسائل کے حل کیلئے مختلف فورمز میں صوبے کی نمائندگی اور صوبے کے مسائل کے حل کا روڈ میپ دیا ہے ۔ صوبے کے پن بجلی کے بقایا جات ، گرڈ سٹیشنوں سمیت تمام ٹرانسمیشن لائز اور تمام سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے کام کا آغاز کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے کوپیسکو ، این ٹی ڈی سی ، سی پی پی اے، پی پی آئی بی ، پاور سرپلس ، متعلقہ اداروں میں صوبائی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی اور صوبے کے مسائل کے حل میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا ۔ وفاقی محکمہ توانائی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایک ایسا فعال نظام دے گی جس میں اووربلنگ نہیں ہو گی، بجلی چوری کو کم سے کم سطح پر لایا جائے گا اور واپڈا اہلکاروں کی ملی بھگت سے بجلی چوری اور لینڈ لاسز کا خاتمہ کیا جائے گا اور بجلی چوری کی حوصلہ شکنی کیلئے قانون حرکت میں آئے گا اور یہی قانون پیسکو کے اہلکاروں کیلئے بھی مؤثر رہے گا، وزیراعلیٰ نے صوبے میں بجلی کے انفراسٹرکچر کی کمزوری ، میٹرز کی عدم فراہمی ، بلوں کی عدم وصولی ، توانائی میں صوبے کے شیئر کے استعمال، گرڈ سٹیشن کی مرمت سمیت دیگر متعدد مسائل متعلقہ وفاقی وزیر کے ساتھ تقریباً حل ہو چکے ہیں جسکے لئے وزیر اعظم پاکستان نے گزشتہ دنوں وفاقی محکمہ بجلی اور توانائی کو واضح احکامات جاری کئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس کا بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ اُن کی حکومت بجلی چوری کے خلاف مرکزی حکومت کی مہم میں معاونت کرے گی تاہم اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مہم کی صورت میں جو ریکوری ہو گی وہ صوبے میں بجلی کے نظام کو بہترکرنے پر خرچ کی جائے گی ۔ اُنہوں نے پیسکو کے بڑھتے ہوئے مسائل پر تشویش کا اظہار کیااور کہاکہ ہم ان مسائل کو متعلقہ فورم پر حل کرنے میں مدد کریں گے۔

  • error: Content is protected !!