Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ازمودہ پالیسیاں اورآغا خان ایجوکیشن سروس…….تحریر حمید الرحمن حقی

    December 1, 2018 at 10:04 pm

    ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں‌!

    آغا خان ایجوکشن سروس براےپاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے مختلف پسماندہ علاقوں میں بچوں اور بچیوں کو بغیر کسی تفریق کے معیاری زیور تعلیم سے اراستہ کرنے کی عرض سے اپنی انتھک کوششیں بروے کار لاتے ہوے ملک و قوم کیلیے ذہیں فرض شناس ایماندار اور قابل ترین نوجوان نسل فراہم کرنے کیلیے سرگرم عمل ہے.جس کی ایک واضح ثبوت یہ کہ ہر سال سو میں سے ساٹھ فیصد نوجوان اس ادارے کی بدولت نمایاں پوزیشنزز لیتے ہیں جن میں سے پانج فیصد نوجواں پاکستان آرمی کے علاوہ دیگر بڑے بڑے اداروں میں اعلی عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں جبکہ چار فیصد نوجواں مختلف اعلی میڈیکل یونیورسٹیز میں داخلہ لیتے ہیں.جوکہ کہ اغا خان ایجوکیشن سروس براے پاکستان کی بہترین نظام تعلیم اور ماہرانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے.اسکے ساتھ ساتھ آغا خان ایجوکیشن سروس براے پاکستان ملک میں موجود مختلف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خدمات حاصل کرنے کی عرض سے ملک کے طول وعرض سے مقامی اور غیر مقامی ماہرین تعلیم، اساتذہ ، اسکالرز اور دوسرے پیشہ ور ماہرین وقتا فوقتا اس ادارے کا حصہ بناتے آ رہے ہیں.جسکی وجہ سے ملک میں موجود بڑے بڑے یونیورسٹیز کے فارع التحصیل بیشتر نوجوان اور پیشہ ور افراد دوسرے چھوٹے بڑے اداروں میں شامل ہونے کیساتھ خود اسی ادارے میں بھی شامل ہوکر اپنی فرائض منصبی بخوشی نبھاتے ہوے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں..

    آغا خان ایجوکشن سروس براے پاکستان جہاں پاکستان کے طول وعرض میں اپنی اعلی کارکردگی کیساتھ اگے بڑھ رہا ہے وہیں پاکستان کے سب سےدوافتادہ ضلعے ضلع چترال میں بھی اپنی نمایاں کارکردگی اور جدید نظام تعلیم کی وجہ سے منفرد ادارے کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے.تاہم اس کے باوجود آغا خان ایجوکشن سروس چترال ابھی تک چترال کی سطح پر وہ تعلیمی اہداف حاصل نہیں کر پا سکی ہے جسے پچھلے کچھ سالوں میں حاصل کرنی تھی.جسکی وجہ شائد مقامی سادہ لوح والدیں ھیں یا پھر شائد مستقبل کے تعلیمی چیلنجز سے نا اشنا نوجوان،لیکن ان سب کے باوجود ادارے کی قیادت اور دوسرے اعلی عہدہ داران و لیڈران بھی اس میں برابر کے شریک ہیں.جو بدقسمتی سے اس ادارے پر بطور وارث مسلط و قابض رہ کر آ رہے تھے. جسکی وجہ سے مقامی آبادی کی بھی مذکورہ ادارے سے توقعات و امید دم توڑ گئی تھی. تاہم ایک عرصے کے بعد اب چونکہ ادارے کو درست سمت پر چلتے اور میرٹ کی بالا دستی دیکھ کر لوگوں کے توقعات پھر سے بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں. لیکن پھر بھی بسا اوقات مذکورہ ادارہ ماضی کے ازمودہ پالیسیوں پر ہی چل کر اگے جانے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے.جن پر بروقت نظر ثانی نہ صرف وقت کا تقاضا ہے بلکہ ادارے اور مقامی ابادی کے بھی پائیدار اور بہترین مفاد میں ہیں.

    گو کہ آغا خان ایجوکشن سروس انٹرنیشل اصول و ضوابط اور معیار کے مطابق کام کررہی ہے.تاہم گزشتہ ایک سال کے اندر آغا خان ایجوکشن سروس چترال نے چترال کے اندر قائم اپنے مختلف سکولز اور کالجز کے اساتذہ اور موزوں سٹاف کی عدم دستیابی کو پورا کرنے کیلیے اب تک دو بار خالی اسامیاں مشتھر کر چکی ہے.اور باوجود مختلف ٹسٹ سنٹرز قائم کرنے اور انٹرویوز لینے کے ابھی تک خالی اسامیاں پوری نہیں کر سکی ہے.جسکی سب سے ایک بڑی وجہ امیدواروں کی آسانی کو دیکھے بغیر اپنی آسانی کی خاطر قائم کی جانے والی ٹسٹ سنٹرَز اورشاید شارٹ ٹایم اطلاع ہیں.جو کہ امیدوار کوشش کے باوجود بھی قلیل وقت کے دوران دور قائم سنٹر نہیں پہنچ پاتا جس کی بنآ مذکورہ ادارہ مختلف تگ ودو و کوشش کے بعد بھی گزشتہ ہفتے ایک بار پھر مختلف ویب سائٹ اور اخباروں کے زریعے یہ اشتھار ایک بار پھر چسپان کر چکی ہے. لیکن غریب نوجواں امیدواروں کو حسب روایت ٹیسٹ انٹر ویوز کیلیے مقامی ٹیسٹ سنٹرز نہ پہنچنے کا افسوس ایک بار پھر رہے گا..اسلیے ادارے کے اعلی عہدہ دران اور ذمہ دار حکام مذکورہ امیدواروں کی اسانی اور ادارے کے وسیع تر مفاد میں ٹسٹ سنٹرز چترال کے علاوہ مختلف بڑے شہروں پشاور اسلام اباد اور راولپنڈی میں بھی قائم کرنے کی طرف بروقت توجہ دینے اور امیدواروں کو متعلقہ ٹیسٹ و انٹر ویوز کیلیے بروقت اطلاعی پیعام بھیجنے کیلیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے .جس سے ٹسٹ و انٹر ویوز کیلیے آنے والے امیدواروں کو اسانی تو ہوگی ہی، لیکن ادارے کو بھی ایک عرصے تک کیلیے قابل اور موزوں اساتذہ و اسٹاف ملیں گے…

    ہماری تمام نیک خواہشات اور دعائیں آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کیساتھ ہیں.

  • error: Content is protected !!