Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عمران خان گلگت بلتستان کو عبوری صوبےکی حیثیت دینے کی منظوری کو جلد عملی جامہ پہنائیے

    November 30, 2018 at 9:21 pm

    گلگت (چترال ٹائمز رپورٹ )گلگت بلتستان کے عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے گلگت بلتستان بار کونسل کے زیر اہتمام پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ “ن” ، پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عہدیداران ، گلگت بلتستان ہائی کورٹ بار، ڈسٹرکٹ بارگلگت کے عہدیداران اور وکلاء کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قانون ساز اسمبلی راجہ جہانزیب ، پاکستان مسلم لیگ “ن”کے ممبرو صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ صدر ہائی کورٹ بار راجہ شکیل احمدایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ بار کے صدر راشد عمرایڈووکیٹ ، جنرل سیکریٹری سلیم الدین ایڈووکیٹ، بار کے ممبران سینئر ایڈوکیٹ احسان علی ، منظور احمدایڈووکیٹ، جاوید اقبالایڈووکیٹ، اورنگزیب ایڈووکیٹ، ایڈووکیٹ وزیر مظہر حسین اور لطیف شاہ ایڈووکیٹ سمیت وکلاء کی کثیر تعدادنے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پچھلے 48گھنٹوں کے دوران وفاقی کابینہ میں گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے آزاد کشمیر کے بعض سیاستدانوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور ان کی منفی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر درج ذیل قرار داد منظور کی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی کابینہ میں گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے ایجنڈ کے موخر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی دی گئی آخری مہلت 3دسمبر2018سے قبل گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں منظوری دیکر سپریم کورٹ آف پاکستان میں رپورٹ پیش کی جائے اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو اور کوئی انتظامی پیکیج ہر گز قبول نہیں ہوگا۔

    اجلاس میں یہ بات شدت سے محسوس کیا گیا کہ 72سالوں سے حقوق سے محروم گلگت بلتستان کیلئے وفاقی سطح پر آئینی اور سیاسی اصلاحات کی کوشش کی کی جاتی ہے تو آزاد کشمیر کے بعض سیاستدان غیر ذمہ دارانہ طور پر سستی شہرت کے لئے گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے من گھڑت اور بے بنیاد تشریحات کر کے جی بی کے لئے ہونے والی آئینی اصلاحات میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں جو گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کے حربے ہیں اور در حقیقت یہ مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا کر ہندوستان کے مفادات اور موقف کی حمایت کا باعث بن رہے ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام میں اس وجہ سے شدید غم و غصے کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔
    اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر آزاد کشمیر کے ان سیاستدانوں کی منفی سیاست اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کی شدید مزمت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر کے متاثر ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں حکومت پاکستان نے جو اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سفارشات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے 1999 ؁ء کے تاریخی فیصلے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں جی بی کو مسلہ کشمیر کے حتمی حل تک عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے جس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جی بی اسمبلی نے مشترکہ قرارداد منظور کرکے وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ ان سفارشات کی روشنی میں جی بی کو آئینی عبوری صوبہ بنایا جائے۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ شہبار شریف، پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف علی زداری سے مطالبہ کیا کہ جی بی کو آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عبوری صوبہ بنانے کیلئے پارلیمنٹ آف پاکستان میں فوری اپنا کردار ادا کریں۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے علاوہ اور کوئی اتنظامی پیکیج دیا گیا تو گلگت بلتستان کے عوام کو ہرگز قبول نہیں ہوگا اور اس کو مسترد کرکے بھرپور انداز میں یکجا ہوکر احتجاج کیا جائیگا۔

  • error: Content is protected !!