Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بجلی کے بلوں پر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے ٹیکس وصولی پر وفاق سے بات کرینگے..وزیر اعلیٰ‌

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے عوامی مسائل کے حل کیلئے منصفانہ منصوبہ بندی کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے ، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے تناظر میں ایک کثیر الجہتی منصوبہ بندی کی گئی ہے ، ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے اور صوبے بھرکے دریاؤں میں گندگی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ہر سطح پر صوبے بھر میں سیوریج اور ڈرینج کا بہتر انتظام اور منگورہ پشاور سمیت ٹریفک کی گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہ پہلے ہی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ڈسٹرکٹ بار، ہائی کورٹ بار مینگوہ بینچ اور بار کونسل ملاکنڈ کے صدور کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی ، سیکرٹری لاء اور ملاکنڈ ڈویژن سے آئے ہوئے وفد کے شرکاء نے شرکت کی ۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو سابقہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد ضلع باجوڑ کو ملاکنڈ ڈویژن میں شامل کرنے کی درخواست کی اور اس کی آفادیت سے بھی آگاہ کیا۔ وفد نے مزید بتایا کہ جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے بھی ضلع باجوڑ کی شمولیت ملاکنڈ ڈویژن کے ساتھ ہونی چاہیئے اور باجوڑ کے عوام کی بھی یہی خواہش ہے ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیکرٹری قانون اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشاور ت سے اس مسئلے پر عوامی اُمنگوں کے عین مطابق پیش رفت کی جائے گی۔ وفد نے وزیراعلیٰ سے ملاکنڈ ڈویژن میں جوڈیشل فنڈنگ اور ہائی کورٹ بار کے دیگر مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل کی بھی درخواست کی ۔ وفد نے یہ بھی بتایا کہ چونکہ ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس فری زون ہے۔ تاہم اب بھی بجلی کے بلوں میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے ٹیکس وصولی ہو تی ہے جس پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس پر وفاقی حکومت کے ساتھ بات کرکے آگے بڑھیں گے ۔ پریزیڈنٹ ڈسٹرکٹ بار مینگورہ نے درخواست کی کہ چونکہ ملاکنڈ ٹیکس فری زون قرار پایا ہے۔ لہٰذا وہاں کے عوام کیلئے کورٹ فیس ختم کی جائے جس پر وزیراعلیٰ نے سیکرٹری لاء کو اس معاملہ میں قانونی لحاظ سے جو بھی ممکن ہو کرنے کی ہدایت جاری کی اور وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت عوام کو ہر طرح کا ریلیف مہیا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اُٹھائے گی ۔ وفد نے جوڈیشل کمپلیکس اپر دیر اور سٹی جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیرات کا بھی مطالبہ کیا اوروزیراعلیٰ کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے پر وگرام میں بھی مدعو کیا ۔ وفد نے مزید مطالبہ کیا کہ چونکہ ملاکنڈ پسماندہ ڈویژن ہے لہٰذا پبلک سروس کمیشن میں سول جج علاقہ قاضی کی پوسٹوں میں عمر کی حد میں دو سال رعایت دی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے سیکرٹری لاء کو قانوناٍ جو اس ضمن میں بھی ممکن ہو کرنے کی ہدایت جاری کی اور بار کونسل مینگورہ کو فنڈز کی ریلیز کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ بعدازں ملاکنڈ ڈویژن سے آئے ہوئے 20رکنی وفد جس میں تاجران آف ملاکنڈ ڈویژن اورانصاف لائر فورم کے نمائندے شامل تھے نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ۔ وفد نے اپنے مسائل سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو تحصیل میونسپل کمیٹیوں کے حوالے سے مختلف شکایات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو برقرار رکھا جائے گا اور مینگورہ میں ٹریفک اور پارکنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گاجس میں مستقبل کے حوالے سے تمام ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے گاتاکہ مستقبل میں بھی کام آئے ۔ وزیراعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اضلاع میں پولیس کے نظام کو توسیع دی جائے گی اور لیویز اور خاصہ دار کو پولیس میں قانون کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گاتاکہ سارے ملک میں یکساں نظام کو فروغ ملے ۔ اس طرح ملاکنڈ لیویز کو بھی پولیس میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آرکیالوجی ، روڈز ، مینگورہ میں ایک بڑا پارک، دریائے سوات سے گندگی ختم کرنے کیلئے سیوریج اور ڈرینج کے نظام میں بہتری کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے وفد کے مسائل کو تفصیلی سنا اور اُن کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کہاکہ مینگورہ میں ٹریفک کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور باقی تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور کے صحافیوں کیلئے رہائشی منصوبے کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے جگہ کے تعین کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، انہوں ے پشاور پریس کلب کی تین منزلہ عمارت کی تعمیر سمیت سابق صوبائی حکومت کے صحافی برادری سے کئے گئے وعدوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی، سیکرٹری اطلاعات قیصر عالم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کے دیگر اراکین میں صوبائی حکومت اور پشاور پریس کلب کے نمائندے شامل ہیں، کمیٹی پریس کلبوں کی درجہ بندی اور مختلف درجوں کے پریس کلبوں کو سالانہ گرانٹ کی فراہمی کا بھی جائزہ لے گی اوراس سلسلے میں جلد جامع رپورٹ پیش کرے گی۔وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پشاور پریس کلب کے صدر ، کابینہ کے اراکین اور اور سینئر صحافیوں کے مشترکہ وفد سے گفتگو کر رہے تھے ۔اس موقع پر وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی موجود تھے ۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو سابق صوبائی حکومت کے کئے گئے وعدوں سے آگاہ کیا اور اُن پر تیز رفتار عمل درآمد کا مطالبہ کیا جن میں پشاور پریس کلب کے اراکین کو پلاٹس کی فراہمی ، پشاور کلب کی سالانہ گرانٹ میں اضافہ اور صوبہ بھر میں مختلف پریس کلبوں کی از سر نو درجہ بندی وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات نے بھی وزیراعلیٰ کو ورکنگ جرنلسٹس کے مطالبے کی قانونی حیثیت سے آگاہ کیا اور کہاکہ پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت صحافی براداری کیلئے ہاؤسنگ سکیم کیلئے مناسب جگہ کی نشاندہی کی کوشش کر چکی ہے ۔ اُنہوں نے ماضی میں مختلف پریس کلبوں کی درجہ بندی کے عمل سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے پریس کلبوں کی درجہ بندی کیلئے مجموعی پالیسی فریم ورک کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ پریس کلبوں کے سائز اور ممبر شپ کے مطابق مختلف پریس کلبوں کو یکساں سالانہ گرانٹ مہیا کی جا سکے ۔ اُنہوں نے صحافی برادری سے کئے گئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے وعدوں پر ہر حال میں عمل درآمد یقینی بنانے کا یقین دلایا اور کہاکہ یہ حکومت صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے گی کیونکہ اس صوبے کی صحافی برادری نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں بڑی تکالیف برداشت کی ہیں۔ اُنہوں نے کمیٹی کو صحافیوں کو درپیش مسائل کے تیزرفتار حل اور اُنہیں کام کرنے کیلئے بہترین ماحول فراہم کرنے کیلئے صاف اور واضح طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد پشاور پریس کلب کا دورہ کریں گے اور پلاٹس کی فراہمی ، سالانہ گرانٹ میں اضافے ، پریس کلب پشاور کی نئی عمارت کی تعمیر اور دیگر مراعات جن کا پہلے سے وعدہ کیا جا چکا ہے ، کا باضابطہ اعلان کریں گے ۔ وفد نے دیرینہ مسائل کے ازالے کے حل میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور اپنی طرف سے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔ قبل ازیں اپنے دفتر میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کفایت شعاری مہم جاری رکھے گی ، سخت مالی نظم و ضبط کے ذریعے صوبائی خزانہ کی ایک ایک پائی عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی ۔وسائل کا ضیاع ہر گز نہیں ہو گا اور کفایت شعاری مہم کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل پیداواری شعبوں کو منتقل کئے جائیں گے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے استعمال کئے جائیں گے ۔ اُنہوں نے یقین دلایاکہ معاشرے کے کم آمدنی والے غریب لوگوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور حکومتی وسائل کا بڑا حصہ ان لوگوں کو خدمات کی بہتر فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت پہلے سے ایک جامع پلان بنا چکی ہے جو وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنائے گاتاکہ ترقیاتی حکمت عملی میں ہر علاقے کو مساوی حصہ مل سکے ۔ اُنہوں نے منتخب عوامی نمائندوں سے کہاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں زیر تعمیر منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں تاکہ کام کے معیار اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت عوام کو کبھی مایوس نہیں کرے گی اور عوام کی توقعات کے مطابق خدمات کی فراہمی یقینی بنائے گی ۔


شیئر کریں: