Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سی ڈی ایل ڈی کے مختلف پروگراموں اوراس کی کارکردگی حوالے سے وزیربلدیات کو بریفنگ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ حکومت گراس روٹ لیول پر ترقی کے لئے متنوع اقدامات اٹھارہی ہے جن میں نیا اور انقلابی بلدیاتی نظام اور یورپی یونین کے تعاون سے جاری دیہی ترقی کا پروگرام سی ڈی ایل ڈی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے گزشتہ دور کی عوام دوست پالیسیوں کو اپنائے ہوئے ہے اور مسائل کے حل کے لئے پہلے سے زیادہ پر عزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں یورپی یونین ہیومن ڈائنامکس کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ غیر ملکی وفد نے پاکستان میں دیہی ترقی کے حوالے سے قائم تنظیم سی ڈی ایل ڈی کے مختلف پروگراموں اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے وزیربلدیات کو بریفنگ دی۔ وفد کی سربراہی یورپی یونین ہیومن ڈائنامکس کی فرسٹ سیکرٹری کترینا الواری نے کی جبکہ اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری محکمہ بلدیات عامر لطیف، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ میاں عادل اور سی ڈی ایل ڈی کے ٹیم لیڈر ندیم بشیر کے علاوہ دیگر حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نچلی سطح پر ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے سی ڈی ایل ڈی کے طریقہ کار کومزید آسان بنایا جائے گا جس سے صوبائی حکومت کی مسائل کے حل کے لئے استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ وفد نے بتایا کہ سی ڈی ایل ڈی پروگرام صوبے کے 12اضلاع میں جاری ہے جبکہ اسے دیگر اضلاع تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ پروگرام سے استفادہ کرنے کے لئے ویلج کونسل لیول پر ٹریننگ دی جائے۔ غیر ملکی وفد نے پروگرام پر عمل درآمد میں درپیش مسائل بھی بیان کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے دیہی ترقی میں کردار کو سراہا اور وفد کو یقین دلایا کہ وہ حکومتی سطح پر دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ان مسائل کو اٹھائیں گے اور انہیں جلد سے جلد حل کر کے سی ڈی ایل ڈی پروگرام کو نچلی سطح پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرینگے ۔ شہرام ترکئی نے اس پروگرام کی دیگر اضلاع تک توسیع کے اقدام کو سراہتے ہوئے تنظیم کے منتظمین کا فنڈز اور ٹیکنیکل سپورٹ کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر پروگرا م کو مزید موثر اور کارآمد بنانے کے لئے اسپیشل سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔


شیئر کریں: