Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام پرائیویٹ اداروں کی رجسٹریشن کیلئے شیڈول کا اعلان کردیا

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی حکومت خیبر پختونخوا کی منظوری پر مجاز حکام نے تمام پرائیویٹ اداروں بشمول مانٹیسوری، کنڈر گارٹن، پرائمری ،مڈل ، ہایئر سیکنڈری سکولزیا اس کے مساوی تعلیم فراہم کرنے والے تعلیمی اداروں کی سیشن 2018-19کیلئے رجسٹریشن کیلئے شیڈول کا اعلان کردیا ہے جبکہ مذکورہ اداروں کے قیام ،تجدید یا درجہ بندی کیلئے رجسٹریشن فارم کے پی پی ایس آر اے کی ویب سائٹ www.psra.gkp.pkپر اپ لوڈ کر دیاگیاہے۔KP-PSRA کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ، تجدید،یا اپ گریڈیشن کیلئے نارمل فیس کے ساتھ مقررہ فارم یکم نومبر سے 20نومبر 2018تک جمع کرائے جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح مذکورہ اداروں کی رجسٹریشن ،تجدید یا درجہ بندی کیلئے اصل فیس کے علاوہ 50فیصدلیٹ فیس کے ساتھ 21سے 30نومبر 2018تک اور اصل فیس کے علاوہ دگنی فیس کیساتھ یکم دسمبر سے 15دسمبر 2018تک اور 16دسمبر سے 25دسمبر تک مذکورہ اداروں کی رجسٹریشن ،تجدید یا درجہ بندی کیلئے نارمل فیس کے علاوہ تین گنا فیس بطور لیٹ فیس وصول کی جائے گی۔تمام پرائیویٹ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رجسٹریشن فارم کو پر کرکے متعلقہ چیئرمین ڈسٹرکٹ سکروٹنی کمیٹی کو پیش کریں ۔
آن لائن رجسٹریشن فارم پیش کرنے کیلئے یوزر کا نام اور پاس ورڈ فراہم کریں گے ۔سکروٹنی کمیٹی رجسٹریشن فارم میں فراہم کردہ تفصیلات کی تصدیق اور موئثر ہونے کی جانچ پڑتال کیلئے ایک دن میں کم از کم تین اداروں کے دورے کرے گی ۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ سکروٹنی کمیٹی اپنی سفارشات KP-PSRA کو رپیش کرے گی۔ KP-PSRAکی رجسٹریشن اور انسپیکشن کمیٹی موجودہ اور نئے اداروں کی رجسٹریشن ، تجدید اور درجہ بندی جاری کرے گی ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سلسلے میں معیار اور قوائد و ضوابط کا تعین کیا جا رہا ہے۔ اور معیار اور قوائد و ضوا بط کو حتمی شکل دینے کے بعد تمام سکولوں کیلئے اس میں درج تقاضوں کو پورا کر نا لازمی ہو گا۔ تین گنا لیٹ فیس کی آخری تاریخ یعنی 25دسمبر 2018کے بعد سال 2018-19کیلئے کسی رجسٹریشن درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ آخری تاریخ تک درخواست جمع نہ کرانے والے ایسے تمام سکولوں کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
16025