Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمارےپیارے نبی ﷺ ۔۔۔۔۔۔ میرسیما آمان

شیئر کریں:

ہر سال ہمارے ملک میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ 12ربیع الاول منائی جاتی ہے۔اس دن مختلف سکولوں،کالجوں ،مدرسوں اور مختلف اداروں میں عید میلاد نبی ﷺ کی تقریبات منائی جاتی ہیں۔ مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ان تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ پورا ملک برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے۔اس دن ہر چہرہ ہر شے پر ایک نور پھیلا ہوتا ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس دن یہ محسوس ہوتا ہے کہ پوری بے اتفاق قوم آج کے دن ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہے بے شک ایک دن کے لئے ہی سہی۔اور وجہ ہمارے پیارے نبی اکرام ؐ کی ذات مبارک ہے۔۔سچ ہے کہ ہم مسلمان آپس میں کتنا ہی لڑ جھگڑ لیں کتنی ہی عداواتیں پالیں لیکن بات جب ہمارے محبوب رسول اکرمؐ کی ہوتی ہے تو ہم تمام عداوات بھول کر ایک ہو جاتے ہیں۔یہ سوچ کر مجھے وہ یہودی شخص یاد آجاتا ہے جو ۵سال ا سلام پر ر یسرچ کر تا ہے جب اسکی ر یسرچ پوری ہوتی ہے تو اس سے پو چھا جاتا ہے کہ اپ نے اپنی ر یسرچ سے اسلام کے بارے میں کیا اخذ کیا؟؟؟تو وہ کچھ اسطرح جواب دیتا ہے کہ ’’’’میں ا پنی ۵سالہ ریسرچ سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمان اسلام سے ذیادہ اپنے نبی ؐ سے محبت کرتے ہیں۔یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر لیتے ہیں لیکن نبی کی ذات پر اُٹھنے والی اُنگلی برداشت نہیں کرپاتے۔اپ انکی مساجد پر قبضہ کرلیں انکی حکومتیں ختم کر دیں انکی خاندانوں کو ختم کر دیں یہ سب برداشت کر جا ٰئیں گے لیکن اپ جو نہی ان کی نبیؐ کا نام غلط لہجے سے لیں گے یہ تڑپ اُٹھیں گے۔مسلمان جب بھی اُٹھے،جب بھی لڑے،جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرمؐ کی ذات تھی۔لہذا جس دن مسلمانوں کے دل سے انکے رسول کی محبت ختم ہو جائے گی اس دن اسلام کا خاتمہ ہو جا ئیگا۔اس لئے اگر اپ اسلام کا خا تمہ چا ہتے ہیں تو اپکو مسلمانوں کے دل سے انکا رسول نکالنا ہو گا۔۔‘‘‘‘‘‘مجھے اس یہودی پر حیرت ہے جس نے محض ۵سال کی ریسرچ پر اسلام کی ’’روح‘‘‘کو پہچانا۔۔نہیں معلوم اس نے یہ ریسرچ کس ذمانے میں اورکن مسلمانوں پر کی تھی۔بحر حال آج حالات مختلف ہیں۔رسول پاک ؐ سے محبت کے د عویدار ہم اج بھی ہیں۔12ربیع الاول کے تقر یبات اج بھی نہایت عزت و ا حترام سے منائے گئے۔لیکن کیا بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر ختم نبوت کی شق ختم کردی جا تی ہے اور کوئی قیامت نہیں ہوتی۔توہین رسالت کرنے والوں کی کوئی سزا سننے میں بھی نہیں آتی۔دوسری طرف لوگوں نے اسلام کو محض عبادت میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے حقوق اﷲ پر تو بہت ذور دیا جاتا ہے لیکن حقو ق ا لعباد پر کو ئی توجہ نہیں۔ ہم مسلمانوں کے ا خلاق میں اُن تمام باتوں کا کوئی شائبہ تک نہیں جو سیرت نبوی ؐ کے طور پر ہمیں پڑ ھایا جاتا ہے۔آج کتنے مسلمان ایسے ہیں جو دوسروں کے لئے بھی و ہی کچھ پسند کرتے ہیں جو اپنے لیے کریں،کتنے لوگ ہیں جو رشوت نہیں لیتے۔جو یتیم کا مال نہیں کھاتے،کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔کتنے بھائی حضرات ہیں جو عدالت کا درواذہ کھٹکھٹائے بغیر بہنوں کو انکا حق دے دیتے ہیں کتنے مسلمان ہیں جو لفظ عورت کی عزت کرتے ہیں۔اسے اسکا جائز حق دیتے ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو دوران سفر ان اُصولوں کو یاد رکھتے ہیں جو اخلاق نبیؐ ہمیں بتاتی ہے۔کتنے نوجوان دھاری صرف یہ سوچ کر رکھتے ہیں کہ یہ ’’سنت‘ ‘ہے؟؟کتنی خواتین صرف پردے کا سوچ کر برقعہ پہنتی ہیں؟؟ہاں یہ سچ ہے کہ آج ۹۵فیصد نو جوانوں نے داڑھی رکھی ہوئی کیو نکہ یہ فیشن میں ’’’ان‘‘ ہے۔ لڑکیاں گا وٗن پہن رہی ہیں کیونکہ یہ سب فیشن میں ’’اِن‘‘‘ ہے۔۔پھر کتنے دُ کاندار ہیں جو مال تول میں کم بیشی نہیں کرتے۔۔ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ایک رشتہ دار خاتون نے بتایا کہ وہ بچی کے لئے عید کا جوڑا لینے ما رکیٹ گئی۔اس خاتوں نے ایک فراک اُٹھا کر اسکی قیمت پوچھی۔ دُکاندار نے مکمل ہوش و ہواس کیساتھ اسکی قیمت 1100بتائی۔۔ لیکن چند منٹ بعد جب خاتون نے اسی فراک کو پیک کر نے کے لئے کہا تو دکاندار نے اُسی فراک کی قیمت فورا 1400 لگادی اور ا پنی کہی ہوئی بات سے مُکر گیا ۔خاتوں کا کہنا تھا کہ اس کھلا مکھلا ڈھٹائی پر مجھ سمیت وہاں موجود دوسرے گاہک بھی ششدر رہ گئے۔اس خاتوں کا کہنا ہے کہ میں نے وہ فراک وہیں پھینک دی اور باہر نکل آئی اور یہ دیکھ کر مجھے اور بھی ذیادہ دکھ ہوا کہ اس دُکان کے بلکل ساتھ ہی مسجد تھی جہاں اُس وقت اذان بھی دی جا رہی تھی۔۔یہ ا نتہائی چھوٹا وا قعہ ہے جو اِن د کا نوں میں شائد روزانہ کے حساب سے ہو رہے ہیں۔چو نکہ ا گلے روذ عید تھی بچی نے اسی فراک کی ضِد لگا ر کھی تھی ۔دکاندار نے شائد یہی سوچا کہ اس ماں نے ہر حال میںیہ جوڑا خریدنا ہی ہے تو کیوں نہ 300کا فائدہ کیا جائے۔۔آفسوس صد افسوس کہ ہم مسلمان روزانہ اسی طرح کبھی 300 تو کبھی ۱۰۰ور کبھی محض ۱۰روپیوں میں بِک رہے ہیں اپنا ایمان بیچ رہے ہیں۔۔۔دکانداروں کا ایک اور اخلاقی مظاہرہ جسکا تذکرہ اکثر سننے میں آتا ہے کہ جب بھی کسی دکان میں کوئی مالدار گاہک آتا ہے تو دکاندار دکان کے اندر پہلے سے موجود ۵۰ سے ذائد گاہکوں کو چھوڑ کراُس مالدار گاہک کی آو بھگت میں لگ جاتا ہے۔یہی حالات ہسپتالوں کا ہے جہاں مر یض کی مالی حالت دیکھتے ہوئے ’’اخلاق بر تی ‘‘جاتی ہے۔۔یہی حال سکول ،کا لجوں کے سٹاف رومز کے ہیں جہاں معلموں کے آپس کے رویے اسقدر شر مناک ہیں کہ وہ اوروں کو کیا خاک تعلیم دیتے ہو نگے۔اور یہی حالات ہمارے امامِ مساجد کے ہیں جو علاقے کے ما ل داروں کے ہا تھوں پر بوسے دیتے نہیں تھکتے لیکن اُسی علاقے کے کسی ایماندار مگر غریب شخص کو سلام تک کر نا بھی یہ لوگ ا پنی تو ہین سمجھتے ہیں۔۔میں جب ہر جمعہ کے دن ا نکے و عظ سنتی ہوں میں جب ہر سال لاکھوں مسلمانوں کو سیرت نبیﷺ پر تقاریر کرتے دیکھتی ہوں تو صرف ا تنا سو چتی ہوں کہ کیا ا سلام کی تبلیغ بس اسی قدر ہے؟کیا عشقِ رسول اتنی ہی اسان بات ہے کہ جمعہ جمعہ و عظ کرو اور گھروں میں بیٹھ جاو؟؟ رسول پاکﷺ سے محبت کے نام پر ہم مُحض کیک کاٹیں اور وہ ؐ خوش ہو جا ئیں۔ہم میلاد منعقد کر ائیں گے اور عشقِ رسول کا حق ادا ہو جائے گا۔۔ہاں ہمیں ا پنے محبوب رسول ؐ کی ولادت کے اس عظیم دن پر پورے ملک کو روشنیوں سے ضرور سجانا چا ہیے،ہمیں میلاد اور سیرت نبیؐ کا نفر نسس کرنی چاہیے ہمیں مٹھا ئیاں ضرور تقسیم کر نی چاہیے لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ہمیں اُن اُ صولوں پر بھی عمل کرنا ہے جو رسول پاک ؐ اپنی اُمت کو سکھا گئے ہیں اور جن پر عمل سے ہی اُنہیںؐ حقیقی خو شی نصیب ہوگی۔جب ہمارے ماتھے عشق رسول سے واقعی جگمگا اُٹھیں گے۔۔تا کہ پھر کوئی یہودی یہ نہ کہہ سکے کہ ’’ مسلمان اسلام پر لڑ مر سکتے ہیں ۔۔قتل و غارتیں کر سکتے ہیں لیکن اسلام پر ’’’’عمل‘‘‘ نہیں کر سکتے ‘‘‘‘‘‘‘ یا پھر اُس نو مسلم یہودی کا وہ ایک جملہ جو آج بھی ہمارے چہروں پر طمانچہ کی حثیت رکھتا ہے یعنی (I love Islam but hate Muslims) ۔۔۔۔۔ ہاں ہمارے کرداروں کو ایسا ہونا چا ہیے کہ تمام یہہودی سر جوڑ کر بیٹھ جا ئیں اور تا قیامت یہی سوچتے رہ جائیں کہ کسطرح مسلمانوں کے دلوں سے انکے رسول کو نکا لا جائے۔وہ سوچتے ہی رہ جا ئیں تا قیامت سو چتے ہی رہ جا ئیں لیکن کبھی اُنہیں کامیابی کی ہلکی سی بھی اُمید نظر نہ آئے۔۔۔اﷲ تعالی سبکو سیرت ِ نبی پر عمل کی تو فیق عطا فر ما ئے۔۔آمین!!!!۱


شیئر کریں: