Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • قصور اپنا نکل آیا………… در مکنون

    November 20, 2018 at 6:26 pm

    نوع انسانی کو فہم، ادراک، شعور، محبت، ایمانداری، خلوص، وفا، انصاف، اخلاق اور عدل جیسی صفات سے متصف کیا گیا ہے۔ وہ اپنی عقل کو کام میں لاکر اپنے حقیقی تجربے کو عقلی اصطلاحات یا رسمی الفاظ میں بیان کرسکتا ہے۔ اپنے ہر تجربے کو جسم اور شکل عطا کرنے کی ترغیب اسے اپنے اندر سے ملتی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر وہ عظیم شاہکار کی تخلیق کی وجہ بنتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے کبھی نہیں شرماتا۔ جو اور جیسا بھی ہوتا ہے اسے ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کو ایک منظم طریقے سے ترتیب دے کر اہل دنیا سے داد وصول کرتا ہے۔ تنظیم کا یہ عمل کسی معمولی درجے کے تخیل کے بس کا روک نہیں ہوتا۔

    وہ نہ صرف دوسرے انسانوں بلکہ مخلوقات سے بھی احساس کے ذریعے ناقابل بیان رشتہ قائم کرتا ہے۔ انسانوں کو قبولنے کی یہی صلاحیت اس کے گرد مجمع جمائے رکھتی ہے۔وہ بڑی فیاضی سے سب مین محبتیں بانٹتا ہے۔ بعض دفعہ دوسروں کی طرف سے احساس کی اذیت بھی اٹھاتا ہے۔ وہ ایک شریف النفس، انسان دوست محبت و مروت کا پتلا جس کے اندر نیک جذبات کا امنڈتا ہوا سمندر موجیں مارتا ہے۔ پیار و محبت، امن و آشتی اور سکون و اطمینان سے زندگی گزارنے پر یقین رکھتا ہے۔ دوسروں کے کام آکر اپنی زندگی کو بامقصد تصور کرتا ہے اگر کوئی خارجی رکاوٹ اسے ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کرے تو پرواہ نہیں کرتا اور داخلی رکاوٹوں کو شعوری کوشش اور ذہنی رویئے کی تبدیلی سے دورکرتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
    نہ جانے پھر کس سمے اسے لگتا ہے کہ میرا یہ عمل انتہائی بے وقوفانہ اور فضول ہے۔ کیا میں نے ہی دوسروں کی مدد کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟ میں کیوں کروں؟ میرے لئے کوئی کیوں نہ کرے:

    جس وقت یہ شیطانی تصور ہمارے رگ و پے میں سرایت کرتا ہے تو ہمارے اعصاب پر ایسے پہرے بٹھاتا ہے کہ اعصاب شل ہوجاتے ہیں ہم کسی کی اچھی بات کو بھی سننے کے روادار نہیں ہوتے اپنے ان ٹھوس تجربات سے بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں جو فتح مندانہ جذبے کے طور پر ہمارے شعور کے اندر موجود ہوتے ہیں۔
    اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم یا ہمارا معاشرہ؟
    اگر ہم نے معاشرے کو قصور وار ثابت کردیا تو یہ ہماری ہار اور اس کی سب سے بڑی جیت ہوگی کیونکہ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
    معاشرے کی بنیادی اکائی فرد ہے اس معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے کا دمہ دار بھی یہی فرد ہے یہ بات اگر ہم محسوس کر بھی لیں تو اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ اس گھتی کو سلجھانے کی ہمت ہم میں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اتنی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے کہ آسانی سے کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ خود کو سدھارنے کی ہمت ہم میں بہت کم ہے یہ اس وقت بڑھ جائے گی جب ہم میں کڑوا سچ پینے کی جرات پیدا ہوجائے۔ کیونکہ جن افراد میں زہر پینے کی صلاحیت نہ ہو وہ کیا معاشرہ بنا ئیں گے۔

  • error: Content is protected !!