Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپرچترال ضلع کی نوٹفیکشن جاری، شکیل احمد… عوام کو مبارکباد…عبد الطیف

شیئر کریں:

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مال شکیل احمد اےٖڈوکیٹ نے چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کی منظوری کو وہاں کے عوام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے تخفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چترال کے عوام کی پسماندگی دور ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع چترال سے آنے والے عوامی جرگے کو چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے حوالے سے نوٹیفیکشن حوالے کرنے کے موقع پر کیا۔ جرگے کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی وزیرزادہ اور پی ٹی آئی چترال کے ضلعی صدر عبوالطیف کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر علاقہ عمائدین اور پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ما ل نے کہا کہ ضلع چترال کے عوام کے لئے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو دیگر اضلاع کے مساوی ترقی دینے کیلئے جامع پالیسی کے تحت اقدامات کرہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہونے کے علاوہ قدرتی وسائل سے مالامال اور سیاحتی اعتبار سے پرُکشش علاقہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ماضی میں کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی جس سے علاقے کے عوام کے احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔ شکیل احمد نے کہا خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے چترال کے عوام سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے۔

دریں اثنا پاکستان تحریک انصآف کے ضلعی صدر عبد الطیف نے کہا ہے کہ بورڈ آف ریونیو اینڈ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اپر ضلع کاباقاعدہ نوٹفیکشن جاری کردیا گیا ہے. اور پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنا کیا ہوا ایک اور وعدہ آج نبھایا . چترال ٹائمز ڈآٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں‌نے چترال خصوصا اپر چترال کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت نے چترال کے عوام سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ہے . ایک سوال کے جواب میں‌انھوں نے بتایا اپر چترال کی انتظامی امور کو الگ کرنے کے سلسلے میں‌خط وکتابت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے . جوں‌ہی چیف ایگزیکٹیوکی طرف سے منظوری ہوتی ہے . تو اپر چترال کیلئے الگ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی تعیناتی بھی عمل میں‌لائی جائیگی . انھوں‌نے بتایا فلحال لوئیر چترال کے اثاثہ جات کو تقسیم کیا جائیگا. اورمکمل انتظامی امور الگ کرنے میں‌کچھ وقت لگے گا . جس کیلئے عوام کو تحمل سے انتظار کرنا ہوگا. انھوں‌نے مخالفین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ستر سالوں‌سےمستوج ضلعے کی بحالی کیلئے انتظار کیا تو کچھ وقت اور انتظآر کیا جائے تاکہ معاملات کو اخری شکل دیا جاسکے . یادرہے کہ آج پی ٹی آئی چترال کے رہنما عبد الطیف ، رحمت غازی ، وزیرزادہ، سرتاج احمد خان و دیگر نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے اپر ضلع کی نوٹفیکشن وصول کی ہے .

اس طرح صوبے میں اضلاع کی تعداد 27ہو گئی ہے ۔ اعلامیہ کے مطابق دو تحصیلوں مستوج ، تور کہو ،مو ڑ کہو اور 10یونین کونسلوں جن میں چرون ، لاسپور ، مستوج ، یار خون، کھوت، شاگرام، تریچ ، موڑ کہو ، کوشٹ اور اویر شامل ہیں پر مشتمل اس نئے ضلع میں پٹوار حلقوں کی تعداد 77ہے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور وزیر اعظم عمران خان گزشتہ سال دور ہ چترال کے موقع پر چترال کو علیحدہ ضلع قرار دینے کا اعلان کیاگیا تھا جبکہ حالیہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری دیدی گئی تھی جس کا باقاعد اعلامیہ گزشتہ روز محکمہ مال کی جانب سے جاری کیا گیا ۔ چترال کو علیحدہ ضلع کا درجہ قرار دینے کا مطالبہ چترال کے عوام کی خواہش پر کیا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف چترال کے صدر عبدالطیف نے اس فیصلے پر خیبر پختونخوا حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 


شیئر کریں: