Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر اعلیٰ محمودخان نےصوبے بھر میں لینڈ کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کردی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے بھر میں لینڈ کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ لوگوں کے زیادہ تر مسائل زمینوں سے متعلق ہیں۔ لینڈ کمپیوٹرائزیشن سے حقداروں کا تعین ہو سکے گا۔ پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور انصاف کاعمل سہل ، آسان اور تیز تر ہوجائے گا۔ یہ ہدایات اُنہوں نے گزشتہ روزوزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ریونیو بورڈکی طرف سے لینڈ کمپیوٹرایزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے دوران دیں۔وزیر اعلیٰ کو ملاکنڈ ڈویثرن ، دیر اپر اور دیر لوئر میں لینڈ سٹلمینٹ کے حوالے سے مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس کی سمری وزیر اعلیٰ نے منظور کر لی اور اس کیلئے بجٹ کی منظوری بھی دے دی ہے۔اجلاس میں وزیر مال شکیل احمد خان، چیف سیکرٹری کامران بلوچ،انتظامی سیکرٹریز اور کمشنر ملاکنڈ نے شرکت کی۔چترال ٹائمز ڈاٹ کام ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تمام اضلاع میں لینڈ کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اجلاس کوبتایا کہ جن اضلاع میں لینڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل پرائیوٹ اداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے رکا ہوا تھا، اب ان پرائیوٹ فرمز کو فنڈز ادا کر دیئے گئے ہیں اور اضلاع میں جہاں پر لینڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے رکا تھا اب جلد از جلد یہ عمل مکمل ہو جائیگا۔محمود خان نے ہدایت کی کہ لینڈ کمپیوٹرائزیشن سے عوام کوزمینوں کے مسائل میں سہولت پیدا ہو گی اور ان کو انتقالات میں پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ ریونیو بورڈ میں تعیناتیاں اور ٹرانسفرز میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی اور ان میں عوامی مفاد کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جس سے ادارہ اور صوبہ ترقی اور جدیدیت کی جانب گامزن ہو گا۔

دریں اثناوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں صوبہ ہائیر ایجوکیشن میں جدیدیت اور اسے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق جدید خطو ط پر ڈھالنے کیلئے ذہن بنا چکی ہے ۔ ہم ہائر لیول پر کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم معاشرے کی فلاح ، معاشرتی اقدار اور ہماری ترقی کی سمت کا تعین کرنے میں مدد گار ہونی چاہیئے۔ یہ ہدایات اُنہوں نے گزشتہ روز ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئر پرسن ڈاکٹر طارق بنوری سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اٹھارویں ترمیم کی توسیع کے بعد ہائیر ایجوکیشن میں اختیارات کے حوالے سے اجلاس کے دوران دیں۔ اجلاس میں متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو اٹھارویں ترمیم کے بعد ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے صوبے کے اختیارات کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔اس موقع پر بتایا گیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب اور سندھ کے صوبوں نے اپنے ہائیر ایجوکیشن کمیشن بنائے ہیں اور وہ اٹھارویں ترمیم کے توسط سے منتقل شدہ اختیارات استعمال کر رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتیں اپنے ہائیر ایجوکیشن کمیشن بنانے کے آخری مراحل میں ہیں۔ اجلاس کوبتایا گیا کہ سیلبس میں وفاقی حکومت کو مکمل اختیار ہیں اور قانوناً وہ سیلبس تمام صوبائی و وفاقی تعلیمی اداروں کو مہیا کر سکتی ہے جبکہ دوسرے اُمور جس میں مانیٹرنگ اور ایوالیشن ، صوبائی تعلیمی اداروں کی مینجمنٹ وغیرہ صوبائی ہائیر ایجو کیشن کے اختیارات میں شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران مزید بتایا گیاکہ وفاقی ہائیر ایجوکیشن کے قانون اور رولز میں بھی یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ بالا اُمور صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اختیارات میں ہیں۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخوا نے تفصیلات کے آخر میں بتایا کہ صوبائی حکومت کا یہی نقطہ ہے کہ جو اختیارات ہائیر ایجوکیشن کی مد میں صوبے کے ہیں وہ صوبے کے حوالے کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہائیر ایجوکیشن میں صوبائی اختیارات کی تقسیم پر محکمہ ایجوکیشن خیبرپختونخوا سے تفصیلی بات چیت کے بعد آگے بڑھیں گے ۔


شیئر کریں: