Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور ہائی کورٹ نے انچارج سرجیکل اے یونٹ HMC کے خلاف FIR درج کرنیکے حکم کو برقراررکھا

شیئر کریں:

چترال(چترال ٹائمز رپورٹ) معروف ایڈوکیٹ ہائی کورٹ محب اللہ تریچوی نے کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف FIR درج کرنے کے حکم کو برقرار رکھا۔ اس سے پہلے سیشن جج پشاور نے محمد فرحان کے غلط اور تاحیر سے آپریشن کرنے کے باعث اس کے موت واقع ہونے پر پروفیسر ڈاکٹر مظہرخان کے حلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا مگر پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مظہر خان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھا اور حسب قانون سابقہ فیصلہ میں حیات آباد پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان انچارج سرجیکل A یونٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے حلاف مقدمہ درج کرے جو قتل باالسبب کے تحت ہوگا۔
پشاور ہائی کورٹ میں صحافی گل حماد فاروقی کی جانب سے معروف قانون دان محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ پیش ہوکر انہوں نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کے بیٹے محمد فرحان کو پہلے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے معدے کی زحم قرارد یکر گھر بھیج دیا اس کے بعد اسی ہسپتال میں اسی دن چلڈرن او۔ پی۔ ڈی ۔ میں ڈاکٹر سپین گل کو دکھایا جنہوں نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا ۔ اس کے بعد اگلے دن اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چلڈرن سرجیکل یونٹ لے گئے جہاں ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا اسی رات فرحان کی درد مزید زیادہ ہوا تو اسے رات گیارہ بجے ایک بار پھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے مگر ڈاکٹر نے اس کا اپریشن نہیں کی اور رات ایک بجے اسے گھر بھیج دیا۔
چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے محب اللہ تریچوی نے بتایا کہ میرے موکل کے یٹے کو پانچویں بار حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں صبح کے وقت OPD میں لے گئے مگر ڈاکٹروں نے اس کی بروقت آپریشن نہیں کی اور اس کا اپنڈکس پھٹ گیا مگر ڈاکٹروں کو معلوم ہونے کے باوجود اس کی فوری اپریشن نہیں کی اور شام تک روکے رکھا شام کے بعد چند جونیر ڈاکٹروں نے اس کا غلط آپریشن کیا جس کے بعد اس کی حالت غیر ہوگئی اسے ICU ریفر کیا گیا مگر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کوئی بیڈ خالی نہیں تھی اسے اگلے روز خیات ٹیچنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے کے بعداس کا انتقال ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ پشاور کے سیشن کورٹ میں 22-A کے تحت کیس دائیر کیا گیا تھا جس میں عدالت سے درخواست میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹر وں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعاکی گئی تھی جس پر فاضل عدالت نے 06.12.2016 کو فیصلہ سناتے ہوئے حیات آباد پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ HMC کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان کے خلاف فرحان کے موت میں قتل بالسبب اور مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کرے مگر حیات آباد پولیس نے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔
تاہم اسے ڈاکٹر مظہر خان نے پشاور ہای کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر ڈویژن بنچ پر مشتمل چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے دلائل سنتے ہوئے اس کی اپیل کو مسترد کی اور سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت متعلقہ پولیس کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مظہر خان کے خلاف مقدمہ درج کرے۔


شیئر کریں: