Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

’’زندگی ایک نعمت ہے‘‘ کے عنوان سے آغا خان ہائر سیکنڈری سکول کوراغ میں اگاہی پروگرام

شیئر کریں:

کوراغ (نمائندہ چترال ٹائمز ) ملک کے سب سے پرامن ضلع چترال میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پورے ملک کو چونکا دیا ہے چترال کی انتظامیہ اور غیر سرکاری ادارے بھی متحرک ہوگئے۔ سب ڈویژن مستوج کے اسسٹنٹ کمشنر عنایت اللہ اور ماہنامہ شندورکے چیف ایڈیٹر محمد علی مجاہد نے ڈپٹی کمشنر چترال سے مشاورت کے بعد سب ڈویژن مستوج میں کالج اور سکول کی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی منصوبہ بندی کرلی۔ اس سلسلے کا پہلا آگاہی پروگرام گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بونی میں منعقد ہوا۔ دوسرا پروگرام گورنمنٹ ہائی سکول کوشٹ، تیسرا گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریشن اور چوتھا پروگرام آغا خان ہائر سیکنڈری سکول کوراغ میں منعقد ہوا۔ ’’زندگی ایک نعمت ہے‘‘ کے عنوان سے آغا خان ہائر سیکنڈری سکول کوراغ میں منعقدہ آگاہی پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔ سکول کی طالبہ بشریٰ نے کلام پاک کی تلاوت کی، ارجمند بانو نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ سکول کی ہونہار طالبہ عظمیٰ نے خود کشی کی وجوہات ، اسباب اور تدارک کے حوالے سے جامع تقریر کی۔ اے کے ای ایس کے جنرل منیجربریگیڈئر (ر)خوش محمد اور سکول کی پرنسپل سلطانہ برہان الدین نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔تقریب کے اختتام پر پروگرام میں شریک طالبات کو انعامات اور توصیفی اسناد دیئے گئے۔گرلز ڈگری کالج بونی میں اسی موضوع پر بڑی تقریب منعقد ہوئی۔ معروف عالم دین اور شاہی مسجد چترال کے خطیب مولانا خلیق الزمان کاکاخیل، ڈسٹرکٹ خطیب مولانا فضل مولیٰ، معروف سکالر سید امین شاہ، آغا خان ہیلتھ سروسز کی سائیکالوجسٹ ناہیدہ پروین اور شازیہ اور کالج کی پرنسپل سیدہ نگہت پروین نے خطاب کیا۔
مولانا خلیق الزمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی ایک نعمت ہی نہیں، انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی اس بیش بہا نعمت کا شکر ادا کیا جائے تو انسان کو زندگی کی قدر کرنے کا سلیقہ آتا ہے اور جب زندگی کی قدر معلوم ہوجائے تو خود کشی جیسے انتہا پسندانہ اقدام سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں آج انسان کو بے شمار نعمتیں اور سہولتیں حاصل ہیں اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ مولانا خلیق الزمان کا کہنا تھا کہ چترال میں خود کشی کے واقعات کی وجہ غربت نہیں۔ بلکہ دین اور اسلامی اقدار سے دوری ہے۔ دین سے آگاہی کے ذریعے خود کشی کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تقریب سے خطاب میں ضلعی خطیب مولانا فضل مولا کا کہنا تھا کہ والدین کو اپنے بچوں سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے چاہئیں تاکہ خاندان میں فاصلوں کو کم کیا جاسکے۔ موبائل، انٹرنیٹ کی سہولت نے اگرچہ زندگی میں کافی اسانیاں پیدا کی ہیں تاہم خونی رشتوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ خاندانی نظام کو مضبوط بناکر ان فاصلوں کو پاٹا جاسکتا ہے۔ ماہرین نفسیات ناہیدہ پروین اور شازیہ نے خود کشی کے اسباب پر سائنسی انداز میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈپریشن کو خود کشی کا اہم سبب قرار دیا۔ تقریب سے خطاب میں اسسٹنٹ کمشنر بونی عنایت اللہ نے کہا کہ چترال جیسے پرامن علاقے میں خود کشی کے واقعات تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بروغل، لاسپور، یارخون اور علاقے کے دور دراز دیہات میں ہر بچے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور ان تک یہ پیغام پہنچائیں گے کہ ان کی زندگی پوری قوم کی ضرورت ہے۔ اے سی نے بتایا کہ انہوں نے پورے اپرچترال میں منظم مہم شروع کردی ہے ہر یونین کونسل اور ہرسکول میں جاکر زندگی کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ خود کشی کے واقعات پر قابو پانے کی اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔انہوں نے چترال کے عوام میں خود کشی کے خلاف شعور اجاگر کرنے میں ماہنامہ شندور کی کاوشوں کو سراہا۔واضح رہے کہ ماہنامہ شندور چیف ایڈیٹر محمد علی مجاہد کی سربراہی میں 2007سے چترال کے مسائل اجاگر کرنے اور انہیں حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نومبر2007میں چترال پریس کلب کے تعاون سے چترال میں اسی نوعیت کی آگاہی مہم چلائی گئی۔ اس کے بعد عوامی آگاہی کے ساتھ چترال اور گلگت بلتستان کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے، شندور پولو ٹورنامنٹ کی بحالی، ثقافت و سیاحت کے مواقع کو اجاگر کرنے میں ماہنامہ شندور کا مرکزی کردار رہا ہے۔

 

 


شیئر کریں: