Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نسوار پر پابندی…………… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام سرکاری و نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سگریٹ اور نسوار کے استعمال پر فوری پابندی لگادی ہے۔ محکمہ تعلیم نے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا پر ہی نہیں بلکہ اساتذہ اور دیگر عملے پر بھی پابندی کا اطلاق ہوگا۔محکمہ تعلیم نے نشہ آور اشیاء کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے بارے میں تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا نے پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’برق گرتی ہے تو بے چارے طلبا پر‘‘ اس سے پہلے موبائل کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔نقل کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کریں تو ہاسٹلوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے کا الزام لگا کر بے دخل ہی نہیں بلکہ ڈنڈے برسا کر لہولہان کیا جاتا ہے۔ طلبا دانستہ طور پر اس فیصلے پر سیاسی رنگ و روغن لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔جو طلبا اور اساتذہ ان ممنوعہ اشیاء کے استعمال سے اب تک دور ہیں۔ انہوں نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب گملوں سے پھولوں کی اصل خوشبو آئے گی اور صفائی کے عملے کا کام بھی آسان ہوگا۔ماحولیات اور آلودگی کے حوالے سے حساس لوگوں نے بھی فیصلے کو سراہا ہے۔ جبکہ نسوار سے دل بہلانے والوں نے اسے ظالمانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک مجلس میں واعظ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا واقعہ سنا رہا تھا۔ واعظ نے زیادتی کے واقعات کو بڑھاچڑھا کر بیان کرنے کی کوشش کی تاکہ مجلس میں جذباتی کیفیت پیدا ہو۔ مگر سامعین ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ واعظ نے بھی سامعین کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کہنے لگے کہ ظالموں نے بے چارے مسلمانوں پر نسوار کی سپلائی تک بند کردی۔ یہ سننا تھا کہ سامعین دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ممکن ہے کہ یہ واقعہ کسی نے گڑھ لیا ہو۔ لیکن اس کا مقصد بالکل واضح ہے کہ وہ نسوار کی اہمیت اور ضرورت کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ نسوار خیبر پختونخوا میں بسنے والوں کے معاشرتی اقدار کا صدیوں سے حصہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ کوئی اسے روشن دماغ کہتا ہے تو کوئی پریوں کا نشہ قرار دیتا ہے ۔کچھ من چلوں نے اس کا نام ٹوبیکو ٹافی رکھا ہے۔ نسوار کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب یہ خیبر پختونخوا کی اہم پیداوار کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ یہاں سے نہ صرف ملک کے مختلف شہروں بلکہ بیرون ملک بھی سپلائی کی جاتی ہے۔ اب تو نسوار کے مختلف برانڈ بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ باڑہ اور بنوں کی نسوار سب سے مقبول برانڈ میں شمار ہوتی ہے۔ نسواری لوگ اس کی خوبیاں بیان کرنے لگیں تو زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ دانت کے دردکو کم کرنے کے لئے انہوں نے نسوار ڈالنا شروع کیا تھا۔ اسی نسوار نے پوری بتیسی کا بیڑہ غرق کردیا مگر نشہ ایسا ہے کہ’’ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔کوئی یہ بہانہ تراشتا ہے کہ پیٹ میں شدید درد اٹھا تو دوستوں نے نسوار ڈالنے کا مشورہ دیا۔ تب سے اس کی عادت پڑگئی۔ اکثر لوگ اسے تنہائی کا ساتھی بھی قرار دیتے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ یہ تھکاوٹ دور کرتی ہے۔ کوئی یہ تاویل پیش کرتا ہے کہ یہ بے خوابی دور کرنے کا سب سے مجرب فارمولہ ہے۔ نسوار کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے متاثر ہوکر کچھ لوگ اس میں لونگ ، دار چینی اور دیگر جڑی بوٹیاں بھی ملاتے ہیں تاکہ بدبو کا اثر کم ہو اور دیر تک تازہ رہے۔ خیبر پختونخوا میں نسوار تیار کرنا اب صنعت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس کی کھپت اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ نسوار بیچنے والے ٹٹ پونجی قسم کے لوگ اب لاکھوں کروڑوں میں کھیلتے ہیں۔اب آرڈر پر مال تیار کیا جاتا ہے اور ہوم ڈیلیوری کا بندوبست بھی کیا جارہا ہے۔ ایک نسوار ساز کمپنی نے آج سے پچیس سال پہلے شہر کے اکلوتے اردو اخبار میں اشتہار دیا تھا۔ جس میں لکھا تھا’’ نسوار کی دنیا میں انقلاب۔ اب ہماری نسوار شہر کے تمام بڑے سٹورز پر دستیاب ہے‘‘یہ ساری باتیں بتانے کا مقصد نسوار کی اہمیت جتانا یا کسی کو نسوارخوری پر مائل کرنا ہرگز نہیں۔ صحت پر اس کے مضر اثرات پر پورے پورے رسالے چھاپے گئے ہیں لیکن ہم ان کی تفصیل میں جاکر کسی کے رزق میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں نسوار کے استعمال پر پابندی سے اس کی کھپت ضرور کم ہوگی کیونکہ پچاس سے ساٹھ فیصد نوجوان عادت سے مجبور یا شوقیہ طور پر اس کا استعمال کرتے ہیں۔کسی نے تعلیمی اداروں میں یہ افواہ بھی پھیلائی تھی کہ نسوارکے استعمال سے پڑھائی پر توجہ مرکوز رہتی ہے اور نیند دور بھاگتی ہے۔ نوجوانوں کے لئے ہمارا بالکل مفت مشورہ یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ نسوار کو اپنی عادات سے منفی کرنے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔ کیونکہ کل کلاں اگر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے گیٹ پر نسوار کا کھوج لگانے والی مشینیں نصب کی گئیں اور اس کے استعمال کو قابل دست اندازی پولیس قرار دیا گیا تو مشکلات دوچند ہوسکتی ہیں۔


شیئر کریں: