Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپر چترال، چند گزارشات ……………..ترش و شیرین…. نثار احمد

Posted on
شیئر کریں:

اللہ اللہ کرکے تحریک انصاف نے کابینہ میٹنگ میں اپر چترال کے قیام کی منظوری دے کر اپنے پرانے وعدے اور اہالیانِ چترال کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کر ہی دیا. توقع یہی ہے کہ اگلے چند دنوں میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو گا اور اِس نوزائیدہ ضلع کے انتظام و انصرام کے لئے سنجیدہ عملی کوششوں کا آغاز بھی.
ضلع چترال کی انتظامی تقسیم گزشتہ کئی سالوں سے اہالیانِ چترال میں زیرِ بحث و زیرِ غور تھی. شروع شروع میں چترال کی نامی گرامی سرکردہ و سربرآوردہ سیاسی اور مذہبی شخصیات کی طرف سے نہ صرف اِس مجوّزہ تقسیم کی مخالفت کی گئی بلکہ ایسی کسی تقسیم کو ایک سازش سمجھا اور کہا گیا.
پھر جب عوام کا شعور انگڑائی لے کر بیدار ہو گیا تو نہ صرف مخالفت دَم توڑ گئی بلکہ چترال کو انتظامی بنیادوں پہ دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت و اہمیت کا احساس پہلے سے زیادہ گہرا بھی ہو گیا . یوں ضلع کے طول و عرض سے اپر چترال کے قیام کے لئے آوازیں اُٹھنی شروع ہوئیں تاآنکہ نوبت باایں جا رسید کہ نو نومبر 2017 کو چترال پولو گراؤنڈ میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایک نوٹیفکیشن کے زریعے چترال کی تقسیم اور اپر چترال کے جلد از جلد قیام کا مُژدہ سنایا.
سن 1969 کو اپنے تاریخی روایتی خود مختار تشخص کی قربانی دے کر پاکستان میں ضم ہونے والا ضلع چترال رقبے کے لحاظ سے صوبہ خیبر پختون خواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے. مالاکنڈ ڈویژن کے باقی تمام اضلاع ایک پلڑے اور چوبیس یونین کونسلوں پر مشتمل یہ ضلع دوسرے پلڑے میں ڈال دیا جائے تو چترال والا پلڑا بہت زیادہ بھاری ہو گا. کل صوبے کے بیس فیصد ایریا پر مشتمل یہ ضلع اپنی مخصوص جغرافیائی ہیئت اور دور افتادگی کی وجہ سے گوں نا گوں مسائل کا شکار ہے. ایک طرف رقبہ انتہائی بے تحاشہ پھیلا ہوا اور فلک بوس پہاڑوں میں محصور در محصور ہو، دوسری طرف آبادی کی بنیاد پہ ملنے والا ترقیاتی فنڈ اونٹ کے منہ میں زیرے کے بمثل محدود الحجم ہو تو پھر علاقے میں پسماندگی نہیں، تو کیا آئے گی.
ہیڈ کوارٹر (چترال) سے بروغل، یارخون، لاسپور ، میڑپ اور کھوت وغیرہ جیسے دیہات تک پہنچتے پہنچتے ترقیاتی فنڈ کا اچھا خاصا حصہ “دشوار گزار راستہ ” ہی نگل جاتا ہے. مزید یہ کہ دور دراز علاقوں کے باسیوں کے لئے دفتری و عدالتی امور نمٹانے، اور علاج معالجے کے لئے چترال ٹاؤن پہنچنا بھی نہ صرف تگڑا و سخت جان گُردہ مانگتا ہے بلکہ بٹوہ بھی خاصا وزنی اور فُل بھرا ہوا ڈیمانڈ کرتا ہے. ایسے میں مسائل کے دائرے کو سکیڑنے کے لئے یہ بہت ضروری تھا کہ چترال کو دو حصوں میں بانٹ کر علاقے کی ترقی اور لوگوں کے لئے سہولت کی کوئی سبیل نکالی جائے. اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریکِ انصاف کی لیڈر شپ کا دو ضلعوں میں تقسیم کا کارنامہ انتہائی قابلِ ستائش ہے. اس بڑے اچیومنٹ پہ عقیدت کے بھرے ہوئے ٹوکرے اور تحسین کی بوریاں پی ٹی کی لیڈر شپ بالخصوص وزیر زادہ کی خدمت میں پیش نہ کرنا بے مروتی ہو گی.
چترال کی تقسیم اور اپر چترال کے قیام کا یہی فائدہ بھی کسی طور کم نہیں ہے کہ ہر بندے کے لئے دفترات تک رسائی سستی بھی ہو گی اور سہل بھی. دفتری امور نمٹانا چترال کے دور دراز علاقوں اور مختلف درّوں کے شہریوں کے لئے بھی نسبتاً آسان ہو گا. ظاہر ہے جب اپر چترال کے لئے الگ ہیڈ کوارٹر بنے گا تو تمام محکموں کے دفترات بھی وہیں ہوں گے. پہلے جہاں ایک ڈی سی اتنے بڑے ایرئیے کا زمہ دار تھا وہاں اب دو ڈی سی ہوں گے. ہر محکمے میں ایک کے مقابلے میں دو مجاز افسر ہوں گے. ترقیاتی فنڈ ڈبل بھی ہو گا اور اُس کا استعمال بھی کم خرچ ہو گا. محکمہ تعلیم سے لے کر پولیس تک تمام شعبوں میں ملازمت کے مواقع زیادہ پیدا ہوں گے.
ضلع اپر چترال کے اعلان کے ساتھ ہی کچھ دوستوں کی طرف سے اِن خدشات کا اظہار شروع ہو چکا ہے کہ اپر چترال کو انتظامی طور پر مستحکم و اپریشنل ہونے میں کافی وقت لگے گا. تب تک کے لئے اپر چترال کے شہری اپنے مسائل کے حل کے لئے پہلے سے زیادہ پریشان مختلف دفترات کے چکروں میں ہی رُلتے پِستے رہیں گے.
یہ خدشہ اتنی سرسری اور بلاوجہ بھی نہیں ہے ہماری روایتی بے حس سیاسی قیادت کی تکنیکی مسائل سے بے خبری اور سست رفتار بیوروکریسی کی کارگردگی ہی ایسے سوالات کی باعث بن رہی ہے .
اگرچہ حقیقت یہی ہے کہ اس نوزائیدہ ضلع کو پوری طرح سنبھلنے، چلنے اور ترقی کرنے میں وقت لگے گا. لیکن اگر اپر چترال کی پوری سیاسی قیادت بلا امتیاز تمام مقامی نمائندگان کو لے کر حکمت و بصیرت کا عَلم تھامے پوری تندہی کے ساتھ پیش آمدہ متعلقہ مسائل کے حل کے لئے کمربستہ ہو جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مسائل فوری بنیادوں پہ حل نہ ہوں.
حقیقت یہی ہے کہ چترال کی دو اضلاع میں تقسیم جتنی ضروری و اہم تھی اِس سے کہیں زیادہ ضروری و اہم چیز یہ ہے کہ نئے ضلع کو ہنگامی بنیادوں پہ فعال انتظامی اداروں اور باصلاحیت اہلکاروں سے آراستہ و پیراستہ کیا جائے تاکہ عوام کو لاحق زہنی بے چینی و درپیش مشکلات کم سے کم ہوں. خاکم بدہم اس ایشو کو لے کر بھی سیاست سیاست کھیلا گیا تو پھر اِس علاقے کی ترقی اور ترقی کے خواب کا اللہ ہی حافظ ہو.
یہاں ہمارے منتخب نمائندوں کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ اپر چترال کی انتظامی ضروریات و لوازمات کی ہنگامی بنیادوں پر تکمیل کے لئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کریں. بالخصوص پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت اور مخصوص سیٹ پہ منتخب شدہ ایم پی اے جناب وزیر زادہ سے یہ امید باندھی جاتی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کے حل کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے.
محترم وزیر زادہ پشاور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور اخلاق و کردار کی دولت سے مالا مال ایک نوجوان وژنری لیڈر ہیں. انسانیت کی پہ صرف یقین ہی نہیں رکھتے بلکہ عملی طور پر اِس کے لئے کچھ کر گزرنے کے مبارک جذبے سے سرشار بھی ہیں. یقیناً وہ اس مسئلے کو بھی اپنی ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر رکھیں گے…آخر میں اپر چترال سب کو مبارک ہو.


شیئر کریں: