Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی حکومت کا کوہستان میں496میگاواٹ پن بجلی منصوبہ شروع کرنے کااعلان

    November 6, 2018 at 9:32 pm

    پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمودخان نے صوبے میں توانائی کے شعبے کی ترقی کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کوآنے والے دنوں میں سنگ میل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوامیں پائے جانے والے پن بجلی اور تیل وگیس کے قدرتی وسائل یہاں کا قیمتی خزانہ ہیں جن کو بروئے کارلاکرنہ صرف ملک کوموجودہ توانائی کے بحران سے نکالاجاسکتاہے بلکہ توانائی کے منصوبوں سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی آمدن بھی ہوگی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جنوبی کوریا کی توانائی کے شعبے میں سرکاری سطح پر کام کرنے والی کمپنی کوریا ہائیڈرو اینڈ نیوکلیئرپاوراورانرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواحکومت کے درمیان ضلع کوہستان میں496میگاواٹ سپاٹ گاہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کوپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(PPP)موڈ میں شروع کرنے کے لئے معاہدے پر دستخظ کے سلسلے میں منعقدہ پروقارتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں جنوبی کوریاکے سفیرSung Kyu Kwakکے علاوہ صوبائی وزیر خزانہ تیمورسلیم جھگڑا،وزیراعلیٰ کے مشیربرائے توانائی حمایت اللہ خان،چیف ایگزیکٹوپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ اوردیگراعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ سپاٹ گاہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کو شروع کرنے کے لئے مفاہمتی یاداشت یعنی MoUپر دستخط خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے سیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان اورکورین کمپنیKHNPکے چیف ایگزیکٹوJae Hoon Chungنے کئے۔منصوبہ آئندہ 5سالوں میں مکمل ہوگاجوصوبے کی حالیہ تاریخ میں سب سے بڑاپن بجلی کا منصوبہ ہوگا۔کورین کمپنی اورحکومت خیبرپختونخواکے باہمی تعاون سے سپاٹ گاہ پن بجلی منصوبے سے 496میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی اور صوبے کو سالانہ تقریباً3ارب روپے کی آمدن ہوگی۔واضح رہے کہ منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سال2010میں مکمل کی جاچکی ہے۔مشیرتوانائی حمایت اللہ خان نے بتایاکہ کورین سرمایہ کار ضلع کوہستان میں545میگاواٹ کیگاہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ،ضلع سوات میں215میگاواٹ اسریت کیدام ہائیڈروپاورپراجیکٹ اورکالام اسریت197میگاواٹ ہائیڈروپاورپراجیکٹس پر بھی جلدکام کاآغازکرینگے ۔

    دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے قائم پراجیکٹ سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں منصوبے پر تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے وفاقی حکومت کی طرف سے داسو ہائیڈرو پاورپراجیکٹ کیلئے مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کو صوبے اور وفاق دونوں کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ صوبائی حکام کو منصوبے کیلئے درکار اراضی کے حصول سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے تیز رفتار اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ پراجیکٹس سٹیرنگ کمیٹی کے گیارویں اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی ذخائر فیصل واوڈا، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے توانائی و بجلی حما یت اللہ خان، متعلقہ وفاقی ڈویثرنز کے سیکرٹریز ، ایس ایم بی آر، چیئرمین واپڈا، کمشنر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان، پراجیکٹ ڈائریکٹر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں تاخیر کے اسباب ،موجودہ حکومت کی اس منصوبے میں گہری دلچسپی، منصوبے کیلئے قائم کمیٹی کے مختلف اجلاسوں کی کاروائی اور فیصلہ جات ،منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں ،مطلوبہ اقدامات اور دیگر پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اس اہم منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے صوبے اور وفاق دونوں کو نقصان ہو رہا ہے،اس موقع پر متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے اس منصوبے کے تیز رفتار قیام کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور مسائل کے حل کیلئے قانونی طریق کار نکالا گیا۔تمام سٹیک ہولڈرز نے اس منصوبے میں مزید تاخیر نہ کرنے پر اتفاق کیا ، وفاقی وزیر نے منصوبے کیلئے درکار سٹاف ہائر کرنے ،زمین کے حصول اور دیگر اقدامات کیلئے مالی و تکنیکی تعاون اور سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی،وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر کی منصوبے میں دلچسپی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے اور اس منصوبے کی تکمیل یقینی بنائیں گے،بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس پن بجلی کی دیگر متعدد سکیمیں بھی موجود ہیں سابق صوبائی حکومت مختلف منصوبوں پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کر چکی ہے جبکہ موجودہ حکومت کی طرف سے کوریا کی سرکاری کمپنی کے ساتھ496میگا واٹ کے حامل سپاٹ گاہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پربھی ایم او یو ہو چکا ہے، وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پچھلی حکومت میں وفاق کی طرف سے مطلوبہ تعاون نہیں مل رہا تھا مگر اب خوش قسمتی سے وفاق میں بھی ہماری حکومت ہے جسکی وجہ سے صوبے کیلئے کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔ صوبائی حکومت اپنا کام خوش اسلوبی سے مکمل کرے گی ۔

  • error: Content is protected !!