Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • محکمہ سیاحت ، سپورٹس اور کلچر کی تباہی……. تحریر: محمد ذاکرگلگت

    November 5, 2018 at 9:20 pm

    آج کل اخبارات میں یہ خبریں ذینت بنی ہوئی ہیں کہ محکمہ سیاحت والے گلگت بلتستان کے سینئر اور عوام کے دلوں میں برسوں سے راج کرنے والے فنکاروں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر تلے ہوئے ہیں ۔گلگت بلتستان کے اندرونی سطح کے ثقافتی شوز ہوں یا پھر ملکی سطح کے قومی لوک ورثہ پروگرامات ، محکمہ سیاحت والے گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان کی ثقافتی تنظیموں اور ان سے وابسطہ سینئر شعراء و فنکاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی سطح کے ایسے اہم پروگراموں کے لیے اپنے من پسند اور ماڈرن دور کے فنکاروں کا چناؤ کرتے ہیں جو کلچرل کے اعتبار سے گلگت بلتستان کے نمائندگی کرنے کی اہلیت تک نہیں رکھتے ہیں ۔ سینئر فنکاروں کی بھی شکایت ہے کہ اسلام آباد اور دیگر اہم شہروں میں گزشتہ تین سالوں کے دوران جتنے بھی قومی ثقافتی پروگرامات ہوئے ہیں ان میں گلگت بلتستان سے سینئر فنکاروں کو لے جانے کے بجائے راولپنڈی ، اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں مقیم ایسے فنکاروں کو سلیکٹ کیا جاتا ہے جو ان شہروں میں شوقیہ طورپر فن سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کا گلگت بلتستان کے ثقافتی این جی اوز سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے معروف سینئر شاعر و موسیقار شاہ زمان شاہ کی قیاد ت میں مختلف ثقافتی تنظیموں کے ایک وفد نے ڈائریکٹر محکمہ سیاحت اقبال صاحب سے ملاقات کی تو ڈائریکٹر صاحب نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں کلچرل کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ثقافتی تنظیموں اور فنکاروں کو نظر انداز کریں ۔ بہر حال حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں منعقدہ ” لوک ورثہ پروگرام ” میں انہیں کیوں نظر انداز کیا گیاوہ اس کی انکوائری کریں گے اور آئندہ فنکاروں کو ایسی کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیں گے ۔ فنکاروں کے وفد نے ڈائریکٹر سیاحت کو بتایاکہ یہ سب ایک ایسا شخص کر رہا ہے جن کو محکمہ نادرا سے لاکر محکمہ سیاحت میں بٹھا دیا گیا ہے اور وہی شخص محکمہ ہذ امیں فنکاروں کے لیے فرعون بن چکا ہے۔
    میں اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ محکمہ سیاحت والے اس طرح کی زیادتیاں نہ صرف مقامی سینئر فنکاروں کے ساتھ کرتے آرہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے مقامی سطح کے کھلاڑیوں کو بھی کھڈے لائن کی پالیسی شروع کردی ہے۔ فنکاروں کو اس بات کا علم نہیں کہ محکمہ ہذا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہرسال کلینڈر آف ایونٹ جاری کرنے کا پابند ہے ۔ ثقافتی ایونٹ آف کلینڈر تو ایک عرصے سے جاری تک نہیں ہوا اور اس سال محکمہ سیاحت نے زیادتیوں کی تو حد کردی کہ تاحال کھیلوں کے حوالے سے سال 2018-19 ؁ء کا کلینڈر آف ایونٹ جاری نہیں ہوسکا ہے۔ قانون کے مطابق سالانہ کلینڈر آف ایونٹ تمام سپورٹس تنظیموں اور ثقافتی تنظیموں کی مشاورت سے بنایا جاتا ہے مگر کلینڈر آف ایونٹ کا جاری نہ ہونا اس خدشے کو ظاہر کرتا ہے کہ کھیل و ثقافت کے لیے مختص سالانہ کروڑوں روپے کو اپنے مختلف طریقوں سے خرد برد کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی ثقافت تو پہلے ہی معدوم ہوکر رہ گئی ہے اور اب سپورٹس کا شعبہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچنے کے قریب ہے۔بدقسمتی سے کھیلوں کے فروغ کے لیے محکمہ سیاحت کے ذمہ داران بالخصوص ڈائریکٹر سپورٹس حسین علی صاحب لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں، حالانکہ وہ سپورٹس ایسوسی ایشن کو بجٹ دینے کا پابند ہے اور سپورٹس تنظیمیں بھی اپنے مخصوص بجٹ کے اندر رہتے ہوئے خوبصورت پروگرامات ترتیب دیتی ہیں ۔ اب یہ پیسے بٹورنے اور سپورٹس فنڈ خرد برد کرنے کا چکر نہیں تو اور کیا ہے کہ حسین علی صاحب بھی اس پالیسی کو ترک کرتے ہوئے پارٹنر شپ کی پالیسی لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ضلع غذر میں بین الصوبائی فٹ بال چمپین شپ کی جوفائل کھول دی گئی ہے اس میں اب تک کروڑوں روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے جبکہ ضلع غذر کے ہوٹلوں کے اخراجات اب تک بقایا ہیں اور یہی سب کچھ بے چارے سینئر فنکاروں کے ساتھ بھی ہورہا ہے ۔ محکمہ سیاحت میں فنکار برادری کی نمائندگی کے نام پر جس شخص کو نادرا آفس سے لاکر محکمہ سیاحت کے سیا و سفید کا مالک بنادیا گیا ہے وہ باہر سے ایک ڈانسر کو بلاکر علاقہ بھر کے ماحول کو خراب کرنے میں تو کوئی عار محسوس نہیں کرتا البتہ گلگت بلتستان کے کسی سینئر فنکار کے نام پر پروگرام کرنے کے لیے تیار تک نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شخص وزیراعلیٰ کی سفارش پر محکمہ سیاحت کے کلچرل ڈپارٹمنٹ میں بٹھا دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ صاحب کو اتنا اہم ذمہ داری ایک ایسے شخص کو دینے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ جب مملکت پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین صاحب گلگت بلتستان کے دورے پر آئے تھے تو اس دوران صدر پاکستان کے اعزاز میں سرینا ہوٹل میں جو کلچرل شو ہوا تھا وہاں علاقے کا کوئی ثقافتی نغمہ گانے کے بجائے انڈین گانا پیش کرنے والا کون تھا جس کی وجہ سے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کے عوام کو شرمندگی اُٹھانا پڑی بلکہ صدر مملکت جناب ممنون حسین صاحب نے بھی انتہائی برہمی کا اظہا ر کیا تھا۔ اب ایسے شخص کو گلگت بلتستان کی ثقافت کا علمبردار بنا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تو زیادتیاں ہی تو ہوں گی ۔ میں داد دیتا ہوں گلگت بلتستان کے سینئر صحافی شراف الدین فریادؔ کو جوعلاقے کے ایک اچھے شاعر اور خوبصورت آواز کے مالک گلوکار بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ روز سرینا ہوٹل میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تقریب میں موجود وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کی توجہ اس جانب مبذول کرایا اور گلگت بلتستان کے سینئر فنکاروں اور کلچرل تنظیموں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں اور سپورٹس تنظیموں کو بھی کھڈے لائن لگانے جیسی پالیسیوں کا بھی نوٹس لیں اور اب تک محکمہ سیاحت میں سپورٹس و کلچرل کے مد میں کتنا فنڈ خرچ کیا گیا ہے اس کا حساب مانگا جائے ۔

  • error: Content is protected !!