Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غذائی قلت کا ممکنہ بحران………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

اقوام متحدہ کے چار ذیلی اداروں نے پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کئے گئے تو2030تک خطے میں بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور خوراک کے عالمی پروگرام کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 9فیصد بچوں کو مناسب اور متوازن خوراک دستیاب ہے۔91فیصد بچوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے موافق خوراک میسر نہیں ۔پاکستان میں ایک ماہ سے چودہ سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد چھ کروڑ چار لاکھ تیس ہزار ہے۔پندرہ سے چوبیس سال کے عمر کے نوجوانوں کی تعداد چار کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ گویا دس کروڑ سے زیادہ آبادی بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان کی خوراک میں روٹی ، چائے، دالیں اورسستے چاول شامل ہیں۔ گوشت،مچھلی، مرغی،سبزیاں اور پھل شازو نادر ہی انہیں ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 64فیصد بچے خوراک میں آئرن کی کمی کا شکار ہیں 54فیصد بچوں میں وٹامن اے اور40فیصد کی خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں آبادی میں اضافے کی شرح دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے جو جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں شرح آبادی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی چھ کروڑ ستر لاکھ اور مغربی پاکستان کی چھ کروڑ تھی۔ آج پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی سولہ کروڑ چالیس لاکھ ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ وسائل گھٹتے جارہے ہیں۔ خصوصا زرعی اراضی کی مقدار سیلابوں، دریاوں کے کٹاو، سیم و تھور اور تعمیرات کی شکل میں سیمنٹ اور سریے کے جنگل اگنے کی وجہ سے مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں زرعی اجناس دوسرے ممالک سے درآمد کرنی پڑتی ہیں۔ زچہ اور بچہ کومناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ایک ہزار میں سے 54بچے اپنی زندگی کے ایک سال بھی پورے نہیں کرپاتے۔ ہر آٹھ سیکنڈ میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ گویا ایک ہزار کی آبادی میں سالانہ 30بچوں کا اضافہ ہورہا ہے جبکہ ایک ہزار میں سے سات افراد انتقال کرجاتے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی حالیہ رپورٹ کے مطابق غذائی قلت اور صحت کے مسائل کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ ساڑھے سات ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ ہر سال مناسب خوراک ماں اور بچے کو نہ ملنے کی وجہ سے ایک لاکھ 77ہزار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین کو غذائیت بخش خوراک نہ ملنے کی وجہ سے نوزائیدہ بچے جسمانی کمزوری اور مختلف بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پیدائش کے ایک سال کے اندر قوت مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔آبادی میں بے تحاشا اضافے کی بڑی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان اور حکومتوں کی غفلت اور لاپرواہی ہے۔ عوام کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ جس طرح آمدن کے حساب سے ہم اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہیں اسی طرح آمدن کے لحاظ سے بچوں کی بھی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اتنے ہی بچے پیدا کئے جائیں کہ انہیں بہتر خوراک، اچھی تعلیم ، مناسب پہناوا اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ بچوں کی فوج پیدا کرنا نہ صرف اس خاندان کے لئے باعث تکلیف ہے بلکہ پورے معاشرے پر یہ بچے بوجھ بن جاتے ہیں۔آبادی کو کنٹرول کرنے کے
لئے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سمینار، مذاکرے اور مباحثے کرنے اور کروڑوں کے اشتہارات چھپوانے کے بجائے سکولوں، مساجد، مدارس کے ذریعے عوام تک پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کو کرپشن سے بھی زیادہ آبادی میں ہوشرباء اضافے سے خطرات لاحق ہیں۔مشہورماہر معاشیات تھامس مالتھس کہتے ہیں کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے منصوبہ بندی نہ کی گئی تو زمین پر انسانوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے قدرت کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ ملکوں کے درمیان خونریز جنگیں چھڑ جاتی ہیں۔ زلزلے آتے ہیں ، طوفان اور سیلاب سے ہزاروں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور زمین پر بوجھ کم رہ جاتا ہے۔ قدرتی آفتوں اور تباہی کا انتظار کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی چادر کے مطابق پاوں پھیلانے کے اصول پر عمل شروع کریں۔ زراعت کے جدید اصولوں کو اپنا کر غذائی پیداوار میں ضرورت کے مطابق اضافے کے لئے اقدامات کریں۔اللہ تعالیٰ کا بھی یہی وعدہ ہے کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرے۔


شیئر کریں: