Chitral Times

Apr 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی…….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر پابندی لگائی ہے کہ وہ دوران ڈیوٹی سمارٹ فون اور ٹیبلٹ(بڑے سائز کا ٹچ موبائل) استعمال نہیں کرسکیں گے۔ صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ نے خبردار کیا ہے کہ پابندی زبانی کلامی نہیں۔ بلکہ تمام اسپتالوں کے سربراہوں کو نئی پالیسی کے فوری نفاذ کی ہدایت کی گئی ہے۔ مانیٹرنگ ٹیمیں گاہے بگاہے اسپتالوں کا دورہ کرکے نئی پالیسی پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گی اور خلاف ورزی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت کے تازہ فرمان پر ڈاکٹروں اور نرسوں نے خفگی کا اظہار کیا ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ حکومت نے انہیں تختہ مشق بنادیا ہے۔ پہلے حاضری لگانے کا بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا گیا۔ اسپتال آنے اور چھٹی کرنے کے اوقات کا ریکارڈ رکھا جانے لگا۔ وہ ہفتے میں ایک دو بار ڈیوٹی پر آکر باقی دنوں میں اپنی دوسری مصروفیات نمٹاتے تھے۔ انسان سماجی کیڑا ہے۔ انہیں ڈیوٹی کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا ہوتا ہے۔ رشتہ داروں کی شادیوں میں جانا، بچوں کو لے کر اندرون یا بیرون ملک دورے کرنا، اپنے ذاتی اسپتال اور کلینک کو وقت دینا ، رشتہ داروں اور دوستوں کی غمی خوشی میں شرکت کرنا بھی معمولات زندگی کا حصہ ہیں۔ صبح سے شام تک اسپتال میں ڈیوٹی اور شام سے رات گئے تک کلینک میں ڈیوٹی دے کر انسان پیسے بنانے کی مشین بن جاتا ہے۔ پیسہ ہی تو سب کچھ نہیں ہے۔ انسان کو سکون، آرام اور تفریح کی بھی ضرورت ہے۔ بات آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینے تک محدود رہتی۔ پھر بھی غم نہیں تھا۔ اب بڑے اسپتالوں میں شام کے اوقات میں پرائیویٹ کلینکوں میں بیٹھنے کی ذمہ داری کا طوق بھی گلے میں ڈالا گیا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں انسان کا ڈیڑھ دو لاکھ کی تنخواہ پر کہاں گذارہ ہوتا ہے۔ ڈیوٹی کے اوقات میں تھوڑا وقت نکال کر دو چار پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی جاتے تھے۔ تاکہ چار چھ لاکھ مزید کما کر گھر کا چولہا گرم رکھ سکیں۔ وہ کمائی بھی ہاتھ سے گئی۔پرائیویٹ کلینکوں سے مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں داخل کرنے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی۔ ڈیوٹی کے دوران ادویہ ساز کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات پر بھی پابندی لگادی گئی۔ ان کمپنیوں کی بدولت ڈاکٹروں کو بنگلوں، گاڑیوں، بیرون ملک دوروں کے علاوہ قیمتی تحفے تحائف ملتے تھے۔ اب یہ کام کلینکوں میں بیٹھ کر کرنا پڑا ہے جس سے ڈاکٹروں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔جب ڈیوٹی کے دوران سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی ہو۔ تو ڈاکٹر اور نرسیں قیمتی آئی فونز اور سمارٹ فونز کا اچار ڈالیں۔ بندے کو اپنے دوستوں سے چیٹنگ بھی تو کرنی ہوتی ہے۔ یہی ترقی یافتہ ، تعلیم یافتہ اور اونچی سوسائٹی سے تعلق کی نشانی ہے۔ جب آٹھ گھنٹے آپ کا سمارٹ فون یا ٹیبلٹ بند رہے گا تو بندے کی سماجی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اور سیلولر کمپنیوں سے لئے گئے پیکج ضائع ہوتے ہیں۔حکومت کہتی ہے کہ ڈاکٹر ، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف ڈیوٹی کے دوران بغیر انٹرنیٹ کا سادہ موبائل استعمال کریں اگر نیٹ کا استعمال ناگزیر ہو۔ تووارڈ میں رکھے کمپیوٹرسے استفادہ کریں جس میں نیٹ کی سہولت ہوگی۔ اب بتائیں کہ ایک وارڈ میں ڈاکٹروں سے لے کر نرسوں ، اردلیوں اور دائیوں تک چالیس پچاس بندوں کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ایک کمپیوٹر پر سارے لوگ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو کیا ان کا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا۔سارا سٹاف کمپیوٹر روم میں مصروف رہے گا تو کسی مریض کا سرپھیرا تیماردار اگر وہاں آکر ہنگامہ برپاکرے تو کون ذمہ دار ہوگا۔اور پھر موجودہ دور میں ہزار دو ہزار کے سادہ موبائل کا استعمال۔ چھی چھی۔ لوگ کیا کہیں گے؟ اسپتالوں کے عملے نے وزیرصحت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مریضوں کی خاطر اپنے پکے ملازمین کی ناراضگی مول لینے کی غلطی نہ کریں۔ مریضوں کا کیا ہے۔ ہفتے دو ہفتے میں یا تو وہ دم توڑ دیں گے۔ یا اسپتال سے فارع ہوکر گھروں کو چلے جائیں گے۔ ڈاکٹروں ، نرسوں، ڈسپنسروں اور اردلیوں کی ضرورت حکومت کو ہروقت پڑتی ہے۔ سمارٹ فون سے ان کا ناطہ توڑ کرحکومت ان کی دل آزاری سے باز رہے۔ کیونکہ یہ بات ڈاکٹر اور شاعر ہی جانتے ہیں کہ جن کا دل ٹوٹے ۔ وہ پھر نہیں جڑتا۔اور شکستہ دل سے جو بددعا نکلتی ہے وہ رائیگاں نہیں جاتی۔اکثر ڈاکٹروں اور نرسوں کو شاعر مشرق کے ان اشعار کو اپنے موقف کے حق میں استعمال کرتے سنا ہے کہ ’’ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔


شیئر کریں: