Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام کی عالمگیر اخلاقیات اور مرحوم خالد بن ولی……علی اکبر قاضی

Posted on
شیئر کریں:

بحیثیت مسلمان یہ ہم سب کے ایمان کا اہم حصہ ہے کہ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس کے تمام احکامات اور اخلاقیات محظ ایک مخصوص سیاق سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ کائنات کے اندر موجود تمام مخلوقات کے لئے یکسان اہمیت کے حامل ہیں۔ یقیناٙٙ رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی اُسوہ حسنہ تمام ایمان والوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور اگر عقلی طور پر اسلام کے تمام تعلیمات و احکامات اور ہدایات کا بغور جائزہ لیا جائے تو تیں اہم درجات نظر آئیں گے ۔ پہلا درجہ ایمانیات کا ہے جس کی بنیاد پر انسان ترقی کرکے ایماں والوں کی صف میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ دوسرا اہم درجہ عبادات کا ہے جوکہ انسان اپنی تعلق کو اپنے خالق سے جوڑنے کی کوششیں کرتا ہے یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ یہ دونوں مدارج انسان کی ذاتی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک عام انسان کسی کے ایمانیات اور اللہ سے قربت کے بارے میں رائے قائم نہیں کرسکتا کیونکہ اُن دونوں کا تعلق براہ راست انسان سے نہیں ہیں بلکہ خالق سے ہیں جبکہ تیسرا اہم تریں درجہ معاملات کا ہے جو کہ ایک ایمان والے کا آصل چہرہ ہوتا ہے جو معاشرے میں دوسرے انسانوں کو بھی نظر آتا ہے یعنی ابتدائی دو درجے انسان کی آپنے پروردگار سے ذاتی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ تیسرا درجہ انسان کا انسان سے تعلق یعنی (معاملات) کو ظاہر کرتا ہے اور اسی سے اخلاقیات جنم لیتی ہے۔ اور سب سے بنیادی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ سردار دو عالم ؐ کے وہ القابات جو آمیں اور صادق ہیں جو آپؐ کے اعلی اخلاقی درجے کی گواہی دیتے ہیں اور آپؐ کے سامنے معاملات کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ قران کریم کی آیت وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اور حدیث مبارکہ جس میں آپ (ص) نے اخلاقی اقدار کی تکمیل کو ہی وجہِ بعثت قرار دیا ہے سمجھدار انسان کی ہدایت کے لئے کافی ہیں۔ المختصر معاملات کی اہمیت اس حدیث سے تکمیل کو پہنچتی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ ایک سچا “مومن” معلاملات ہی پہچانا جاتا ہے۔

ْان تمام احکامات اور تعلیمات کا ایک زندہ معاشرتی منظر اُس وقت دیکھا گیا جب چترال کے ایک قابل فخر بیٹےخالد بن ولی کی اچانک شہادت کی خبر سے پوری چترال کو غم سے نڈھال دیکھا، سب کے انکھوں میں آنسو دیکھی، ارندو سے گبور اور عشریت سے بروغل تک تمام چترالیوں کے گھروں میں یکسان سوگ نظر آیا۔ مرحوم کے نماز جنازہ میں عوام کی سمندر اُمڈ ایا اور واضح کردیا کہ آج بھی ہم سب آخلاق کے پرستار ہیں۔ جو کوئی ایک بار بھی خالد سے ملا تھا اشکبار ہوئے بے غیر نہ رہ سکا۔ مرحوم خالد نے رسول مقبول ؐ کی سنتِ حقیقی یعنی آخلاقیات پر عمل کرکے آمین اور صادق بن کر جو محبت اور دعائیں حاصل کیں یہ ہم سب کے لئے مقامِ افتخار ہے ۔بےشک موت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس سے بالاتر نہیں ہے مگر جو تاریخ خالد بن ولی نے آپنے آخلاق کے ذریعے چترال کی سرزمیں میں رقم کیں ہم سب اُن پر فخر کرتے ہیں ۔ سلام اُس ماں اور باپ پر جنہوں نے تربیت کےاعلی مثال قائم کئے ۔ آہ ! خالد آپ نے جاتے جاتے ایک اہم سبق یہ دیا ہے کہ آج بھی حقیقی حکمرانی صرف آخلاق کی ہی ہے۔ پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ آپ کو جوار رحمت نصیب کرے۔ امیں


شیئر کریں: