Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تعزیتی پیغام بنام عبد الولی و خاندان ……..سابق ایم پی اے ، سید سردار حسین شاہ سکردو

    October 30, 2018 at 7:17 pm

    خالد بن ولی کی وصال کی خبر کی خلش ہر لحظہ دل کو تڑپاتی ہے ۔ مرتا کوں نہیں اس مٹی میں کتنے گل تھے جو مرجھا گئے لیکن خالد کی موت نے یہ ثابت کر دکھایا کہ انسان جب دوسرے انسانوں کے دل میں گھر بنا لیتا ہے تو وہ کبھی نہیں مرتا ۔ خالد بن ولی مرا نہیں بلکہ ہماری انٓکھوں سے اوجھل ہوا ہے ۔ اور شاید یہ دنیا خالد بن ولی کے رہنے کےلئے موزوں نہیں تھی ۔ وہ گئے اور ایک عاشق کو اپنے معشوق کا دیدارنصیب ہوا ہو لیکن جس انداز سے خالد نے ہمیں داغ مفارقت دی وہ داغ زندگی بھر ہمارے دلوں میں چبھتا رہے گا ۔ سوال یہ نہیں کہ خالد کون تھے بلکہ سوال یہ ہے کہ خالد کون نہیں تھے ؟ بیک وقت ایک بلند پایہ شاعر، مصنف، نقاد، قانون دان ، غریب پرور ، بشر شناس اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انکساری و عاجزی کا زندہ پیکر ۔ آج ہماری آنکھوں سے تو دور ہے لیکن ہم سب کے دلوں پر راج کرتا رہے گا ۔ جہاں تک اُن کے والد محترم سے تعزیت کا سوال ہے تو میں صرف اُن سے تعزیت نہیں کروں گا بلکہ میں چاہوں گا کہ پوری دنیا ہم یعنی چترالی قوم سے اظہار تعزیت کرے ۔ خالد ، ولی کا بیٹا نہیں تھا بلکہ پوری چترالی قوم کی آنکھوں کا تارا تھے۔یہ بات قابل طمانیت ہے کہ مر حوم و معفور عفوان شباب میں وصال فرماگئےلیکن اپنے متعلقین ومحبین کے دلوں میں بہت اچھی یادیں چھوڑ گئے ۔یہ دنیا فنا کے داغ سے داغدار ہے ،سب پر عیاں ہے ہم میں سے ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے کوئی آج گیا تو کوئی کل جائے گا لیکن جس شان سے خالد نے وادی خاموشاں کے لئے رخت سفر باندھ لیا وہ اربوں میں ایک کو نصیب ہوتی ہے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    اس غم کو سہنے کے حوالے سے جہاں تک عبد الولی عابد کا تعلق ہے تو موصوف وہ عظیم انسان ہیں کہ پیاروں کی زندگی کا ناتا موت سے کئی بار جڑتے دیکھا ہے ۔ البتہ میں یہ ضروور کہوں گا کہ آزمائش کے لئے اللہ تبارک وتعالی انہی کو چنتا ہے جن میں برداشت کی طاقت موجود ہو ۔ عبد الولی خان صاحب ایک صابر و شاکر مومن ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس کڑی آزمائش میں ہم سب کی تسلی کا باعث ہوگا ۔ اللہ تعالی ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • error: Content is protected !!