Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

’’اپنا گھر، ایک خواب‘‘…….. تحریر: عنایت اثر خان

Posted on
شیئر کریں:

اپنا گھر ہر اِنسان کی بنیادی خواہشات میں سے ایک ہے۔ گھر جیسی عظیم نعمت سے محروم افراد کو ہی اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ اِنسان کوئی نوکری کرے یا کاروبار، اُس کی پہلی ترجیح عموماً ذاتی گھر ہوتا ہے۔ ذاتی گھر کے حصول کے لئے لوگ جہاں اپنے ملک میں گلی گلی خاک چھانتے ہیں وہیں سات سمندر پار جا کر محنت مزدوری کر کے پائی پائی اکٹھی کرتے ہیں تاکہ پاکستان کے کسی کونے کھدرے میں چند مرلے زمین خرید کر اُس پر ذاتی مکان تعمیر کر سکیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ اپنے بہتر مستقبل اور بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کی غرض سے مختلف شہروں کا رُخ کرتے ہیں جہاں کم آمدنی والے افراد کو ابتدائی مرحلے میں مجبوراً کرائے کے مکان میں رہنا پڑتا ہے اور پھر ذاتی گھر کا سہانا خواب لئے پلاٹ یا مکان خریدنے کی کوشش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ سالہا سال کی محنت مشقت کے بعد خون پسینے کی کمائی ہاتھ میں لے کر ایک قطعہ زمین کے لئے جب یہ لوگ اپنے ہی ملک میں پارسائی کے سرٹیفکیٹ کے لئے دفاتر میں دھکے کھاتے ہیں تو اْس شخص سے جڑے افراد یا معاشرے کا اپنی حکومت اور اداروں کے خلاف منفی ردعمل اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ سامراجی دور میں مخصوص لوگ جو کاسہ لیسی کے ماہر گردانے جاتے تھے صرف وہی زمین کی خرید و فروخت کے مجاز تصور کئے جاتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء میں زرعی اصلاحات کے تحت اس کالے قانون کو ختم کر دیا تھا جبکہ خیبرپختونخواہ کی سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے اس کالے قانون کو اِک نئی شکل میں دوبارہ صوبے کی عوام پر لاگو کیا۔ صوبائی حکومت خیبرپختونخواہ میں زمین کی خریداری کے لئے دوسرے اضلاع یا ملک کے دوسرے حصوں کے باشندوں کے لئے اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے این او سی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دے چکی ہے۔ ان اداروں سے ایسی دستاویزات کا حصول کوئی آسان کام یا مرحلہ نہیں ہوتا۔ جب کوئی آؤٹ ڈسٹرکٹ خریدار بیع کرتا ہے تو پھر اُسے این او سی کے حصول کے لئے واپس اپنے ضلع جانا پڑتا ہے، یہ ملک کا کوئی دور دراز ضلع بھی ہو سکتا ہے اور یوں یہ کام ایک دو دِن کے بجائے ہفتوں اور مہینوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ ایسے میں متعلقہ خریدار، فروخت کنندگان اور دوسرے افراد براہِ راست عدم انصاف کا شکار ہو جاتے ہیں حالانکہ تصدیق کا یہی کام نادرا کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کے باعث خیبرپختونخواہ کی عوام اور کاروباری افراد کو بلاوجہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ زرعی اصلاحات کے حوالے سے خیبرپختونخواہ کی سابق پی ٹی آئی حکومت سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں کہ وہ پٹوار کے فرسودہ نظام کو ختم کر کے اسے نئے خطوط پر استوار کرے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کا پیمانہ ’’کرد‘‘ اب بھی خیبرپختونخواہ میں رائج ہے۔ پی ٹی آئی کی نئی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی پچاس لاکھ گھروں اور رئیل اسٹیٹ کو فروغ دینے کے بلند و بانگ دعوے کئے۔ حکومتی وزراء نے ہٹلر، مہاتیر محمد اور دیگر کے مفروضے بھی پیش کئے لیکن مبینہ طور پر خیبرپختونخواہ میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو پاؤں سے باندھ رکھا ہے۔ اس کاروبار سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں۔ رئیل اسٹیٹ مالکان، ایجنٹس، ڈویلپرز اور معاشرے کے دوسرے افراد بلواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کا کاروبار جب چلتا ہے تو درجنوں شعبہ جات کو بھی چلاتا ہے۔ ایک گھر کی تعمیر سے کتنے شعبہ جات فعال ہوتے ہیں اس کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ پلاٹ خریدنے سے بنیادیں کھودنے تک اور اینٹ، سریا، سیمنٹ، بجری، راج مزدور ملوث ہو جاتے ہیں پھر لکڑی، شیشہ اور دیگر شعبہ جات ملوث ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے دُنیا کے درجنوں ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں،اُنہوں نے صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ہدف بنایا اور پھر روزگار بھی ملا اور عوام کو چھت بھی ملی اور ملک کی انڈسٹری کا پہیہ بھی خوب چلا، یہی ممالک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کہلائے۔ رئیل اسٹیٹ یا ہاؤسنگ سیکٹر پاکستان کا ہو یا کسی دوسرے ملک کا، اس میں بیرون مقیم افراد سمیت دیگر ممالک کی حکومتوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کا بہترین ذریعہ بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اخلاص ہو اور اہداف طے ہوں۔ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کو فوری طور پر ان مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے جبکہ صوبائی وزیراعلیٰ محمود خان اور وزیر بلدیات شہرام ترکئی بھی اس شعبہ کی جانب خصوصی توجہ دیں اور اس میں اصلاحات کریں۔


شیئر کریں: