Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وحشت۔۔۔۔۔میر سیما آمان

    October 28, 2018 at 7:30 pm

    کمرہِ عدالت میں جب بھی کوئی جج سزائے موت کا فیصلہ لکھتا ہے تو اس فیصلے کو لکھنے کے بعد اپنا قلم توڑ دیتا ہے۔اَج میرا بھی یہی جی چاہتا ہے کہ اس مضمون کو لکھنے کے بعد میں اپنا قلم توڑدوں۔ہاں جس قلم میں ہمیشہ مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہی سیاہی بھری جائے۔ایسے قلم کا ٹوٹ جانا ہی بہتر ہوتا ہے۔جس معاشرے میں ذندہ لوگوں کی تعریف چمچہ گردی خوشامد ۔مطلب پرستی یا غلام ذہنیت کہلائے،ایسے معاشروں میں ’’ قبروں ‘‘ کی ’’قدر ‘‘ کرنا قوم کا ’’ مقدر ‘‘ بن جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب اِس مُردہ پرست معاشرے میں دم گُھٹنے لگا ہے۔ہر جسم ایک ایسا مقبرہ لگنے لگا ہے جسکے اندر کہیں قبریں دفن ہوں۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ پانی ایک ہی جگہ کھڑا رہے تو کیچر بن جاتا ہے جس سے پھر بد بُو اَنے لگتی ہے۔ہمارا مُعاشرہ وہی کیچر بن چکاہے جس سے بد بو اُٹھنا شروع ہوچکی ہے اس سے پہلے کہ یہ بد بو اَ ئندہ نسلوں کو بھی اپنے لپیٹ میں لینا شروع ہوجائے،ہمیں اِس نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔ہمیں خود میں ’’ذندوں ‘‘ کی قدر کرنے کا ظرف پیدا کرنا ہوگا،ہمیں اِس مُردہ پرستی کی نظام سے بغاوت کرنا ہوگی۔ہمیں ’’اُس قلم ‘‘ سے بغاوت کرنا ہوگی جو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہمیشہ انسانوں کا ’’لہو ‘‘ مانگتی ہے۔۔ہاں ہمیں اس نظام کو بدلنے کے لئے خود کو بدلنا ہوگا۔ہمیں اس دستور کو ختم کرنا ہے جہاں تعریف پانے کے لئے ’’مر نا ‘‘ لاذمی ہوگیا ہے۔۔ہم کب تک سینوں پر کتبے ہی سجاتے رہیں گے؟؟ آخر کب تک؟؟؟کیوں ہمیں اپنے ہی نظروں کے سامنے پروان چڑھنے والے بچوں میں کوئی اچھائی نظر نہیں آتی؟؟کیوں ہمیں اپنے پڑوسی کی کوئی خوبی کبھی دکھائی نہیں دیتی۔۔کیا وجہ ہے قارئین کہ ڈوھنڈنے سے بھی ہمیں اپنے پورے خاندان میں محلے میں دور دور تک کہیں بھی کوئی بھی ایک شخص نظر نہیں آتا جسکی کوئی ایک خوبی بتانے کے لائق ہو،کوئی ایک شخص کوئی بزرگ کوئی بچہ کسی ایک خوبی جسکا ذکر کیا جائے۔جسکی حوصلہ افزائی کی جائے۔۔کتنے لوگ ہیں ہمارے درمیان جنھوں نے ذندوں کے نام پر کوئی ٹرسٹ بنایا ہو۔جنھوں نے ذندوں کے نام پر کوئی محفل منعقد کی ہو ہمارا قومی پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کتنے فیصد لوگوں کو انکی ذندگیوں میں ملتا ہے،آٹے میں نمک کے برابر کہوں تو غلط نہ ہوگا۔کبھی کبھار میں سوچتی ہوں ہم تمام لوگو ں کے رویے بھی اس ’’قومی ایوارڈ ‘‘ کی طرح ہوگئے ہیں۔۔انتہائی محدود۔ہاں ہمارے بد ترین رویے جو ’’اچھے ‘‘ ہونے کے لئے دوسروں کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔کیا اجب تماشہ ہے کہ ہم دوسروں کے لئے اُس وقت اچھے ہو رہے ہیں جب اُنہیں ہماری اچھایؤں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔۔اسلئے میرے محترم قارئین ہمیں مرنے سے پہلے ’’ذندہ ‘‘ ہونا ہوگا۔۔مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ اس مردہ پرست معاشرے میں جہاں ذندہ انسانوں کا مقام پاوں کے نوک پر ہے جہاں اپنی اخلاقی اچھائیاں ثابت کرنے کے لئے بھی مرنا لاذمی ہوچکا ہے۔جہاں خاک اوڑھے بغیر کوئی شخص ’’گریٹ ‘‘ نہیں کہلا سکتا ہے۔ہاں اس معاشرے میں جہاں ’’زند گیوں ‘‘ پر بین کی جاتی ہیں جہاں قبریں حسرت بن چکی ہیں۔ ہاں اس معاشرے میں میرا اب دم گُھٹنے لگا ہے۔ مجھے ’’شہرخاموشاں کی طرف سے قہقوں کی اوازیں آتی ہیں۔ مجھے اَ ب قلم میں سیاہی نہیں ’’خون ہی خون ‘‘ نظر اَنے لگا ہے۔۔۔

  • error: Content is protected !!