Chitral Times

May 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یہ دنیا ہے………. تحریر:اقبال حیات آف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

شب وروز کی گردش،موسموں کی صورت میں کائنات کے رنگ بدلنے،انسانی نشونما کی مدارج،غم اور خوشی کے دومتضاد احساسات اور انسانوں کے فنا سے دوچار ہونے کا تسلسل ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا۔اس دنیا میں انے والے انسانوں کے جہاں رنگ ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ وہاں بولتے ہوئے آواز بھی مماثلت نہیں رکھتے۔اسی طرح مالی ومعاشی حیثیت میں بھی یکسانیت نہیں ہوتی۔ کوئی نوالے کوترستا ہے۔ اور کسی کا منہ حلوے کے لئے نہیں کھلتا،کوئی کفن کے دو گز کپڑے کا محتاج ہے تو کوئی کمخواب واطلس کو بھی کتراتا ہے،کوئی خوشی لفظ سے نا آشنا تو کوئی غم کی کیفیت سے ناواقف مختصر یہ کہ اس کائنات میں آنے والے انسانوں کی زندگی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ مگر دنیا میں آتے اور یہاں سے جاتے وقت تمام انسان ایک ہی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں۔دونوں حالتوں میں سب کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔زندگی کے سفرمیں ہر ایک کے لئے معین دورانئے کے اندر بعض لوگ ایسے اوصاف سے مزین ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ہر فرد کے آنکھوں کے تارے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ ان کے کردار کا محور ان کے بنی نوع انسان سے حسن سلوک، اخلاق حمیدہ اور خدمت خلق ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ وہ اوصاف ہیں ۔ جن سے انسانی معاشرہ مزین رہتا ہے۔ اوریہ انسانوں کے باہمی میل جول کے اسلامی تصور کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ جس طرح علاقہ اقبال فرماتے ہیں۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیان
معاشرے میں اس قسم کے افراد درشہوار کی مانند ہوتے ہیں اور ان پرنظر پڑتے ہی دل میں بہار کارنگ ابھرتا ہے۔ گزشتہ دنوں اچھے انسانوں کا مسکن نہ ہونے کے بقول اس دنیا کو چھوڑ کر جانے والے خالد بن ولی ہمارے خاندا ن کا وہ چشم وچراغ تھا۔ جنہیں اگر مذکورہ اوصاف سے نوازاجائے۔تو بے جا نہ ہوگا۔ ان کی چہرے پر ہر وقت ہرکسی کے لئے بکھری ہوئی مسکراہٹ کی لذت سے چھوٹے بڑے سب محفوظ ہوتے تھے۔ ایک خوشحال گھرانے کا لاڈ پیار میں پروروہ اعلی صلاحیتوں کے مالک اور بھر پور حسن وجمال سے مزین شباب کی نعمتوں سے سرفراز ی کے باوجود کبرونخوت سے ناآشنا عجزوانکساری اور حسن اخلاق سے ایسا باوصف تھا جو شاید کسی کے وجود میں یکجا پایا جائے۔ مسند انصاف پر بیٹھنے کے اہل قرار دئے جانے کے باوجود ذمہ داری سے حقیقی معنوں میں وفا میں کوتاہی کے خوف سے ان کی علیحدگی اختیار کرنا خدا خوفی کے اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جس محکمے میں زندگی کے اختتامی لمحات تک اعلیٰ منصب پر فائز تھے ان کے عملے کے ہر فرد کی زبان پر آپ کی شرافت اور اخلاق کے ترازو میں تمام چترال کے باسیوں کو تولنا انہیں فخر چترال کا مقام دینے کے لئے کافی ہے۔ یوں ان کی ناگہانی موت نہ صرف ان کے خاندان کے لئے بلکہ پورے چترال کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے جنازے میں چترال کے طول وعرض سے جم غفیر کی صورت میں لوگوں کی شرکت جہاں اپنے اس عظیم سپوت سے پیار کا مظہر تھا وہاں یہ منظر اخلاق کی عظمت کا آئینہ دار تھا۔ اس مناسبت سے ہمارے عظیم پیغمبر کے ایک ارشاد کا مفہوم ذہن میں آتا ہے۔ کہ اللہ رب العزت جس انسان سے محبت کرتے ہیں تو تمام فرشتوں کو بھی ان سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور یہ دائرہ وسیع ہوکر انسانوں تک پہنچتا ہے۔ یوں اس حدیث پاک کے تناظر میں ہر فرد وبشر کی آنکھوں سے آپ کے فراق میں بہنے والے آنسو اللہ رب العزت کی آپ سے پیار کے غماز ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ زبان خلق نقارۂ خدا ہوتا ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
14990