Chitral Times

Feb 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مولانا فیاض الدین چترالی کی کتاب پر تبصرہ ……….قاری فدا محمد

Posted on
شیئر کریں:

کسی قوم یا علمی و فنی طبقہ کا کسی لفظ کے لغوی معنوں کے علاوہ کوئی خاص مفہوم یا معنی مقرر کرنا اصطلاح کہلاتی ہے۔مثلاََ لفظ” غَزَل” کو لیجئے، جس کے لُغَوی معنی عورتوں سے یا عورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ اورہرن کے منہ سے بحالت خوف جو درد ناک چیخ نکلتی ہے ، اسے بھی غزل کہتے ہیں۔ جبکہ اصطلاح میں “غزل” سے مراد وہ صنف شاعری ہے جس کے ہر شعر میں ایک مکمل مضمون بیان ہوا ہو، ہر شعر الگ الگ مفہوم کا حامل ہو، پوری غزل ایک ہی بحر میں ہو، جس میں مطلع اور مقطع کا التزام ہو اور مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں۔ اس التزام اور اہتمام سے جو صنفِ شاعری تخلیق کی جائے گی، ادبی اصطلاح میں “غزل” کہلائے گی۔ اس لفظ کے لغوی معنی کے مقابلے میں اصطلاحی معنی اس قدر عام اور مشہور ہوچکا کہ جب بھی غزل کا لفظ سنا یا پڑھا جائے گا تو ذہن “عورتوں سے گفتگو ” اور “ہرن کی چیخ” کے بجائے اس خاص صنف شاعری کی طرف مرکوز ہوگا، جس کی اوپر تشریح کی گئی ہے۔ واضح ہو کہ کسی علم سے متعلق رواج پانے والے اصطلاحات کے مفاہیم اور ان کی حقیقی حدود کی جانکاری اُس علم کی تفہیم اور ابلا غ کے لیے ناگزیرہے۔ اور اصطلاحات سے شناسائی ہی علوم سے گہرے اور قریبی تعلق کی استواری میں ممد اور معاون ثابت ہو تی ہے۔

زیر تبصرہ کتاب (دلچسپ اصطلاحات) چترال سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا فیاض الدین کی ایک علمی کاوش ہے۔ موصوف عرصہ دراز سے وطن عزیز کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ لاہور سے منسلک ہیں۔ مصنف ممدوح نے زیر نظر کتاب میں مختلف علوم و فنون سے متعلق 348 علمی و فنی اصطلاحات کی تشریح و توضیح کی گراں قدر خدمت سر انجام دی ہے۔ جن میں سے بیشتر اصطلاحات ایسے ہیں جن کے معانی اور مفاہیم کے تعین میں مدارس دینیہ کے فضلا کے علاوہ عام پڑھا لکھا طبقہ مغالطہ میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاَ : “حج اکبر” کی اصطلاح کو لیجئے ، ہمارے ہاں عام طور پر جمعہ کے رو ز ‘یوم عرفہ’ آئے تو اسے “حج اکبر” کہتے ہیں۔
مولانا اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” شریعت کی اصطلاح میں عمرہ کو ‘حج اصغر’ (چھوٹا حج) اور حج کو ‘ حج اکبر’ (بڑا حج) کہتے ہیں۔ باقی عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جمعہ کے دن عرفہ ہو تو وہ حج اکبر ہوتا ہے ، من گھڑت اور بے ثبوت ہے۔”
ایک دوسری عام اصطلاح “امت” کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
” ایک مفہوم میں امت سے مراد وہ گروہ اور برادری ہے جو ایک ماں اور اس کی اولاد کی بنیا د پر وجود میں آئی ہو۔ دوسرے مفہوم کے لحاظ سے امت اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طرف لوگ رہنمائی کے لیے رجوع کرتے ہوں۔ لیکن اصطلاحی اعتبار سے امت سے مراد وہ گروہ یا جماعت ہے جس کی اساس اور بنیاد ایک ہو، جس کے اہداف اور مقاصد ایک ہوں ،جس کی منزل مقصود ایک ہو، جو ایک ماں کی اولاد کی طرح متحد ہو اور ایک ہدف کی طرف گامزن ہو جس میں وحدت کی ساری اقسام موجود ہوں، ایسے گروہ یا قوم کو “امت” کہا جائے گا۔”
ایک اور اصطلاح “لعنت” جو کہ مذموم ہونے کے ساتھ عام ہے، کی تشریح مولانا صاحب یوں کرتے ہیں۔
“لعنت کی دو قسمیں ہیں۔ (1) الُبعد عنی رحمۃ اللہ۔۔۔ یعنی اللہ کی رحمت سے دور ہونا، یہ قسم فقط کافروں اور مشرکوں کے لیے خاص ہے کفر کی وجہ سے وہ ملعون ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمت ان سے سلب ہوتی ہے۔ (2) نیکو کاروں اور صالحین سے دور ہونا ۔ قرآن و حدیث میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے اوپر کسی گناہ کی وجہ سے اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے تو اسی معنی میں ہوا ہے۔ کیونکہ اہل سنت والجماعت کےنزدیک ارتکاب کبیرہ سے اسلام سے بندہ خارج نہیں ہوتا البتہ نیکو کاروں اور اللہ کے مقبول بندوں کی فہرست سے خارج ہوتا ہے اور اس کا نام فاسقوں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔”

مذکورہ بالا مثالوں سے کتاب کی قدر وقیمت اور اہمیت کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بیشتر اصطلاحات ہماری ضروریات اور استعمالات سے متعلق ہیں، جن کے مفاہیم سے آگاہی تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے از بس ضروری ہے۔
اپنے موضوع پر مفید اور اہمیت کی حامل اس کتاب کی اشاعت میں چند تسامُحات رہ گئے ہیں ، اگلی اشاعت میں ان پر نظر ثانی اور از سر نو ترتیب کے پیش نظر یہاں ان کوتاہیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

سب سے بڑی کوتاہی “فہرست مضامین” کا حروف تہجی یا موضوعات کے بجائے اندھادھند ترتیب دینا ہے۔ موجودہ ترتیب میں مطلوبہ اصطلاح یا لفظ کی تلاش کے لیے بار بار پوری فہرست ٹٹولنے اور ورق گردانی کی دقت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ کتاب کا نام “دلچسپ اصطلاحات ” کے بجائے اگر “علمی اصطلاحات” رکھاجاتا تو زیادہ موزوں تھا۔ بعض اصطلاحات کے بیان کردہ مفاہیم عام افراد کی تفہیم کے لیے ناکافی ہیں۔ مثلاََ : “تضمین ” کی تعریف کرتے ہوئے فاضل مصنف لکھتے ہیں۔ ” تضمین کا مطلب یہ ہے کہ عامل محذوف کے معمول کا عامل مذکور فی العبارت کے معمول کے اوپر عطف کیا جائے ۔” یہ عبارت عام قارئین کے لیے چیستان سے کم نہیں ۔ مزیدیہ کہ بعض اصطلاحات ایک طبقہ کے ہاں ایک مفہوم میں جبکہ کسی دوسرے طبقہ کے ہاں دوسرے مفہوم میں مستعمل ہوتی ہیں۔ مثلا، یہی “تضمین” کی اصطلاح ہے۔ علم النحو کے مطابق بعض دفعہ عبارت میں حذف کردہ عامل کے عمل کو ذکر کردہ عامل کے عمل پر عطف کیاجاتا ہے، اسے”تضمین” کہتے ہیں۔ جبکہ یہی لفظ ایک شعری اصطلاح بھی ہے ، اس سے مراد کسی دوسرے شاعر کا شعر یا مصرع اپنی نظم میں لگانا ہے۔ اس طرح کی اصطلاحات کی تعریفات لکھتے وقت مختلف علوم و فنون کے مطابق ان کے مفاہیم کا اہتمام لازمی تھا، مگر کتاب ہذا میں اس کا اہتمام ضروری نہیں سمجھا گیا ہے۔اصطلاحات کی تعریفات میں اگر ساتھ ساتھ متعلقہ علم یا فن کی وضاحت بھی کی جاتی تو کتاب کی قدر و قیمت دوبالا ہو تی، مگر اس لازمی امر سے بھی بے اعتنائی برتی گئی ہے۔

بعض ااصطلاحات تلفظ کے لحاظ سے مختلف مگر لکھنے میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ “دین” کی اصطلاح ہے۔ یہ لفظ دو اصطلاحات کے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر دونوں کے تلفظ میں بین فرق ہے۔ “دِین” (بکسر اول و سکونِ دوم و سوم) جس کی جمع “ادیان ” ہے، سے مراد طریقۂ زندگی ، یا”اُس طرز عمل اور اس رَوِیّے کو کہتے ہیں جو کسی کی بالاتری تسلیم اور کسی کی اطاعت قبول کرکے اختیار کیا جائے۔” دوسرا اس سے ملتا جلتا لفظ “دَین” (بفتح اول و سکون، دوم و سوم) جس کی جمع “دُیُون” ہے، اس سے مراد قرض و ادھار ہے۔ یہ دونوں الفاظ جب مفرد لکھے جائیں گے، تو عام قاری یا مبتدیوں کے لیے الجھن کا باعث ہوگا، اس لیے ایسے الفاظ کے مفرد لکھتے وقت بالخصوص معانی و مفہوم بیان کرنے کے موقع پر اعراب کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ مگر کتاب میں اس ضروری امر کا بھی التزام نہیں پایا جاتا۔

تحریر خواہ کسی بھی فن سے متعلق ہو جس زبان میں وہ لکھی جائے، اس کی اثر پذیری کے لیے زبان کی لطافتوں کا اہتمام حد درجہ ضروری ہوتا ہے۔ پامال زبان میں لکھی گئی چیز ،چاہے اہمیت کے اعتبار سے جس درجہ میں بھی ہو ذوقِ سلیم اور طبع ِ لطیف پر گراں بار ہی ہوتی ہے۔
بہر حال ان چند ایک خامیوں کے باوجود کتاب مجموعی طور پر مفید ہے، بالخصوص مدارس عربیہ کے طلبہ بعض ثقیل اصطلاحات کی تفہیم کے لیے کتاب سے بھر پور استفادہ کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالی مصنف ممدوح کو صحت و تندرستی کے ساتھ مزید علمی کاوشوں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

…………………………………………………………………………………………………………………………………………………………
کتاب نما
نام:دلچسپ اصطلاحات، مولانا فیاض الدین چترالی ، ناشر مکتبہ المستجاب جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن لاہور ، صفحات: 160 ۔ قیمت 200۔


شیئر کریں: