Chitral Times

Mar 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ٹیکنالوجی اور ہمارے اقدار……..مسرورحسین حیات

    October 23, 2018 at 8:04 pm

    خالد بن ولی چترال کے قابل فخر سپوت تھے۔ان کی ناگہانی موت یقینا” چترال کے لوگوں کے لئے گہرے دکھ کی بات ہے۔اللہ تعالی انکو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندہ گان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
    مرحوم کی نماز جنازہ کے موقع پر بعض دوستوں کا رویہ اور طرز عمل ہمارے اقدار اور روایات کے مطابق نہیں تھا۔ جنازے میں شرکت کا اولین مقصد مرحوم کی ایصال ثواب کیلئے دعا اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ان کا دکھ بانٹنا ہوتا ہے۔
    لیکن ہم اس مقصد کو بھول کر وڈیوز بنانے اور تصویریں اتارنے لگ جاتے ہیں۔ موبائیل ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کا اس سے بڑا مظاہرہ ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ دکھ، درد اور شدید رنج و الم کے اس موقع پر کسی کے جیب میں موبائیل فوں کا بجنا بھی معیوب ہوتا ہے۔ آج بھی اپنے ارد گرد لوگوں کے اس طرز عمل کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
    دوسری بات ضلعی انتظامیہ کی بے حسی پہ رونا آیا۔ خالد جیسے فرزند کا انتقال یقینا” ضلعی انتظامیہ کےلئے بھی کسی المیے سے کم نہیں ہوگا۔ ان کی طرف سے خالد مرحوم اور خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بہترین طریقہ یہ ہوتا کہ پولو گراونڈ می پانی کا چھڑکاو کرویا جاتا۔ انتظامیہ کے کچھ ملازم اس بات کو یقینی بناتے کہ پولو گراونڈ پر صفیں باندھنے کے لئے لکیریں کھینچ لی جاتیں اور مائیک و سپیکرز کا بندوبست کرتے۔ انتظامیہ کی طرف سے یہ ہم سب پر بہت بڑا احسان ہوتا۔
    موبائیل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے ہماری رہن سہن، طور طریقے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کا جیسا استعمال ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہماری تہذیب، اخلاقی اقدار اور اور رسم و رواج کے منافی ہے۔
    ان گذارشات کا مقصد کسی کی دل آزاری ہے نہ ہی کسی پر منفی تنقید، مقصد صرف اتنا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا/جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کرتے ہوئے موقع محل اور اپنے معاشرتی اقدار کا خیال رکھنا چاہئے۔

  • error: Content is protected !!