Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

توانائی منصوبوں میں بلاوجہ تاخیر ناقابل برداشت ہے….حمایت اللہ خان مشیرتوانائی

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے مشیربرائے توانائی حمایت اللہ خان نے کہاہے کہ خیبرپختونخوامیں توانائی کے جاری منصوبوں میں بلاوجہ تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے ضلع سوات میں84میگاواٹ کے گورکین مٹلتان ہائیڈروپاورپراجیکٹ پرتعمیراتی کام کی تاخیرپر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکہ داراورکنسلٹنٹ کو مذکورہ منصوبہ ہرحال میںآئندہ2سال کے اندر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔اسی طرح توانائی کے دیگرجاری منصوبوں پرکام کرنے والے پراجیکٹ ڈائریکٹرزکوبھی سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے منصوبے کی Siteجگہ پراپنی حاضری24گھنٹے ممکن بنائیں اورمنصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرلیں کیونکہ بلاوجہ تاخیرکی ذمہ داری متعلقہ منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹرپر عائد ہوگی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیڈوہاؤس میں پن بجلی کے جاری توانائی منصوبوں پر کام کی رفتارکے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سابق چیف انجینئرواپڈاسردارمحمدطارق،سیکرٹری توانائی محمدسلیم خان،چیف ایگزیکٹوپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ ،جی ایم ہائیڈل بہادرشاہ اورتمام پراجیکٹ ڈائریکٹرزنے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع سوات میں زیرتعمیر84میگاواٹ گورکین مٹلتان ہائیڈروپاورپراجیکٹ کی تاخیر پر سخت مایوسی کا اظہارکیا گیا اورمنصوبے کے لینڈ اورسکیورٹی مسائل ایک ہفتے کے اندر حل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں ۔اجلاس میں ضلع مانسہرہ میں 10.2میگاواٹ جبوڑی ہائیڈروپاورپراجیکٹ میں ٹاورزکی تنصیب کی تاخیر پر تشویش ظاہر کی گئی اورمنصوبہ اپریل2019تک مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں،ضلع شانگلہ میں 11.8میگاواٹ کروڑہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کوجولائی 2019میں ہرصورت مکمل کیا جائے،جبکہ ضلع چترال میں69میگاواٹ لاوی ہائیڈروپاوررپراجیکٹ کو بھی مقررہ مدت نومبر2021تک مکمل کرنے کے لئے تمام ترتوانائیاں صرف کی جائیں۔ اجلاس میں مشیرتوانائی حمایت اللہ خان نے تمام پراجیکٹ ڈائریکٹرزکو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ وہ پراجیکٹ سائیٹ پر ہمہ وقت اپنی موجودگی یقینی بنائیں اورمتعلقہ پراجیکٹ ہرصورت میں مقررہ مدت میں مکمل کریں،انہوں نے مختلف پراجیکٹ کوفنڈزکی ادائیگی فوری طورپر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔انہوں نے محکمہ توانائی کے حکام کوہدایات جاری کیں کہ وہ ہرمنصوبے کے معاہدے کے مطابق کام کی رفتارکاہفتہ وارجائزہ لے کرمانیٹرنگ کریں اوربلاوجہ تاخیر پر پراجیکٹ ڈائریکٹرز،ٹھیکہ داراور کنسلٹنٹ کو جرمانہ کریں کیونکہ تاخیرسے صوبے کو سالانہ اربوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
CM KP Advisor on Energy meeting with PDs


شیئر کریں: