Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاحت کا فروغ مستحکم معیشت کی ضمانت۔………..۔ تحریر: حسین احمد

Posted on
شیئر کریں:

دنیا کے بیشتر ممالک اور خطوں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے اور اپنی حکومتیں بھی سیاحت کے صنعت پر ہی چلا رہی ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی حسن سے مالامال اور پر فضا سیاحتی مقامات موجود ہیں تاہم اس شعبے سے ہم صحیح معنوں میں اب تک مستفید نہیں ہوسکے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے اس اہم صنعتی شعبے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک نے اپنی تمام تر وسائل اور توانائیاں سیاحت پر مرکوز کرکے نہ صرف ترقی کے دوڑمیں ہم سے آگے نکل گئے ہیں بلکہ دنیائے عالم میں ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا لیا ہے ۔ یوں تو پاکستان کا پورا خطہ کرہ ارض پر جنت کے ایک ٹکڑے کی مانند ہے ۔ بولان سے لیکر چترال ، کشمیر اور کاشغر تک ہر حصے کی اپنی ایک خاصیت اور قدرتی حُسن ہے تاہم سرسبز وشاداب اور حسین وادیوں ، برف پوش پہاڑوں اور گنے جنگلات پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن جو گیٹ وے بٹ خیلہ اور سم رانیزئی سے شروع ہوتا ہے کی خوبصورتی پورے ملک کی نسبت بے مثال ہے۔ اس ڈویژن کے ایک حصے میں سوات کی جانب مالم جبہ ، مرغزار ، کالام ، یخ تنگی ،مہوڈنڈ ، گبین جبہ ، جاروگو آبشار، سلاتنڑ،خوبصورت سید گئی جھیل جو سیف الملوک جھیل سے زیادہ خوبصورت ہے یہ ایسے خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں کہ اگر ان پر حکومت نے بھر پور توجہ دی تو نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع انے کے ساتھ علاقے کے لوگوں کی معاشی حالات بہتر ہوں گی بلکہ اس صنعت کے ذریعے حکومتی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔اگر ملاکنڈ ڈویژن ہی کے علاقے دیر کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس علاقے میں بھی سیاحتی مقامات کی ایک لمبی سیریز موجود ہے اوریہاں پر بھی سیاحت کو فروغ دینے کی کافی گنجائش موجود ہے تاہم ماضی کی عدم توجہ کی بدولت ان مقامات کو زمینی رابطوں میں سہولیات فراہم کرنے اور سیاحوں کیلئے پر کشش بنانے کیلئے ان کی برانڈنگ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ان مقامات کے ساتھ زمینی رابطے آج بھی دگرگوں حالات پیش کررہے ہیں ۔ دیر پائیں میں وادی ادینزئی ، تالاش ، سیاردرہ، رباط درہ اور طورمنگ درہ کو آپس میں ملانے والا پہاڑی سلسلہ لڑم ٹاپ جوکہ ملکی تزویراتی لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے آج کل سیاحوں کے توجہ کا مرکز ہے اور اگر اس سیاحتی مقام پر توجہ دی جائے تو یہ بات بجاہوگی کہ لڑم ٹاپ مستقبل کا مری ثابت ہوسکتاہے کیونکہ یہاں کی آب وہوا ، برف باری کا موسم اور ہر طرف سے زمینی رابطوں کا امکان ایسے خصوصیات ہیں جو کسی اور سیاحتی مقام پر شاہد ممکن نہ ہو ں تاہم لڑم ٹاپ حکومت کی طرف سے اپنی جانب توجہ کا متقاضی ہے ۔اس مقام پر اگرچہ ایک پی ٹی ڈی سی ہوٹل اب بنایا گیاہے لیکن یہاں پر زمینی راستوں کی حالت انتہائی خراب ہے اس مقام تک جانے کیلئے آسان راستے رباط درہ کی جانب سے ہوسکتے ہیں جس کے سلسلے میں رباط درہ سے لڑم ٹاپ کو جانے والی دونوں لنک سڑکیں بلیک ٹاپ کرنا انتہائی ضروری ہے جبکہ مزید انفراسڑکچر کا قیام اس سیاحتی مقام کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ مزیدبراں دیر پائیں میں وادی میدان کے علاقے میں نیا دریافت ہونے والا سیاحتی مقام شین غر بھی اپنی جاذب نظر نظاروں کی بدولت سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے تاہم یہاں پر بھی سڑ کوں کی تعمیر اس مقام کی ترقی کاضامن بنے گا ۔ اسی طرح دیر بالا میں جنت نظیر وادی کمراٹ ، بن شاہی ، جاز بانڈہ جھیل اور چترال میں منفرد ثقافت کی حامل مشہور وادی کیلاش ، شندور اور بعض دیگر ایسے مقامات موجود ہیں جواپنے قدرتی حسن کی بدولت ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ چترال کے علاقے گرم چشمہ کے کوہمالیہ کے پہاڑ نایاب قسم کے جانور کشمیر مارخوراور ہمالیہ ایبکس کیلئے پوری دنیامیں مشہور ہیں اور ہرسال محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا ضلع چترال اور کوہستان کے مقامی آبادی کی مشاورت سے شکار کے موسم دسمبر میں ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ کی پیشکش کرتاہے جس میں کشمیر مارخور اور ہمالیہ ایبکس کی شکار کی جاتی ہے اوراس سے ہزاروں ڈالر کا آمدن حاصل ہوتا ہے ۔ مجموعی طور پر پرُفضاء مقامات اور جنت نظیر وادیوں کی بدولت ملاکنڈ ڈویژن کو اشیاء کا سو ئزلینڈ بھی کہاجاتا ہے ۔
یہ خوش آئیندبات ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے بھا ری اکژیت سے کامیابی حاصل کی جس کے نتیجے میں مرکز سمیت خیبرپختوا کی حکومت بنی ۔ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ملاکنڈ ڈویژن سے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا ۔جب صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اورمحمود خان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو انھوں نے صوبے کے تمام سرکاری اداروں کی اصلاح احوال سمیت تمام شعبوں میں بہتری لانے کیلئے اپنے عزم کا اظہارکیااور اس پر عمل کرنے کیلئے انھوں نے تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ سیاحت اور کھیلوں جیسے صحت مند سرگرمیوں کی ترقی و ترویج پر بھی خصوصی توجہ دی جبکہ اس سلسلے میں انھوں نے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کیا جس کے چیئرمین وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جبکہ سینئر وزیر برائے کھیل و سیاحت عاطف خان سمیت صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان ، وزیر ماحولیات اشیاق ارمڑ ، وزیر قانون سلطان محمد چیف سیکر ٹر ی خیبر پختونخوا نوید کامران بلوچ کے علاوہ سیکرٹری ہائے مواصلات و تعمیرات ، ماحولیات اور قانون اس دس رکنی ٹاسک فورس کا حصہ ہیں ۔مذکورہ ٹاسک فورس صوبے میں سیاحتی مقامات پر سیاحوں کیلئے ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بناکر سیاحوں کو راغب کرنے کے ساتھ ساتھ سپورٹس کلچر اور یوتھ آفیرز کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھائیں گے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی کیلئے سڑکوں اور شاہراوں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے اس لیے پی ٹی ائی حکومت نے اس مسئلے کا ادراک محسوس کر کے ملاکنڈ ڈویژن کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ آسان سفری راستے کے ذریعے ملانے کیلئے صوبائی سطح پر اربوں روپے کی خطیر رقم سے کرنل شیر خان انٹر چینج سے چکدرہ تک موٹر وے کا عظیم منصوبہ شروع کیا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بذات خود اس عظیم الشان منصوبے کا دورہ کرکے جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیاہے۔ یہ منصوبہ پی ٹی ائی حکومت کے سیاحت کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی ایک کڑی ہے جس کی ذریعے صوبے کے شمالی علاقہ جات کے پرکشش سیاحتی مقامات ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے آسان راستوں کی تعمیر کے ذریعے توجہ کا مرکز بنیں گے۔ ایکسپریس وے کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ کو ایف ڈبلیو او حکام نے اس عظیم منصوبے پر جاری تعمیراتی کام اور اس کی ہر پہلو سے افادیت کے بارے میں بریفنگ دی اور انھیں بتایا گیا کہ اس موٹر وے پر تعمیراتی کام آئیندہ دسمبر تک مکمل کئے جانے امکان ہے ۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ 81 کلومیٹر طوالت پر محیط ہے جبکہ اب تک 50 کلومیٹر سڑک پر کام مکمل ہوچکا ہے ۔ ایکسپریس وے پر سات انٹر چینج واقع ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ نے دورے کے دوران چکدرہ کے قریب ظلم کوٹ کے مقام پر اس پراجیکٹ کے ٹنل کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔ صوبائی حکومت کے اس انقلابی منصوبہ کے ساتھ سوات میں مواصلات کے مذید منصوبوں پر کام جاری ہے جو علاقے میں سیر وسیاحت کے فروغ کے محرک بنیں گے ان منصوبوں میں چکدرہ سے کالام تک سڑک کی تعمیر ، مالم جبہ روڈ ، گبین جبہ روڈ ، جاروگو آبشار تک سڑک کی تعمیر کے متعدد منصوبے ایسے اقدامات ہیں جو سیر وسیاحت کے فروغ کیلئے ممکنہ اقدامات میں نمایاں کردار ادا کر یں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: