Chitral Times

May 18, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دلوں کو جوڑنے والادنیا ہی چھوڑ گیا …………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

شاعرکہتا ہے کہ ’’ گئے کہ ای جامی کوسی۔ آو ایک نیکی کا کام کرتے ہیں۔جو ہردیان ای کوسی۔دو دلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔پھک بیتی ای گوچہ بی۔خاموشی سے ایک کونے میں جاکر۔۔تانتے زندگی کوسی۔۔ اپنی زندگی سکون سے گذاریں۔امن و آشتی، پیار و محبت، یک جہتی و یگانگی اوراتفاق و اتحاد کا پرچار کرنے والا یہ نوجوان شاعر خالد بن ولی تھا۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کے عہدے پر فائز اس خوبرواور ہشاش بشاش نوجوان کی زندگی بھی ان کے خیالات کی طرح پاکیزہ تھی۔ خالد بن ولی نے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد عبدالولی خان عابد نہ صرف بہترین قانون دان ہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے شاعر، ادب نواز اور مخیر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک حادثے میں شریک حیات کی وفات کے بعد عبدالولی نے خالد کو باپ کے ساتھ ماں بھی بن کر پالا۔ خالد کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ پختہ خیالات کا شاعر، نہایت فعال سماجی کارکن، پولو اور فٹ بال کا اسٹائلش کھلاڑی اوردوسروں کا درد محسوس کرنے والا حساس دل کا مالک تھا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ زمانہ طالب علمی میں بیس سال کی عمر میں شائع ہوا۔ اس حوالے سے انہیں خیبر پختونخوا کے کم عمر ترین صاحب دیوان شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ خالد کا ماننا تھا کہ زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی رہی تو بے مزہ ہوجاتی ہے جس طرح پانی ایک ہی جگہ کھڑا رہے تو بدبودار ہوتا ہے۔ چلتے رہنے اور متحرک ہونے کا نام زندگی ہے۔ اپنی زندگی کے اس فلسفے پر انہوں نے خود بھی عمل کیا اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا رہا۔ اپنے تعلیمی کیرئر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے نوجوان خالد نے عملی زندگی میں جب قدم رکھا تو مقابلے کے امتحان میں پہلی ہی کوشش میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔ مگر سیماب صفت نوجوان کو یہ سٹیریو ٹائپ کی زندگی پسند نہیں آئی۔ تو دوبارہ مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں ان کی تقرری ہوئی۔ ان کا شمار محکمے کے انتہائی قابل اور ہردلعزیز افسروں میں ہوتا تھا۔ 20اکتوبر کو ایک اجلاس میں شرکت کے لئے صوابی سے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ دوستوں سے کہا کہ اکیلے سفر کا مزہ نہیں آتا۔ پشاور سے ان کے دوست اسلام آباد جانے کے لئے موٹر وے رشکئی انٹر چینج پر خالد کا انتظار کرتے رہے۔ خالداسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کے بعد شام کو پشاور آنا چاہتا تھا لیکن کاتب تقدیر نے کچھ اور ہی سوچ لیا تھا ۔جونہی ان کی گاڑی موٹر وے کے قریب نوشہرہ کے نواحی گاوں کلنجر پہنچی۔ تو بے قابو گاڑی دیوار سے ٹکراکر الٹ گئی۔اور خالدبن ولی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ راہگیروں نے جونہی گاڑی سے خالد کا جسد خاکی باہر نکالا تو گاڑی کا سلینڈر پھٹ گیا اور وہ جل کر خاکستر ہوگئی۔خالد بن ولی اب ہم میں نہیں رہے۔ لیکن ان کی سحر انگیز شخصیت ، مسکراتا چہرہ اور فکر انگیز شاعری مدتوں ان کی یاد دلاتی رہے گی۔ اللہ تعالی ان کی روح کو ابدی سکون نصیب فرمائیں۔اور ان کے والد گرامی، بیوہ اور پورے خاندان کو یہ عظیم سانحہ صبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق اور حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔
khalid bin wali chitral2


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
14792