Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پبلک سروس کمیشن کے منتخب ایس ڈی ای اوز طویل عرصہ سے اپنی تعیناتی کے منتظر۔

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)2 دسمبر 2017 سے پبلک سروس کمیشن کے منتخب محکمہ ایجوکیشن کے ایس ڈی ای اوز کی گیارہ مہینے گزرنے کے باوجود ابھی تک تعیناتی نہیں ہو سکی ہے جس سے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ‌حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 5 ستمبر کو تقرری آرڈرز جاری ہونے کے باوجود اور 27 ستمبر کوپلیسمنٹ کمیٹی کے اجلاس کے باوجود محکمہ ابھی تک انکی ایڈجسٹمنٹ آرڈر نا معلوم وجوھات کی بنا پرجاری کرنے میں ناکام رہا ھے بلکہ کچھ ذرائع کے مطابق اس میں ارادی طور پر تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے جس سے پی ٹی آئی کی حکومت کی میرٹ پالیسی اور محکمہ تعلیم میں مجاز اور کوالیفائیڈ افسروں کی تعیناتی میں ناکام نظر آرہی ھے جس سے حکومت اور محکمہ کی اہلیت پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں اور گیارہ مہینے گزرنے کے باوجود ان کی تعیناتی اور ایڈجسٹمنٹ کا اعلامیہ جاری نہ ہونے سے محکمہ تعلیم کے افسران کی اہلیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔ حالانکہ ان اے ایس ڈی اوز کے بعد پبلک سروس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں کافی تعیناتیاں عمل میں لائی جا چکی ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ ایس ڈی ای اوز کی پوسٹ پر پروموشن پانے والے اے ایس ڈی ای اوز اور اے ڈی ای اوز بھی ابھی تک اپنی پروموشن پانے کے باوجود انکی محکمہ کی طرف سے ابھی ایڈجسٹمنٹ آرڈرز جاری نہ ہونا بھی محکمہ تعلیم کی کمزور کارکردگی کو ظاہر کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور مشیر تعلیم کے ساتھ کئی ملاقاتوں میں وعدوں کے باوجود ابھی تک ان ایس ڈی ای اوز کے ایڈجسٹمنٹ آرڈرز کا جاری نہ ہونا محکمہ کی نا اہلیت اور مس کنڈکٹ کو ظاہر کر رہا ھے جس سے عوامی سطح پر موجودہ حکومت اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر تشویش پائی جاتی ہیں اور تعیناتی کے منتظر افسران بھی کافی بے چینی اور مایوسی کا شکار نظر آرہے ہیں اور عوامی حلقوں نے ان کی جلد ایڈجسٹمنٹ آرڈرز جاری کرنے کا۔مطالبہ کیا ھے تاکہ پی ٹی آئی کے منشور اور میرٹ پالیسی پر زبانی جمع خرچ کی بجائے واضح طور پر عمل درآمد نظر آئے..


شیئر کریں: